بھارت کو خوفزدہ کرنے والی پاکستانی آبدوز کی پراسرار تباہی کی کہانی

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز)پاکستان بحریہ کی تاریخ میں ایک آبدوز ایسی ہے جس کے کارنامے آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی پراسرار گمشدگی (درحقیقت تباہی) بھی اب تک کوئی بھول نہیں سکا۔یہ ہے پی این ایس غازی (ایس 130) آبدوز، جو پاکستان نے 1963 میں امریکا سے لیز پر لی تھی۔

بنیادی طور پر یہ دوسری جنگ عظیم کے زمانے کی آبدوز تھی جو امریکی بحریہ کے لیے 1945 سے 1963 تک خدمات سرانجام دے چکی تھی اور پاکستان کو سیکیورٹی اسسٹننس پروگرام کے تحت 4 سالہ لیز پر 1964 میں ملی اور پاک بحریہ کا حصہ بن گئی۔1965 کی جنگ میں یہ پاکستان کے موجود واحد آبدوز تھی اور بھارت کے پاس ایک بھی نہیں تھی اور یہی وجہ ہے کہ اس جنگ کے دوران یہ بھارتی بحریہ کے لیے خوف کا باعث بنی رہی۔

جنگ کے دوران اس آبدوز کو بھارتی پانیوں میں تعینات کرتے ہوئے حکم دیا گیا تھا کہ وہ بھارتی بحریہ کے بھاری اور بڑے جنگی جہازوں کو ہی نشانہ بنائے، جس کے بعد یہ بھارت کے واحد ائیرکرافٹ کیرئیر آئی این ایس وکرانت کو نشانہ بنانے کے لیے ڈھونڈتی رہی، مگر وہ بندرگاہ سے نکلا ہی نہیں۔اس دوران اس آبدوز نے بھارتی فضائیہ کے ریاست گجرات کے علاقے دوارکا میں واقعی راڈار اسٹیشن کو نشانہ بنانے کے پاک بحریہ کے مشن کی مدد بھی کی۔

17 ستمبر کو غازی نے سطح پر آکر بھارتی جہاز آئی این ایس برہماپتر کو 3 تارپیڈو سے نشانہ بنایا اور جوابی حملے کو آسانی سے ناکام بنادیا، وطن واپسی پر اس آبدوز کو ستارہ جرات، تمغہ جرات سمیت 10 جنگی اعزازات سے نوازا گیا۔1965 کی جنگ کے بعد 1967 میں پاکستان نے ای کبار پھر امریکا سے اس آبدوز کی 4 سالہ لیز کا معاہدہ کیا اور اس کی حالت کو بہتر بنانے کے لیے ترک بحریہ سے مدد لی گئی۔

1971 میں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھ چکی تھی تو بھارتی بحریہ نے اپنے ائیر کرافٹ کیرئیر آئی این ایس کو وشاکا پٹنم منتقل کردیا اور غازی کو اسے نقصان پہنچانے کا مشن ملا اور یہ مشن انتہائی خطرناک قرار دیا گیا تھا۔14 نومبر 1971 کو وہ خاموشی سے بحیرہ عرب سے 3 ہزار میل دور خلیج بنگال میں بھارتی پانیوں میں داخل ہوئی اور اس وقت ظفر محمد کمانڈر تھے جبکہ ان کے ساتھ عملے میں 10 افسران اور 82 سیلرز شامل تھے۔

یہ آبدوز 2 نکاتی مشن پر کام کررہی تھی یعنی پہلا مقصد تو وکرانت کو ڈھونڈ کر تباہ کرنا جبکہ دوسرا بھارتی مشرقی ساحلی علاقوں میں بارودی سرنگیں لگانا، جس میں اسے کامیابی بھی ملی۔اسی مشن کے دوران یہ آبدوز 4 دسمبر 1971 کو وشاکا پٹنم پورٹ پر سرنگیں لگانے اور وکرانت کی تلاش کے دوران پراسرار طور پر تباہ ہوکر ڈوب گئی۔

یہ ایسا پراسرار واقعہ ہے کہ اب تک اس آبدوز کے تباہ ہونے کی اصل وجہ تاحال سامنے نہیں آسکی، تاہم بھارتی دعویٰ تھا کہ اسے آئی این ایس راجپوت نے تین اور چار دسمبر کی درمیانی شب تباہ کردیا تھا مگر پاک بحریہ کی انٹیلی جنس نے اپنی تحقیقات اور فوجی معلومات کا تجزیہ کرنے کے بعد اسے مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ غازی آبدوز حادثاتی طور پر بارودی سرنگیں بچھاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوئی۔

اس حوالے سے غیرملکی ماہرین کی رائے بھی پاکستانی موقف کی تائید کرتی ہے جن کا کہنا تھا کہ غازی ممنہ طور پر ان بارودی سرنگون کا نشانہ بن گئی جن کو اس نے بچھایا تھا۔بھارت نے اس حوالے سے امریکا اور روس کی جانب سے تحقیقات کی پیشکش کو مسترد کیا جس سے بھی پاکستانی موقف کو تقویت ملی۔

2003 میں بھارتی بحریہ کے غوطہ خوروں نے غازی سے کچھ چیزوں کو نکالا اور اس کے ساتھ شہید ہونے والے 6 پاکستانی سروس مین کی نعشوں کو بھی لے کر آئے، جن میں سے ایک پیٹی آفیسر مکینیکل انجنیئر تھے جبکہ ایک سیلر کی جیب سے ایک خط تھا جو انہوں نے اپنی منگیتر کے لیے لکھا تھا۔

ان سب کی بھارتی بحریہ کی جانب سے اعزازی فوجی تدفین کی گئی جبکہ جو اشیا برآمد ہوئیں ان میں راڈار کمپیوٹر، وار لاگز، تباہ شدہ ونڈ شیلڈ، چند فائلیں وغیرہ شامل تھیں اور اس کی تصاویر بھی جاری کی گئیں۔1972 میں غازی میں سوار عملے کو حکومت پاکستان کی جانب سے بہادری کے ایوارڈز دیئے گئے اور یہ پاکستانی بحریہ کی تاریخ میں اب تک کی واحد امریکی ساختہ آبدوز بھی ہے، اس کے بعد آبدوزوں کے لیے فرانس سے مدد لی گئی۔

پاکبحریہ نے اس کے بعد آبدوزوں کے تحفظ کے پروگرام کو بھی بہت زیادہ بہتر بنایا جبکہ اس آبدوز کے حوالے سے آئی ایس پی آر کے تعاون سے 1998 میں ایک ٹیلی فلم غازی شہید بھی پی ٹی وی پر نشر ہوئی، تاہم لگ بھگ 48 سال گزرنے کے بعد بھی اس قومی نقصان اور سانحہ پر موجود اسرار کا پردہ چاک نہیں ہوسکا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں