ملائشیاء، معذرت کے باوجود ڈاکٹر ذاکر نائیک پر پابندی عائد

کوالا لمپور(مانیٹرنگ ڈیسک) ممتاز مسلم اسکالر ذاکر نائیک نے ہندو اقلیت سے متعلق متناع ریمارکس پر معافی مانگ لی ہے تاہم اُن پر عوامی مقامات پر تقاریر کرنے پر پابندی بدستور عائد ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ملائیشیا میں پناہ لینے والے تقابل ادیان کے معروف عالم ذاکر نائیک نے ملائیشیا میں مقیم ہندو اقلیتوں کے حوالے سے اپنی متنازع تقریر پر معذرت کرتے ہوئے ہوئے کہا ہے کہ میرا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں تھی تاہم اگر کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے تو معافی کا طلب گار ہوں۔

ذاکر نائیک نے مزید کہا کہ کسی کی دل آزاری کرنا اسلام کی بنیادی تعلیمات کے خلاف بھی ہے، میرے بیان کو اقتباس سے ہٹ کر لیا گیا ہے اور میرا مقصد بھی کسی کی دل آزاری نہیں تھا۔ میں نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے اور دنیا بھر میں امن کی تبلیغ ہی میرا مشن ہے۔

ذاکر نائیک کی تحریری معافی نامے کے باوجود ملائیشیا میں ذاکر نائیک کی تقاریر پر پابندی بدستورجاری ہے تاہم اُن کی ملک بدری کے خطرات ٹلتے نظر آ رہے ہیں۔ اس حوالے سے ملائیشیا کی حکومت کوئی فیصلہ نہیں کر سکی ہے۔

یاد رہے کہ بھارت بھی ذاکر نائیک کی حوالگی کے لیے ملائیشیا سے درخواست کر چکا ہے، ذاکر نائیک منی لانڈرنگ اور مذہبی جذبات اکسانے کے الزام میں بھارت کو مطلوب ہیں اور بھارت میں ان کی جائیدادیں بھی ضبط کی جا چکی ہیں۔

واضح رہے کہ ذاکر نائیک نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ملائیشیا کے ہندو وزیراعظم مہاتیر محمد سے زیادہ مودی کے وفادار ہیں اور ان کی ہمدردیاں ملائیشیا کے بجائے بھارت کے ساتھ ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں