سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات آمنے سامنے آگئے

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) یمن جنگ کے معاملے پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات آمنے سامنے آگئے، سعودی حکومت تاحال یمنی صدر منصور ہادی کی حامی، جبکہ اماراتی حکومت باغی گروپ کی حمایت پر بضد ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ کئی برس سے جاری یمن جنگ کو لے کر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔

سعودی عرب کی جانب سے یمن کے صدر منصور ہادی کی حمایت کی جا رہی ہے۔ جبکہ متحدہ عرب امارات مسلسل جنوبی یمن کے باغیوں کی حمایت اور مدد کر رہا ہے۔ اس تمام صورتحال میں سعودی عرب کی جانب سے وارننگ جاری کرتے ہوئے تلقین کی گئی ہے کہ اگر منصور ہادی حکومت کیخلاف کسی قسم کا جارح قدم اٹھایا گیا تو اسے سعودی عرب کی سالمیت کیخلاف اقدام تصور کیا جائے گا۔سعودی عرب نے ایسی صورتحال پیدا ہونے کی صورت میں سخت ترین ایکشن لینے کی دھمکی دی ہے۔

سعودی عرب نے تمام فریقین کو تلقین کی ہے کہ وہ آپس میں الجھنے کی بجائے متحد ہو جائیں اور حوثی باغیوں سے یمن کے زیر قبضہ علاقے چھڑوانے کی جدوجہد کریں گے۔ یہاں واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے رواں برس یمن سے اپنے ہزاروں فوجی واپس بلا لیے تھے۔ جبکہ اماراتی حکومت نے جنوبی یمن کے باغیوں کو بھرپور عسکری امداد فراہم کی ہے۔ یہی اقدامات دونوں برادر خلیجی ممالک کے درمیان اختلافات کا باعث بن گئے ہیں۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ آج پاکستان آئیں گے-

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت مذاکرات کا تیسرا دور آج اسلام آباد میں ہوگا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان ایک مرتبہ پھر سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا، اس سلسلے میں چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی اور افغانستان کے وزیرخارجہ صلاح الدین ربانی سہ ملکی مذاکرات میں شرکت کیلئے آج پاکستان آئیں گے۔اس حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاک، چین، افغان سہ فریقی مذاکرات کا تیسرا دور آج اسلام آباد میں ہوگا۔

خارجہ شاہ محمود قریشی سہ فریقی مذاکرات کی سربراہی کریں گے جبکہ وانگ ژی اور صلاح الدین ربانی اپنے اپنے وفود کی قیادت کریں گے۔مذاکرات کے ایجنڈے میں سیاسی تعلقات اور افغان امن عمل کے علاوہ سیکیورٹی تعاون، انسداد دہشت گردی اور باہمی روابط کا فروغ شامل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں