پاکستانی سائنسدانوں‌ نے سیلیکس گلیلیو ٹیکنالوجی سے لیس ڈرون طیارہ بنا لیا

اسلام آباد(نیوزڈیسک) پاکستان نے ڈرون ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوا لیا۔ پاکستان نے سیلیکس گلیلیو ٹیکنالوجی سے لیس ڈرون طیارہ بنا لیا .مقامی طور پر تیار کیا گیا سیلیکس گلیلیو ٹیکنالوجی سے لیس براق ڈوران پندرہ ہزار فٹ کی بلندی سے اپنے ہدف کو کامیابی کا نشانہ بنا سکتا ہے۔اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ دفاعی ٹیکنالوجی میں اہم اہداف حاصل کر لیا گیا ہے۔

میزائل ٹیکنالوجی سے مسلح ڈرون بھی تیار ، براق ڈروان پاکستان سائندانوں اور انجئیرز کی صلاحیتوں کا شاہکار ہے۔براق ڈرون 15ہزار فٹ کی بلندی پر مسلسل 10 گھنٹے تک پرواز کر سکتا ہے۔میزائل سے لیس یہ ڈرون مکمل طور پر پاکستان میں تیار کیا گیا ہے اور اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ برا سیلیکس گلیلیو ٹیکنالوجی کا حمل ڈرون ہے۔ مسلح افواج کے زیر استعمال شہیپر ڈرون بھی مقامی سطح پر تیار کیا گیا ہے-

جو سرحدوں کی نگرانی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔پاکستان میں اس وقت آٹھ سے زائد ادارے ڈرون ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں جب میں پرائیویٹ سیکٹر بھی شامل ہیں۔ڈرون ٹیکنالوجی کے تمام منصوبے سٹریٹیجک پلان ڈویژن کے زیر انتظام کام کر رہے ہیں ،پاکستان متحدہ عرب امارا اور سعودی عرب سمیت کئی ممالک کو سرویلنس ڈرون برآمد کر رہا ہے۔

جب کہ دوسری جانب پاک بھارت کشیدگی کے باعث ملکی فضائی سرحدوں کی نگہبانی و نگرانی کے لیے مزید 9 جدید ریڈار نصب کر دئیے گئے تھے۔ ملکی فضائی سرحدوں کی موثر نگہبانی و نگرانی کے لیے مزید 9جدیدریڈار سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ملک کے اہم مرکزی ائیرپورٹس پر نصب کیے ہیں،نصب کیے جانے والے جدید ریڈار کے بعد ملکی فضائی سرحدوں اور فضائی حدود کی موثر حفاظت اور نگرانی کی جا سکے گی۔

یہ ریڈار پہلے لگائے جانے والے ریڈار کے مقابلے میں کئی گناہ زیادہ وسیع رینج رکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں