خیبرپختونخوا میں پولیو وائرس بے قابو، وزیراعظم کو رپورٹ پیش

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز) خیبرپختونخوا میں پولیوکیسز پر وزیراعظم عمران خان کو رپورٹ پیش کردی گئی ، جس میں بتایا گیا رواں سال 10 اضلاع میں پولیو کے 41 کیس سامنے آئے

۔تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا میں پولیو وائرس بے قابو ہونے پر وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اجلاس ہوا، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان اور صوبے کے چیف سیکریٹری شریک ہوئے۔اجلاس میں وزیراعظم کے معاون برائے انسداد پولیو بابر بن عطابریفنگ دی جبکہ عالمی اداروں کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کو پولیوکیسز سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی ، جس میں بتایا گیا گزشتہ سال خیبرپختونخوا میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا تھا، 10 اضلاع میں رواں سال پولیو کے 41 کیس سامنے آئے۔

رپورٹ کے مطابق بنوں ڈویژن میں 30 پولیو کیس رپورٹ ہوچکے ہیں ، مختلف اضلاع میں 76 پولیو ورکرز اور اہلکار شہید کیےگئے، ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے سینئر افسران کومختلف ڈویژن میں متحرک کیاگیا۔نکات میں بتایا گیا انکاری والدین کو راضی کرنے کے لیےبااثرافراد سے رابطے کیے ، ویکسی نیشن پرمنفی پروپیگنڈا ختم کرنے کے اقدامات کیے ہیں۔

یاد رہے صوبہ خیبر پختونخواہ میں پولیو وائرس بے قابو ہونے اور پولیو کے بے شمار کیسز سامنے آنے پر وزیر اعظم عمران خان نے نوٹس لیتے ہوئے ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔یاد رہے کہ 27 جون کو نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے کہا تھا کہ خیبر پختونخوا میں 5 نئے پولیو کیسز سامنے آئے ہیں، اِنڈ پولیو پروگرام کے مطابق رواں سال کے پی کے میں اب تک 32 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔

واضح رہے ملک بھر میں پولیو کا مرض سنگین صورت حال اختیار کر گیا ہے، پاکستان میں رواں برس پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 53 ہو چکی ہے، سب سے زیادہ پولیو کیسز خیبر پختون خواہ میں سامنے آئے۔پنجاب میں 5 اور سندھ میں 3 کیسز ریکارڈ کیے گئے جبکہ بلوچستان سے بھی 4 پولیو کیسز رپورٹ کیے جاچکے ہیں۔

خیال رہے خیبر پختونخواہ کے شہر بنوں میں مفاد پرست تاجروں نے ٹیکس سے بچنے کے لیے پولیو مہم کے خلاف سازشیں کرتے ہوئے انسداد پولیو مہم کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے انسداد پولیو ڈاکٹر بابر بن عطا نے متعلقہ حکام کو تاجروں سے رابطے اور مذاکرات کا ٹاسک دیا، مذاکرات میں بائیکاٹ کا اعلان کرنے والے تاجروں کو جب انسداد پولیو مہم کی حساسیت کے حوالے سے علم ہوا تو ان میں سے بیشتر نے بائیکاٹ کا اعلان واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں