بھارتی روپے کی قدر میں 4.4 فیصد کمی

لندن(ویب ڈیسک) 15 ماہ قبل انڈیا کی معیشت آٹھ فیصد کی رفتار سے ترقی کر رہی تھی جو کہ گرتے گرتے اب پانچ فیصد کی سطح تک جا پہنچی اور ایسا اچانک نہیں ہوا،بھارتی معیشت پانچ فیصد کے بجائے صفر کی رفتار سے ترقی کر رہی ہے ۔بھارتی ماہر معیشت پروفیسر ارون کمار نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو بتایا کہ چاروں طرف سے معاشی سست رفتاری کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

لدھیانہ میں سائیکلوں اور آگرہ میں جوتے جیسی صنعتوں سے وابستہ غیر منظم شعبے بڑی تعداد میں بند ہو چکے ہیں،یہی حال دوسرے شعبوں کا ہے ،انہوں نے کہا کہ مانگ میں کمی تو ’ڈی موناٹئیزیشن‘ کے بعد سے ہی شروع ہو گئی تھی، تین برسوں میں معیشت کو تین بڑے جھٹکے لگے ہیں جس کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے ۔ سی ایم آئی کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ملک میں ملازمین کی تعداد 45 کروڑ تھی جو کم ہو کر 41 کروڑ رہ گئی ہے –

اس کا مطلب یہ ہے کہ چار کروڑ لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں، معاشی ترقی کی شرح پانچ، چھ یا سات فیصد نہیں بلکہ یہ صفر فیصد ہے کیونکہ اس میں غیر منظم شعبے کے اعداد و شمار شامل نہیں لیکن اگر حکومت کے پیش کردہ اعداد و شمار کو غیر منظم شعبے کے اعدادوشمار میں شامل کیا جائے تو انڈین معیشت کساد بازاری سے گزر رہی ہے ۔

پروفیسر ارون کمار کے مطابق یہ پانچ فیصد سے بھی کم ہے کیونکہ سہ ماہی ترقی کی شرح کے اعداد و شمار منظم اور کارپوریٹ شعبے پر مبنی ہوتے ہیں۔اس میں ملکی معیشت کے غیر منظم شعبے کو مکمل طور پر شامل نہیں کیاجاتا ہے اور یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ غیر منظم شعبہ بھی اسی رفتار سے ترقی کر رہا ہے جس رفتار سے منظم شعبہ ترقی کر رہا ہے۔لیکن چاروں طرف سے معاشی سست رفتاری کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

لدھیانہ میں سائیکلوں اور آگرہ میں جوتے جیسی صنعتوں سے وابستہ غیر منظم شعبے بڑی تعداد میں بند ہو چکے ہیں۔ اگر غیر منظم شعبے کی ترقی کی شرح کم ہو رہی ہے تو پھر یہ سمجھنا غلط ہو گا کہ غیر منظم شعبہ منظم شعبے کی رفتار سے ترقی کر رہا ہے۔انڈیا کے غیر منظم شعبے میں 94 فیصد لوگ کام کرتے ہیں جہاں 45 فیصد پیداوار ہوتی ہے۔ اگر جہاں پر 94 فیصد لوگ کام کریں اور وہاں پیداوار اور روزگار کم ہو رہے ہوں تو مانگ کم ہو جاتی ہے۔

ہماری معیشت میں سرمایہ کاری کی شرح 2012-13 میں سب سے زیادہ تھی۔ اس وقت سرمایہ کاری کی شرح 37 فیصد کی شرح سے ترقی پزیر تھی اور آج یہ 30 فیصد سے بھی کم ہو چکی ہے۔جب تک سرمایہ کاری میں اضافہ نہیں ہوتا ترقی کی شرح میں اضافہ نہیں ہوتا ہے۔میرا خیال ہے کہ یہ مسئلہ غیر منظم شعبے سے شروع ہوا تھا اور اب یہ آہستہ آہستہ منظم شعبے کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر آپ آٹوموبیل اور ایف ایم سی جی شعبوں کو دیکھ سکتے ہیں۔

آپ نے پارلے جی بسکٹ کی مانگ میں کمی کے بارے میں سنا ہو گا۔ یہ ایک منظم شعبہ ہے جسے غیر منظم شعبے سے وابستہ افراد استعمال کرتے ہیں۔ جب غیر منظم شعبے کی آمدنی کم ہو گی تو طلب (مانگ) خود بخود کم ہو جائے گی۔ ایف ایم سی جی کی بھی یہی حالت ہے۔اگر ہماری معیشت چھ یا پانچ فیصد کی شرح سے بھی ترقی کر رہی ہے تو یہ بہت اچھی رفتار ہے۔ اس کے بعد بھی کھپت کیوں کم ہو رہی ہے اس میں اضافہ ہونا چاہیے تھا۔

پانچ فیصد کی رفتار سے سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہونا چاہیے تھا۔جب کھپت (کنزمپشن) میں کمی آئی ہے تو سرمایہ کاری میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی ترقی کی شرح پانچ، چھ یا سات فیصد نہیں ہے بلکہ یہ صفر فیصد سے بڑھ رہی ہے کیونکہ اس میں غیر منظم شعبے کے اعداد و شمار شامل نہیں ہیں۔جس دن آپ غیر منظم شعبے کے اعدادوشمار شامل کریں گے اس سے معلوم ہوگا کہ ترقی کی شرح صفر یا ایک فیصد ہے۔

غیر منظم شعبے کے اعدادوشمار پانچ سال میں ایک بار جمع کیے جاتے ہیں۔ اس درمیان یہ سمجھا جاتا ہے کہ غیر منظم شعبہ بھی اسی رفتار سے ترقی کررہا ہے جس طرح منظم شعبہ۔یہ قیاس آرائی ڈیموناٹئیزیشن سے قبل تک تو ٹھیک تھی لیکن بعد میں اس کا زبردست اثر پڑا۔ غیر منظم شعبوں پر اس کے سب سے پہلے اثرات پڑے۔9 نومبر سنہ 2016 کے بعد جی ڈی پی کے اعداد و شمار میں غیر منظم شعبے کی شرح نمو کا تخمینہ شامل کرنے کا یہ طریقہ غلط ہے۔

یہ بھی کہا جارہا ہے کہ انڈین معیشت کساد بازاری سے گزر رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق معیشت کساد بازاری نہیں بلکہ سست روی کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ جب ترقی کی شرح منفی ہو جاتی ہے اس وقت اس صورتحال کو کساد بازاری سمجھا جاتا ہے۔لیکن اگر حکومت کے پیش کردہ اعداد و شمار کو غیر منظم شعبے کے اعدادوشمار میں شامل کیا جائے تو انڈین معیشت کساد بازاری سے گزر رہی ہے۔

ڈیموناٹئیزیشن یا نوٹوں کی بندش کے بعد غیر منظم شعبہ بری طرح متاثر ہوا۔ اس کے بعد جی ایس ٹی نافذ ہوا۔ اگر چہ جی ایس ٹی غیر منظم شعبوں پر نافذ نہیں ہوتا ہے۔منظم شعبوں پر جی ایس ٹی کا اثر پڑا ہے۔ جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد سے گذشتہ ڈھائی برسوں کے دوران 1400 سے زیادہ تبدیلیاں کی گئیں ہیں۔ اس سے منظم شعبے کے لوگوں میں کافی الجھنیں پیداہوئیں۔

لوگ جی ایس ٹی داخل نہیں کر پا رہے ہیں۔ جی ایس ٹی کے لیے تقریبا 1.2 کروڑ لوگوں نے اندراج کیا ہے لیکن صرف 70 لاکھ افراد جی ایس ٹی دیتے ہیں اور سالانہ ریٹرن میں سے صرف 20 فیصد فائل کیا جاتا ہے۔چنانچہ مجموعی طور پر جی ایس ٹی سے معیشت کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔یہ مسئلہ غیر منظم شعبے سے شروع ہوتا ہے اور منظم شعبہ بھی اس سے مستثنی نہیں رہتا۔ معیشت میں سست روی یا سست روی کی وجہ سے حکومت کے ٹیکس کی وصولی میں کمی آئی ہے۔

گذشتہ سال جی ایس ٹی میں 80 ہزار کروڑ کی کمی واقع ہوئی تھی اور براہ راست ٹیکس میں بھی کمی واقع ہوئی تھی۔مجموعی طور پر سرکاری خزانے کو 1.6 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ جب حکومت کی آمدنی کم ہوئی تو اس کے اخراجات کم ہو گئے۔ جب اخراجات کم ہوں گے تو کساد بازاری اور زیادہ ہو گی۔اب یہ کہا جارہا ہے کہ بینکوں کے انضمام سے معیشت کو تقویت ملے گی۔ لیکن یہ غلط ہے۔ بینکوں کے انضمام کا اثر پانچ سے دس سال بعد دیکھا جائے گا۔ اس کا فوری اثر نہیں ہو گا۔ حکومت کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس نے تسلیم کر لیا ہے کہ معیشت کمزور ہو گئی ہے اور

ایک کے بعد ایک پیکیج کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) بھی اعلان کر رہی ہے۔وہ ابھی کساد بازاری کے بارے میں بات نہیں کر رہے ہیں لیکن آہستہ آہستہ سبھی کساد بازاری کے بارے میں بات کرنا شروع کر دیں گے جب غیر منظم شعبے کا ڈیٹا شامل کیا جائے گا۔آر بی آئی نے 1.76 لاکھ کروڑ روپے کا پیکیج جاری کیا ہے۔ اس کا استعمال بھی منظم شعبے کے لیے ہو گا۔

غیر منظم شعبے کے لیے کسی پیکیج کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ پیکیج میں ملازمت بڑھانے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔جہاں مسئلہ شروع ہوا ہے حکومت ان شعبوں پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔ جب تک ان شعبوں کے لیے پیکیج کا اعلان نہیں ہوجاتا کوئی بہتری نظر نہیں آئے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں