نوید مسعود ہاشمی
مینار نور/نوید مسعود ہاشمی

کشمیر کی آزادی اور جہاد کشمیر کے مخالف دانش فروش

15 اگست جمعرات کے دن بھارت کے یوم آزادی کو مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر سے لے کر کراچی اور گوادر تک پاکستان کے عوام نے یوم سیاہ کے طور پر مناکر کشمیر کے مظلوم مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیا، پاکستانی عوام نے شہر شہر، جلسے جلوس ، مظاہرے اور سیمینار منعقد کرکے بدنام زمانہ نریندر مودی اور بھارتی آرمی چیف کے نہ صرف یہ کہ پتلے جلائے بلکہ کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کے خلاف بھی کھل کر اپنی نفرت کااظہار کیا،

یہ باس بات کا ثبوت ہے کہ اگر حکومت پاکستان کشمیر کے ڈیڑھ کروڑ سے زائد انسانوں کی زندگیاں بچانے کیلئے اعلان جہاد کرتی ہے تو پاکستانی قوم کا ہر پیرو جواں پاک فوج کے شانہ بشانہ اس جہاد میں بھرپور کردار ادا کرے گا، اس سارے تناظر کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ سے وہ عناصر جو کہ سوشل میڈیا پر پاک فوج اور اللہ پاک کے حکم جہاد کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرتے چلے آرہے تھے ان میں سے کوئی ایک بھی کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے بدترین مظالم کے خلاف سرگرم نظر نہیں آیا، پی ٹی ایم اور حقوق حیوانات کی این جی اوز کے خرکار جو پاک فوج کے خلاف تو پروپیگنڈہ کرنا اپنا ایمان سمجھتے ہیں اس نازک موقع پر وہ بھی منظرنامے سے غائب رہے۔

15 اگست کو پاکستان کے 22 کروڑ عوام نے کشمیر کی آزادی کے متوالوں اور مظلوم کشمیریوں کی حمایت میں جہاد کشمیر میں شمولیت کا عزم بالجزم کرکے مرزا قادیانی ملعون سے لے کر غامدی اینڈ کمپنی تک کی باطل تعلیمات کو اپنے عمل سے جھوٹا اور ناکام ثابت کر دکھایا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ورجینا یونیورسٹی کے نام پر ڈالر خوری کرنے والے مدرسہ بھگوڑے دانش فروش اس موقع پر بدمعاش نریندر مودی اور بھارتی فوج کے خلاف احتجاج کرتے ، لیکن دیکھنے میں یہ آیا کہ مدرسہ بھگوڑا، ایک دانش فروش اسلام آباد میں بیٹھ کر سوشل میڈیا کے ذریعے جہاد کشمیر اور مجاہدین کشمیر کے خلاف ہفوات بھری پوسٹیں شیئر کرتا رہا۔

مجھے جاوید غامدی کا احترام ہے لیکن صرف اس وقت تک کہ جب تک وہ میرے مذہب اسلام کے احکامات کی غلط تشریحات اور غلط تعبیرات نہ کرے، مجھے پاکستا ن میں بسنے والے ہر مسلک کے علماء کرام اور ان سے وابستہ کروڑوں مسلمانوں کا بھی بے حد احترام ہے، پاکستان میں بسنے والی ہر وہ اقلیت کہ جو آئین پاکستان کو تسلیم کرتی ہے…

اسلام اور آئین نے انہیں جو حقوق دیئے ہیں میں ان کی نہ صرف پاسداری کرتا ہوں بلکہ ان کی تائید اور حمایت میں متعدد کالم بھی لکھ چکا ہوں، لیکن نائن الیون کے بعد امریکی ڈالروں کی جھنکار پر ناچنے والے فکری بیماریوں اور نظریاتی سرقہ بازوں کے خلاف میرا قلم، تلوار سے زیادہ تیز اس لئے ہوتا ہے کہ انہوں نے محض جھوٹے اسٹیٹس کے حصول اور ڈالروں کی محبت میں اپنا تن من دھن اور نظریات تو گروی رکھے ہی تھے مگر پھر وہ دین اور وطن فروشی پر بھی تل گئے .

روزنامہ اوصاف سے مجھے اس لئے محبت ہے اور میں یہ ادارہ اس لئے نہیں چھوڑنا چاہتا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ نائن الیون کے واقعات کے بعد جب ”روشن خیالی” کے نام پر اسلامی احکامات پردہ، جہاد مقدس اور نظریہ پاکستان کے خلاف امریکہ اور بھارتی پٹاری سے رنگ برنگے سکالرز اور دانشور برآمد ہونا شروع ہوئے تو یہ روزنامہ اوصاف ہی تھا کہ جس نے این جی او مارکہ فکری بیماروں اور ڈالر خور دانشوروں کی اڑائی ہوئی دھول کے سامنے پاکستان کی نظریاتی سرحدات کی پہرے داری کے فرائض سرانجام دیئے۔

روزنامہ اوصاف ہی وہ اخبار ہے کہ جب کچھ لوگ امن کی آشا کا ڈھول پیٹ کر پاکستان کے ہر گھر تک انڈین پرچم پہنچا رہے تھے تو ہم اپنے اداریوں اور کالموں میں انہیں سمجھانے کی کوشش کررہے تھے کہ پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں کی اجازت کے بغیر اس قسم کی حرکتیں کشمیر میں آزادی کی جدوجہد کو کمزور کرنے کا باعث بنیں گی، ہندو بنیاء پاکستان کو مٹانے کاخواب دیکھ رہا ہے اور ہم یکطرفہ طور پر اگر انڈیا کی محبت کے گیت گائیں گے تو یہ ملک دشمنی کے مترادف ہوگا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید با جوہ نے یوم آزادی کے موقع پر ایک بیان میں کہا کہ ”کشمیر پر کسی قسم کے سمجھوتے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، نہ ہی 1947ء میں کاغذ کا ٹکڑا کشمیر کی حیثیت تبدیل کرسکااور نہ ہی موجودہ غیر قانونی اقدام یا مستقبل اس کی حیثیت تبدیل کرسکتاہے۔”

وزیراعظم عمران خان ہوں، کابینہ کے اراکین ہوں، مولانا فضل الرحمن ہوں، علامہ خادم حسین رضوی ہوں، مولانا لدھیانوی ہوں، بلاول زرداری ہوں یا نواز شریف کی مسلم لیگ، پاکستان کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں حتیٰ کہ تمام مسالک کے دینی مدارس کے اکابرین، مدارس کے طلباء ہوں یا کالجز اور یونیورسٹیز کے غرضیکہ پوری پاکستانی قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے..

جہاد کشمیر سے محبت کرتی ہے، مگر غامدی کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے والا ایک این جی او مارکہ خرکار 14 اگست کے دن بھی سوشل میڈیا کے ذریعے جہاد کشمیر کو فساد اور فراڈ قرار دے کر کروڑوں انسانوں کے جذبا ت مجروح کرتا رہا اور کشمیر کی آزادی کی خاطر سینکڑوں جانیں قربان کرنے والی کشمیر کی جہادی تنظیموں کا مذاق اڑاتا رہا۔

قومی سلامتی کے ضامن اداروں کو سوچنا پڑے گا کہ ایسے فتنہ پرور فسادیوں کو کب تک سوشل میڈیا کے ذریعے فساد پھیلانے کی اجازت دی جاتی رہے گی؟ کیا اس سے قبل وقاص گورائیو اور سلمان حیدر نام کے گستاخوں کو ہم بھول گئے ہیں کہ انہوں نے ”بھینسا” اور موچی کے نام پر پیج بناکر معاشرے میں کس طر کی گندگی پھیلانے کی کوشش کی تھی؟ کیا پی ٹی ایم نے سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف جو گند بھری کمپیئن چلائی تھی اسے ہم بھول سکتے ہیں؟

آج تک دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ این جی اوز کے خرکار پہلے پہل اسلامی احکامات اور جہاد مقدس کے خلا ف پوسٹیں چڑھاتے ہیں ،اور پھر ”را” موساد اور امریکی سی آئی اے کے ایجنٹ بن کر پاک فوج کے خلاف چڑھ دوڑتے ہیں، ہمیں اپنی نوجوان نسل کو ایسے ڈالر خوروں کے چنگل میں پھنسنے سے بچانا چاہیے۔پاکستانی فوج ایک پروفیشنل اور دنیا کی بہترین فوج شمار ہوتی ہے، ان شاء اللہ کشمیر پر آزادی کا پرچم دنیا بہت جلد سربلند ہوتا دیکھے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں