چراغ/عمرحیات خان

’شہید پولیس اہلکار اور اس کا قرض‘

ہیڈ کانسٹیبل سیف اللہ لوئر دیر میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں اپنی جان گنوا بیٹھا۔ اس کے جیب سے برآمد ہونے والی پرچی جس پر اس کے ذمہ واجب الادا قرضہ جات کی تفصیل درج ہے، جس کو دیکھ کر نہ صرف میری آنکھوں میں آنسو آگئے بلکہ بے اختیار دل نے اس کی ایمانداری پر اس شخص کو خراج تحسین پیش کیا۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک کا معاشی نظام اشرافیہ کی عیاشیوں کی بدولت ایک ایسے دوراہے پر جا پہنچا ہے جہاں معاشرے میں غریب کو اپنے دو وقت کی روٹی کیلئے بھی قرضوں کے بوجھ تلے دبنا پڑتا ہے۔

اسلامی فلاحی ریاست کا خواب دیکھنے والوں کو شاید یہ معلوم نہیں تھا کہ 72سال بعد بھی ہم وہیں کھڑے ہونگے جہاں سے ہم نے شروع کیا تھا۔ اس مملکت کی بنیاد رکھنے والوں نے تو سوچا ہوگا کہ ہم اس ملک کے عوام پر احسان عظیم کرنے جارہے ہیں مگر 72 سال گزرنے کے باوجود بھی ہم وہ مقام حاصل نہ کرسکے جس کا خواب دیکھا گیا تھا جس کی امید لگائی گئی تھی یا پھر جس کی خواہش تھی۔ قیام پاکستان سے لیکر آج تک ملک میں خوشحالی نہ آسکی، غریب کے حالات نہ بدلے ، مزدور اور اس کی اولاد نان جویں کو ترستی رہی اور حکمرانوں کے اصطبل میں پلنے والے گھوڑوں کی مکھن اور باداموں سے تواضع ہوتی رہی، ان کے کتوں کو ائیر کنڈیشنڈ کمروں پر سونے کی سہولت میسر رہی اور غریب کو فٹ ہاتھ پر سوتے ہوئے کسی گاڑی نے کچل دیا۔ ہیڈ کانسٹیبل سیف اللہ کی جیب سے نکلنے والی پرچی ہمارے سابق اور موجودہ حکمرانوں کے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ ہے، طمانچہ کا لفظ اس لئے استعمال نہیں کرسکتا کہ کیونکہ یہ اصطلاح اب پرانی ہوچکی ہے جس کا اثر بھی اب نہیں رہا۔

ترقی یافتہ ممالک سمیت اگر ترقی پذیر ممالک میں بھی دیکھیں تو وہاں کی حکومتوں کی یہ ترجیح ہوتی ہے کہ مہنگائی کے تناسب کو دیکھتے ہوئے کسی بھی مزدور کی اجرت کا تعین کیا جاتا ہے مگر یہاں مزدور کی اجرت 17500 گرچہ مقرر کی گئی ہے مگر ان کو وہ بھی میسر نہیں ہے، ہم نے تو لوگوں کو 10 سے 12 ہزار روپے کی نوکری کرتے ہوئے دیکھا ہے جو اس بات کا رونا بھی روتے ہیں کہ ان کے اخراجات پورے نہیں ہوتے پھر وہی لوگ انتخابات میں ان لوگوں کیلئے زندہ باد مردہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔ ہماری معاشی بدحالی کے ذمہ دار نہ صرف حکمران ہیں بلکہ کچھ ایسے طبقات بھی ہیں جن کی عیاشیوں کی بدولت آج ہماری ملکی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے جن کی وجہ سے ہمیں ہر سال اپنا ملک آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھنا پڑتا ہے اور وہ جو ہمیں کہتے ہیں اس پر عمل کرنا ہمارے لئے لازم ہوتا ہے، ان کے کہنے پر ہم اپنی قومی سلامتی داؤ پر لگاتے ہیں اپنی خودمختاری کو قربان کرتے ہیں پھر ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم محب وطن ہیں۔
مجھے تو حفیظ جالندھری کا شعر یاد آگیا کہ
یہاں سانپوں کو آزادی ہے
جس کو چاہے چیریں پھاڑیں
کھائیں پئیں اور آنند رہیں

تبدیلی کا نعرہ لگانے والے اور تمہارے باپ کا پیسہ ہے کا راگ الاپنے والے نے بھی قوم کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا، اور ملک کی اشرافیہ کو بیک جنبشِ قلم 208 ارب روپے کی معافی کا پروانہ جاری کردیا، پھر احتجاج ہوا اور مجبوراً وہ واپس لینا پڑا۔ 208 ارب روپے کا معافی نامہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کیسے آج بھی وہ لوگ جنہوں نے اس سے قبل چور اور کرپٹ حکمرانوں کے دور میں اربوں روپے معاف کروائے اس تبدیلی والی سرکار میں بھی کتنی طاقتور حیثیت کے مالک ہیں۔

عالمی بینک کے اعدادوشمار کے مطابق آج بھی اس ملک کی 29.5 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔یہ والے لوگ ہیں جو یومیہ 300 روپے سے بھی کم کماتے ہیں، ان اعدادوشمار میں وہ لوگ شامل نہیں جو 350 سے 700روپے تک یومیہ کماتے ہیں، میں تمام پاکستانیوں سے پوچھنا چاہتا ہوں دو میاں بیوی اور دو بچوں کا یومیہ خرچہ کتنا ہوتا ہے کوئی حساب کتاب لگا کر بتائے میرے اندازے میں صرف کچن کا خرچہ یومیہ 700 روپے سے زیادہ ہے۔گر ہم اسلامی فلاحی ریاست تو قائم نہیں کرسکتے فلاحی ریاست تو بنا سکتے ہیں۔

غلط ہے ساقی تیرا یہ نعرہ
بدل گیا ہے نظام محفل
وہی شکستہ سی بوتلیں ہیں
وہی ہیں ٹوٹے سے جام اب بھی

اپنا تبصرہ بھیجیں