saifi
نقطہ نظر/خلیق الرحمان سیفی

موجودہ نازک حالات میں ریاست جموں کشمیر کے عوام کی ذمہ داریاں

لفظ ریاست جموں کشمیرسے مراد تمام باشندگان ریاست جموں کشمیر ہیں چاہے وہ آزاد جموں کشمیر ٗ گلگت بلتستان سے ہیں یا بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر سے۔ کیونکہ یہ دونوں یونٹ اور علاقوں کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے اور اس حق خودارادیت کیلیے ان تمام علاقہ جات کے عوام نے اپنا ووٹ ڈال کر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے۔ اس ضمن نے آٸین پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان نے ہمیشہ باشندگان ریاست جموں کشمیر پر اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ اگر باشندگان ریاست جموں کشمیر بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کریں ٗ پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کریں یا آزادی کا فیصلہ کریں وہ پاکستان کو قبول ہو گا اور پاکستان اس فیصلے کا احترام کرے گا۔

ہندوستان کا موقف بھی جزوی طور پر یہی رہا کہ جموں کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اس کی عوام کرے گی اور انہیں حق خودارادیت اور ریفرنڈم کا موقع دیا جاٸے گا۔ لیکن اب حالات مختلف ہیں کہ جب ہندوستان نے آٸین میں ترمیم کرتے ہوٸے جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا ہے اور مقبوضہ جموں کشمیر میں کرفیو نافذ کر کےعوام اور قیادت کو گھروں میں محصور کر دیا اور اپنا بدترین تسلط قاٸم کر دیا۔

ایسے میں جموں کشمیر کے عوام نے ہر دو طرف تحریک کو تیز کر دیا ہے۔ بھارتی مقبضہ جموں کشمیر میں تو عوام کرفیو کی وجہ سے باہر نہیں نکل پا رہے لیکن جزوی طور پر چند چند نوجوان موقع پا کر احتجاج کر رہے ہیں اور انہیں بھارتی افواج گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال رہے ہیں۔ ادھر آزاد کشمیر میں مختلف تنظیموں نے بھی احتجاجی مظاہرے جاری رکھے ہوٸے ہیں جن میں چکوٹھی اور چناری کے مقام پر آزاد جموں کشمیر بار کونسل اور صحافیوں کا احتجاجی مظاہرہ قابل ذکر ہے۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا ایک دھڑہ جو سردار صغیر خان کی قیادت میں تیتری نوٹ پر دھرنا دیے ہوٸے ہے جس میں ریاست آزاد جموں کشمیر کی عوام کی ایک خاص تعداد شامل ہے۔ کوٹلی میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یاسین ملک نے زونل صدر توقیر گیلانی کی قیادت میں کافی بڑی تعداد میں دھرنا اور احتجاج جاری رکھا ہے۔

آزاد جموں کشمیر میں موجود تمام قوم پرست تنظیموں اور جماعتوں پر مشتمل پیپلز نیشنل الاٸنس تشکیل دیا گیا جو کہ ایک خوشآئند اقدام ہے اور اس الاٸنس نے 4 اکتوبر کو لاٸن آف کنٹرول توڑنے کا اعلان کر رکھا ہے اور عوامی سطح پر اس تحریک اور اقدام کو کافی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ لیکن اس پر متبادل نظریہ کے حامل افراد اور جماعتوں کی جانب سے مختلف الزامات بھی لگاٸے جا رہے ہیں جو کہ عمومی طور پر سیاسی زندگی کی لیے ان سیاسی جماعتوں کی ضرورت بھی ہوتے ہیں۔ مگر مسٸلہ کی حساسیت کو بھانپتے ہوٸے ان ہتھکنڈوں کو نظرانداز کر کے قوم کا شیرازہ بکھرنے سے بچانا ہماری اجتماعی ذمہ داری بھی ہے۔

اس ساری صورتحال میں ریاست جموں کشمیر کے عوام ٗ سیاسی جماعتوں ٗ حریت قاٸدین اور آزادی پسندوں کیلیے ایک سنہری موقع یہ ہے کہ پوری دنیا میں مسٸلہ کشمیر فلیش پوائنٹ بن چکا ہے ایسے میں اس موقع سے فاٸدہ اٹھانا اور دہاٸیوں پر مشتمل اس اذیت سے نجات پا کر ریاست کے عوام کو شناخت دینے کا مطالبہ کر کے ریاست میں یک نکاتی ایجنڈا حق خودارادیت ٗ استصواب راٸے اور ریفرنڈم کیلیے آواز بلند کی جاٸے۔ کیونکہ ہماری ریاستی قوم مختلف مذاہب کا مجموعہ ہونے کی وجہ سے مختلف نظریات کی حامل ہے۔ جموں میں ہندو ٗ پنڈت ٗ سکھ اور بدھ کی اکثریت ہے اور مسلمان بھی ایک خاص تعداد میں موجود ہیں ٗ

کشمیر جسے ویلی کہا جاتا ہے اس کی تقریباً 95 فیصد سے زیادہ آبادی مسلمان ہے اور دیگر ماندہ سکھ اور ہندو پر مشتمل ہیں ٗ لداخ کی تقریبا 70 فیصد سے زیادہ آبادی بدھ مت ہے اور مسلم ٗ ہندو ٗ سکھ بہت تھوڑی تعداد میں ہیں۔ اس لیے ان تمام مذاہب اور الحاق ہندوستان ٗ الحاق پاکستان ٗ اور خود مختار جموں کشمیر کے نظریات کے حامل عوام موجود ہے۔ اس لیے ان تمام باشندگان ریاست کو ان کا حق استعمال کرنے کا موقع صرف حق خودارادیت اور استصواب راٸے کی صورت میں ممکن ہے۔ ہم عوام کو نظریاتی بنیادوں پر ایک دوسرے سے ٹکرایا جا رہا ہے جس کا ایسی صورت میں کوٸی فاٸدہ نہیں۔ جب تک کہ ہمیں ہماری نظریے کی مطابق حق راٸے دہی کا موقع نہیں دیا جاتا۔

عوام ریاست جموں کشمیر کو اقوام متحدہ ٗ برطانوی پارلیمنٹ ٗ واٸٹ ہاوس ٗ جہاں جہاں ریاستی باشندے آباد ہیں ان ممالک میں موجود ہندوستانی اور پاکستانی ہاٸی کمیشن کے سامنے صرف اور صرف ایک مطالبہ کرنا ہو گا کہ ریاستی عوام کو ہر دو اطراف میں حق خودارادیت کا موقع دیا جاٸے۔ یہ مطالبہ اگر قومی بیانیہ بن جاٸے اور تمام عوام ہر قسم کی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر یہ متفقہ اور مسلمہ مطالبہ کرتے ہیں تو اس سے ریاستی عوام کے درمیان تفریق اور الزامات بھی ختم ہو سکتے ہیں اور پوری ریاستی قوم ایک نکتے پر یکجا بھی ہو سکتی ہے۔

اور اسی کے باعث پوری قوم کو اپنا حق استعمال کرنے کا موقع بھی مل سکتا ہے اور اکثریتی فیصلے کے بعد ریاست کا مسقبل بھی ہمیشہ کیلیے متعین ہو جاٸے گا اور ریاستی عوام بھی اپنی لٹی ہوٸی شناخت کو بحالکر سکیں گے۔ ورنہ یہ جو ایک دوسرے پر الزامات کے بازار سرگرم ہیں یہ ہماری آپس کی اکاٸی کو ہی تقسیم کر دے گی اور ہم آپس میں الجھ کر رہ جانے کے باعث کچھ بھی نہ کر سکیں گے۔ اور پاکستان اور ہندوستان کو بھی کوٸی پریشر نہیں ہو گا اس مسٸلے کے حل کا۔ اس لیے تمام الحاق پسند اور قوم پرست قوتوں کو اپنی توانائی ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی بجاٸے اس پوائنٹ پر توانی صرف کرنی چاہیے جس کے باعث ہمیں اپنے نظریات کے مطابق راٸے دہی کا حق مل سکے۔ ورنہ اس کا کچھ فاٸدہ نہیں۔

مسٸلہ جموں کشمیر کےباعث ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بھی کشیدگی قاٸم ہے جس کا خمیازہ دونوں ممالک کی عوام بھگت رہی ہے اور عوامی بجٹ کی خطیر رقم سے عوام محروم ہو رہے ہیں۔ ان کی معیشت تباہ ہو رہی ہے ٗ دونوں ممالک کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ سو ایسے میں دونوں ممالک کے عوام بھی اپنے اپنے ملک میں حق خودارادیت کا مطالبہ کریں اور اپنی اپنی حکومتوں کو مجبور کریں کہ وہ عالمی سطح پر حق خودارادیت کیلیے پہل کریں۔ جہاں اس مسٸلے کے حل سے باشندگان ریاست جموں کشمیر کو فاٸدہ پہنچے گا وہاں ہندوستان اور پاکستان کی عوام بھی اپنی نسلوں کو محفوظ کرنے کا سامان حاصل کریں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں