مسلہ کشمیر اور سیاسی قیادت کے غیر سنجیدہ رویے

تحریر:سہیل اقبال اعوان ایڈووکیٹ

ریاست جموں کشمیر 1947 سے قبل بھی ڈوگرہ کے غیر قانونی قبضہ اور تسلط میں تھی
جسے سکھ مہاراجہ نے انگریز سے پچتر لاکھ نانک شاہی کے عوض خرید کر اسکے باشندوں کو اپنا زر خرید غلام بنا لیا تھا جسکے بارے پاکستان کے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون اپنی آپ بیتی میں لکھتے ہیں کہ کشمیر کو انگریزوں سے خریدنے والا سکھ راجہ گلاب سنگھ، بچپن میں گلابو تھا اور جن دنوں لاہور میں رنجیت سنگھ کی حکومت تھی گلابو جہلم میں تین روپیہ مہینہ پر برتن دھونے پر ملازم تھا۔ گلابو کا ایک بھائی دھیان سنگھ لاہور کے سکھ دربار میں راجہ کے خاص ملازموں میں شامل تھا۔ دھیان سنگھ نے اپنے بھائی کو جہلم سے لاہور بلوالیا کہ یہاں اس کی زندگی سدھر جائے گی۔ اس دوران میں دھیان سنگھ نے بڑی ترقی کی۔ پہلے فوج میں جرنیل مقررہوا اور بعد میں رنجیت سنگھ کا وزیر بن گیا۔گلابو کی قسمت کا ستارہ بھی چمکا۔ اب وہ گلابو سے گلاب سنگھ تھا اور راجہ کے ملازمین خاص میں شامل، گلاب سنگھ بعد میں ترقی کرکے راجہ کی فوج میں جرنیل بن گیا۔ اس نے ہمالیہ کے دامن میں واقع بودھوں کی عبادت گاہوں پر متعدد حملے کئے اور ہر حملہ میں سونا، چاندی، جواہرات اور دوسرے قیمتی پتھر بٹور کر لاتا رہا۔ اس طرح اس نے بے اندازہ دولت جمع کرلی۔ جنرل ہارڈنگ نے جب سکھ دربار سے تاوان جنگ طلب کیا تو وہاں خزانہ خالی نکلا۔ اس وقت جنرل کو خیال گزرا کہ گلاب سنگھ کے ہاتھ اگر کسی طرح کا سودا ہوجائے تو لندن میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ڈائریکٹروں کو اچھی خاصی رقم مہیا کی جاسکتی ہے۔ اس طرح کشمیر کی ریاست جو84 ہزار مربع میل پر مشتمل دنیا کا حسین ترین خطہ ہے، ایک حقیر رقم کے عوض فروخت کردی گئی۔ سکھ دربار میں اس وقت مختلف دھڑے تھے اور بعض لوگ اس سودے کے حق میں نہیں تھے۔“
جبکہ مختلف علاقوں میں ظالم مہاراجہ کے خلاف عوام میں شدید بے چینی اور مزاحمت پاٸی جاتی تھی اور آج بھی ریاستی عوام 13جولاٸی کے واقع کو سیاہ دن کے طور پر مناتی ہے۔ اور بھارت بھی گزشتہ ستر سال سے مہاراجہ کے نقش قدم پر چل رہا ہےجس نے ریاست کے ایک حصہ پر گزشتہ ستر سالوں سے غیر قانونی قبضہ جما رکھا ہے جسکے مظالم کی طویل فہرست الگ مگر ظلم کی تازہ داستان پوری دنیا کے سامنے ہے جب پوری مقبوضہ وادی جیل کی تصویر پیش کر رہی جہاں مذہبی رسومات کی اداٸیگی پر پابندی سمیت،سکول ،بازار بند، سڑکیں اور گلیاں سنسان، خوراک اور ادویات کی قلت حواتین کی بے حرمتی کے واقعات عام جبکہ سوٸشل سروسز مکمل بند ہونے کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر اور وہاں کے نہتے معصوم لوگ مقامی اور بین الاقوامی رابطوں سے مکمل طور پر منقطع ہیں۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی بحران عروج پر ہے اور انسانیت سسک رہی ہے۔گو کہ آزاد کشمیر سمیت بیرون ملک کشمیری اور پاکستانی عوام اپنے مظلوم بھاٸیوں کی اخلاقی حماٸت، یکجہتی اور احتجاج کا سلسلہ جاری رکھ کر دنیا کو اس جانب متوجہ کرنے میں کوشاں ہیں مگر ایک ماہ سے زاید کا عرصہ گزرنےکے باوجود بھارت وادی کے حالات معمول پر لانے سے خوف زدہ ہے۔کشمیری عوام کی اکثریت گزشتہ سات دہاٸیوں سے اپنے بنیادی حقوق اور آزادی کے حصول کے لیے بھارت کے خلاف برسرپیکار ہے جسے بھارت نے گزشتہ 72 سالوں سےکالےقوانین،بندوق اور جدید اصلحہ کے زریعے ہر طرح سے کچلنے کی کوشش مگر وہ بری طرح ناکام رہا جس نے اب آخری حربے کے طور پر ہندوانتہا پسند سوچ کے تحت ریاست کی مسلم اکثریتی آبادی کو اقلیت میں بدلنے کے منصوبے کا آغاز کر کے کشمیر پر اپنے تسلط کو مظبوط کرنے کاخطرناک منصوبہ شروع کیا جس سے کشمیریوں کی تشویش انتہا کو چھونے لگی ہے اور اب وہ ہر قیمت پر آزادی کے لیے پرعزم ہو چکے ہیں مگر بد قسمتی سے آزاد کشمیر میں سیاسی قیادت کی نااہلی اور غیر سنجیدگی حالات کا درست ادراک کرنے میں اب بھی مکمل طور پر ناکام ہے۔
اگر دیکھا جاۓ تو ستر سالوں میں تحریک کی موجودہ انگڑاٸی نے عوامی جذبات کا جو جذبہ بیدار کر کے مسلہ کو فلیش پواٸنٹ بنایا شاید دوبارہ مسلہ کبھی اس سطح کو نا چھو سکے اسلیے ریاستی سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ رواٸتی طریقہ کار ترک کرے اور حالات سے استفادہ کرتے ہوۓ اپنے اندر مسلہ کے حل کی اہلیت پیدا کرے۔
موجودہ حکومت نے اپنے قیام کے ساتھ ہی تحریک آزادی کو اولین ترجیحات کا حصہ بنا کر اپنے قیام کے بنیادی مقصدکے حصول کے لیے پیشرفت تیز کرنے کے جس عزم کا اظہار کیا اور تحریک کو سفارتی محاز پر موثر طریقے سے اجاگر کرنے کے لیے ایک منجے ہوۓ سفارت کار کو صدر ریاست جیسے اعلی ترین ریاستی منصب پر منتخب کر کے تحریک کے ساتھ دلچسپی کا دعوی کیا جس سے عوامی توقعات میں اضافہ ہوا مگر بدقسمتی سے دیگر تمام شعبوں کی نسبت دعووں اور توقعات کی طرح یہ توقع بھی خاک میں ملتے ہوۓ سیاستدانوں کے غیر سنجیدہ رویوں کی نظر ہو گٸی اور موجودہ حالات میں ریاست کی سیاسی قیادت کی جانب سے جو بے حسی سامنے آٸی اس پر ہر ذی شعور کشمیری سکتے میں آ گیا یہاں تک کہ ریاست کے وزیراعظم کی جانب سے ایک ٹی پروگرام سمیت 14 اگست کو ہونے والے ریاستی اسمبلی کےاجلاس میں اور بیرون ملک میڈیا نماٸیندوں کے ساتھ گفتگو میں متعدد بار ایل او سی توڑنے اور مقبوضہ کشمیر جانے کی رقعت آمیز اور جذباتی گفتگو سامنے آٸی مگر یہ گفتگو بھی انکی ماضی کے دعووں کی طرح محض رسمی ہی نظر آٸی اور ان سمیت تمام نام نہاد قاٸدین کشمیر عوام کے سامنے بری طرح بے نکاب ہو گٸے۔ اسمبلی اجلاس میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کی موجودگی میں ایک ایسے وقت میں ایل او سی توڑنے کی بات کی گٸی جب پاکستان خود کشمیریوں کے کردار پر راضی نظر آ رہا ہے اور پاکستان کے ذمہ داروں کی جانب سے بھی کشمیریوں کو اپنی جنگ خود لڑنے کی تلقین سامنے آٸی جس پر عوام کا ملا جلا رجھان ہے۔ گو کہ ہمیں پاکستان سے بے پناہ امیدیں مگر ہیں بہر حال سب کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہےکہ لڑاٸی ہماری ہے اور ہمیں پاکستان سے اخلاقی و سفارتی حماٸت کی امید سے زیادہ سوچنے کے بجاۓ خود کو عملی طور پر آگے لانا چاہیے۔ ہم یورپ اورامریکہ میں کردار کے خواشمند ہیں جبکہ ایل او سی ریاست میں واقع ہے۔ وزیراعظم عوام اور نوجوانوں کو جذباتی کر کے اپنے بچوں سمیت امریکی یاترا پر روانہ ہو گٸے اور تاحال وآپس نہیں آۓ۔ ایل او سی کراس کرنا تو درکنار ریاست میں پاکستان سے یکجہتی کرنے کے لیے آنے والوں کو ریاست کی منتخب اور غیر منتخب سیاسی قیادت ڈھونڈنے سے بھی نا ملی جس سے وہ یکجہتی کرتے۔موجودہ وقت میں ریاست کے عوام اور اہل علم و قلم نے کشمیری بھاٸیوں کےحق میں علامتی احتجاج اور بھر پور یکجہتی کا مظاہرہ کیا مگر ریاست کی منتخب حکومت اور سیاسی قیادت مکمل لاتعلق رہی جو باعث تشویش ہے۔ اگر وزیراعظم تحریک کو منطقی انجام کی طرف لے جانے میں سنجیدہ ہیں تو کیا یہ بتانا پسند کریں گے کے ایل او سی توڑنے کے لیے وہ کیا حکمت عملی رکھتے ہیں؟ کیونکہ معلومات کے مطابق بھارتی فورسز نے ایل او سی سے لے کر وادی اور جموں تک سات لہروں میں حفاظتی انتظامات کر رکھے ہیں اور ایل او سی کی دوسری طرف کوٸی ایسی جگہ نہیں جہاں ماٸین نا بچھاۓ گٸے ہوں۔ تو ایسی صورت میں ریاست نے ایل او سی کراس کرنے یا کروانے والوں کو کیا خفاظتی تدابیر بتاٸیں کہ اس کوشش کو کیسے موثر اور نتاٸج آور بنایا جاۓ گا؟ ریاستی سطح پر کتنے لوگوں کو ٹریننگ دے کر سری نگر پہنچنے کی حکمت عملی ترتیب دی گٸی؟ اور کیا یہ سوچا گیا کہ اگر ستمبر میں ہونے والے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم پاکستان عمران خان ریاستی قیادت کے ایل او سی توڑنے کے مطالبہ کی حماٸت کا اعلان کرتے ہیں تو ہماری حکومت اور سیاسی قیادت کے پاس کیا حکمت عملی ہو گی؟ کیا ایل او سی پر سیکنڑوں یا ہزاروں لوگوں کو قتل کروا کر ہمیشہ کے لیے مسلہ دفن کریں گے یا مسلہ کا پر امن اور سیاسی حل نکالنے کی صلاحیت اور اہلیت پیدا کریں گے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں