"سفروحضر/چوہدری عبدالعزیز
"سفروحضر/چوہدری عبدالعزیز

” آزادکشمیر کے لیڈروں کے نام”

جان کی امان چاہتے ہوئے گزارش ہے کہ ایک ماہ سے زائد وقت گزر گیا مقبوضہ کشمیر کے مسلمان بھائیوں اور بہنوں پر مظالم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں اس حوالے سے آزادکشمیر کے لیڈروں کا کردار اور کارکردگی صفر جمع صفر رہی ہے لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر 15 اگست کا تاریخ ساز مظاہرہ جو یو کے میں مقیم پاکستانیوں اور کشمیریوں نے آزادکشمیر کے آپ جیسے لیڈروں کی شرکت کے بغیر کیا تھا اور پوری دنیا کے میڈیا نے اس کو کوریج دی جس کا اچھا اور مثبت پیغام دنیا تک پہنچا اور اس کے ساتھ ہی یوکے میں بسنے والوں نے ممبران آف پالیمنٹ سے بڑے پیمانے پر بھی رابطہ شروع کیا اور انہیں اعتماد میں لے کر مقبوضہ کی زمینی صورتحال اور بھارت کی جانب سے مسلمانوں کی مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی، ہیندوتاوا مائنڈ سیٹ پر مبنی حقائق سے انہیں آگاہ کیا

یہاں آباد پاکستانی اور کشمیری پوری کمیونٹی یک جان اور یک زبان ہو کر آپنے کشمیری مسلمان بھائیوں کے لیے سفارتی اور سیاسی محاذ پر جنگ لڑ رہی ہے 15 اگست کے لندن اور یورپ کے شہروں میں ہونے والے مظاہروں کے بعد مودی سرکار کو عالمی سطح پر ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے بوکھلاہٹ میں نریندرمودی نے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو لندن انڈیا ہاوس کے باہر ہونے والے مظاہرے پر اعتراض کیا جبکہ یورپ بھر کے بھارتی سفارتخانے کشمیریوں کے حق میں ہونے والے مظاہروں سے بلبلا آٹھے

جب آزادکشمیر کے آپ لیڈروں نے یہ سب دیکھا تو فوری طور پر سب نے 3 ستمبر کے مظاہرے میں شرکت کرنے کی ٹھان لی اور لندن یاترا پر تشریف لے آئے مظاہرے کو اپنے نمائندوں کے زور پر ہائی جیک کرنے کی کوشش کی جس کو یہاں آباد پوری پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی نے ناپسند کیا اور آپ کی 3 ستمبر کو تھوڑی بہت دھلائی بھی کر ڈالی اور سمجھا بھی دیا کہ تمہاری یہاں ضرورت نہیں ہے اچھا ہوا آپ کے ساتھ وہ سلوک نہیں روا رکھا گیا جیسے حال ہی میں نائجیریا کے وائس پرزیڈینٹ کی طرح کا سین بھی ہوسکتا تھا جب وہ علاج کے لیے جرمنی پہنچا تو نائجیریا کے باشندوں نے اس کی اس لئے جرمنی پہنچنے پر اتنی پٹائی کی کہ اس نے اپنے ملک میں کوئی ایسا ہسپتال کیوں نہیں قائم کیا تاکہ اس کا علاج وہاں اپنے ملک نائجیریا میں ہی ہوسکے اور اسکو جرمنی سے واپس اپنے ملک جانے پر مجبور کر دیا

اسی طرح ان آزاد کشمیر کے لیڈروں سے سوال ہے آپ لندن میں آکر انڈین ہائی کمیشن کے سامنے مظاہرہ کرنے کے بجائے اسلام آباد ہائی کمیشن کے سامنے مظاہرے کیوں نہیں کرتے اور یہاں آ کر ہماری کمیونٹی جو کشمیر کے مسئلے پر پوری طرح متحد اور متحرک ہے اس کا اتحاد کیوں منتشر کرتے ہیں خدا کے لیے آپ لوگوں کی وجہ سے ہم لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے آپ نے اور آپ جیسے کرپٹ سیاستدانوں نے ہمارے پیارے وطن کو اس جگہہ لا کر کھڑا کر دیا ہے کہ لوگوں نے بیرون ملک جا کر روزگار تلاش کرنے شروع کر دیئے ہیں اور آج بھی ہر شریف انسان آپ کے کرپٹ نظام سے بچنے کے لیے بیرون ملک جانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ آپ لوگوں سے چھٹکارہ مل سکے لیکن آپ نے بھی تہیہ کر رکھا ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی یہ جائیں گے آپ نے ان کا پیچھا کرنا ہے ہم پہلے ہی آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں، برداری ازم اور مزہبی تفرقہ بازی کی بنیاد پر تقسیم در تقسیم ہیں

اب وقت بدل رہا ہے آپ لیڈران بھی اپنے آپ کو بدل لو جسطرح کئی دہائیوں سے آپ نے عوام کا جینا مشکل کیا ہوا ہے اس طرح یہ ظلم کے پہاڑ سہنے والے عوام نائجیریا کے وائس پریزیڈینٹ کی طرح آپ لوگوں کا تعاقب نہ کردیں اور آپ سے پوچھیں آپنے ملک کا بیڑہ غرق کرکے اب آپ ہمارا پیچھا یہاں پر بھی کر رہے ہیں اور ہمیں تقسیم کر رہے ہو .

بیرون ملک بسنے والوں نے بہت مظالم سہہ لیے ہیں اب وقت آگیا ہے کے کرپٹ لیڈروں کا احتساب کیا جائے اور آپنے وطن جو کہ ایک جنت ہے جس کو کرپٹ لوگوں نے دوزخ بنایا ہوا ہے اس کو ان لیڈروں سے آزاد کروایا جائے .یہاں آکر مسئلہ کشمیر سے ان کو پارٹی اور سیاسی طور پر فائدہ آٹھانا ہے یہاں ہماری نوجوان نسل پڑھی لکھی ہے جو پوری طرح متحرک ہوچکی ہے اور وہ یہاں کے اداروں میں کام کررہی ہے ان کی بات سنی جاتی ہے انہیں متحرک کرنے کی ضرورت ہے .

میری پاکستان کے ان اداروں سے دست بدستہ گزارش ہے کہ جو مسئلہ کشمیر کے حساس مسئلے پر دسترس رکھتے ہیں آزادکشمیر کے اقتداری طبقے کو مظاہروں میں لانے جیسے ایڈونچر نہ کریں یہاں ان کو پسند کوئی نہیں کرتا اور نہ ہی 14.15 لاکھ کشمیری ان کی آزادکشمیر میں تعمیروترقی کی حدتک کارکردگی سے مطمئن ہیں ان لیڈروں سے کہا جائے کہ آزاد کشمیر کے لوگوں کی محرومیاں ختم کریں لوگوں کو روزگار دیں آزاد کشمیر میں اصلاحات لائیں آزا کشمیر میں تعلیم اور صحت کا نظام ٹھیک کریں ان کا ریمورٹ کنٹرول اگر آپ کے پاس ہے تو ان کو آزادکشمیر کو بہتر بنانے کے لئے گھمائیں اللہ آپ کا بھلا کرے اور نہ ہی ان کو برطانیہ اور یورپ کے دورے کروا کر قومی دولت کا ضیاع کریں یہ وسائل آزاد کشمیر پر خرچ کریں جہاں کی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں کوئی ہسپتال نہیں جہاں علاج ممکن ہو

اپنا تبصرہ بھیجیں