جنبش قلم/ خواجہ تنزیل

مودی دنیا کا بد ترین کردار

میں اکثر بیٹھ کر سوچا کرتا تھا کہ وہ کیسے مُسلمان تھے جو یزید کا ساتھ دے گئے تھے مگر آج عربوں کو دیکھ احساس ہو گیا کہ ایسے ہی منافق و مفاد پرست مُسلمان تھے جو یزید کے ساتھ ٹھہرے۔ جس طرح آج عربی صرف تجارتی و سفارتی معاملات کی خاطرمودی کے گیت گا رہے ہیں اسی طرح اُس وقت کے منافقین بھی یزید کے ساتھ ٹھہرے ہوں گے۔ اب محسوس ہونے لگا ہے کہ واقعہ کربلا ایک بار پھر دنیا میں دُہرایا جائے گااور پاکستانی حُکمرانوں سمیت سب بیٹھے کشمیریوں کا تماشا دیکھ رہے ہیں

علامہ اقبال نے کیا خوب لکھا

عشق قاتل سے بھی، مقتول سے ہمدردی بھی
یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا
سجدہ خالق کو بھی، ابلیس سے یارانہ بھی
حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا

آج شہید کشمیریوں کی روحیں تڑپ اُٹھی ہوں گی جب ظالم اعظم نریندرہ مودی کو ایوارڈ دیا گیا ہو گا آج یہ فخر سے کہتا ہوں کہ روئے زمیں پر عرب کے رہنے والے عربیوں سے بڑا منافق کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر دنیا میں یہ عربی جو عیاشیاں کرتے ہیں وہ دنیا سے ڈھکی چھُپی نہیں حکومت پاکستان کو عرب امارات کیساتھ سفارتی تعلقات بھی منقتع کر دینے چاہئیں جو اللہ تبارک وتعالیٰ کیساتھ مخلص نہیں جو ہمارے نبی کی تعلیمات کو بھول کر یزید کی پیروی کر رہے ہیں اُن کیساتھ تعلق رکھنا بھی منافقت کے زمرے میں آئے گا

بھارتی وزیر اعظم نریندرہ مودی نے ظلم و بربریت میں یزید اور فرعون کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ مودی نے ظلم و بربریت کی نئی تاریخ رقم کر دی۔ تاریخ میں مزید ایک اور ظالم وجابر شخص کا اضافہ مودی کی شکل میں ہوا اور میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ایک طرف نریندر مودی مقبوضہ کشمیر میں مُسلمانوں کی نسل کُشی کر رہاہے اور دوسری طرف احسان فراموش اور نام نہاد مُسلمان عرب امارات کے شہزادوں نے مودی کو عرب کا اعلٰی ترین ایوارڈ نواز دیا..

اور دوسری طرف ہمارے حُکمران عالم اسلام کیلیے کسی دھبے سے کم نہیں اگر مودی کو دُنیا کا احساس نہیں تو عمران خان اور تمام حکومتی ارکان کیوں دُنیا کا سوچ رہے ہیں۔ عمران خان صاحب آپ حکومت میں آنے سے پہلے اکثر کسی اشارے کی بات کیا کرتے تھے کیا وہ اشارہ کسی یہودی یا غیر مُلکی طاقت کا تھا؟ جو ابھی تک آپ کو کشمیری بہن بھائیوں کیلیے نہیں کیا گیا؟

اگر آپ مناسب سمجھیں تو قوم کو اُس اشارہ کرنے والے کے بارے میں بتایں تاکہ قوم اُن کے پاوں پکڑے اور اشارہ کیا جائے۔ حکومتی ارکان خاموش اس لئے بیٹھے ہیں کیوں کہ کشمیر میں اُن کی کوئی ماں بہن بیٹی نہیں رہتی یا اُن میں سے کسی ایک کی بھی عزت نہیں لوٹی گئی اگر ان کی کسی ایک کی بھی ماں بہن یا بیٹی وہاں موجود ہوتی اور اُسکی عزت خطرے میں ہوتی تو اِس طرح رابطے قائم نہ کئے جاتے بلکہ بھارت پر حملہ ہوچُکا ہوتا اور اب تک کشمیر آزاد ہو چُکا ہوتا مگر افسوس کہ ایسا کچھ نہیں ہے اور نہ ہی کُچھ ہو سکتا ہے

کیوں کہ ہمارے مسلمان حکمرانوں کو اپنے اقتدار سے بڑھ کر کچھ عزیز نہیں اگر اقتدار سے بڑھ کر کچھ عزیز ہے تو وہ صرف اُن کے اپنے خاندانوں کے لوگ ہیں۔ یہ کہنا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے سوائے جملہ کے کوئی اہمیت نہیں رکھتا کیوں کہ جب جسم کا کوئی حصہ تکلیف میں ہوتا ہے تو پورا جسم تکلیف میں ہوتا ہے مگر یہاں ایسا کچھ نہیں۔ اگر کشمیر شہ رگ ہوتا تو اب تک پاکستان کا نقشہ تبدیل ہوتا

اپنا تبصرہ بھیجیں