وزیراعظم آذاد کشمیر کی خدمت میں التجاء

تحریر:ڈاکٹر سید نذیر حسین گیلانی

کہتے ہیں آج کا کام کل پر مت چھوڑیں ۔ وزیراعظم آزاد جموں وکشمیر نے 5 اگست کے بعد کی صورتحال پر غور کرنے کے لئے پہلے اللہ کے فضل و کرم سے آل پارٹیز کانفرنس بلائی، اور فیصلہ جات پر عمل کرنے کے لئے ایک کمیٹی بنائی ۔ اس کمیٹی کا اجلاس خیر سے مورخہ 11 ستمبر 2019 دن 11 بجے جموں کشمیر ہاوس میں طلب کیا ہے۔ ریاستی عوام کا اپنا پارلیمان ہے، اپنی حکومت ہے اور اب معززین کی ایک کمیٹی بھی اور 13 ویں ترمیم نے تو آذاد کشمیر حکومت کے اقبال بلند فرمائے ہیں۔

سیز فائر لائن کے اس پار ہندوستان نے، ریاست اور ریاستی عوام کو دن دہاڑے، ذبح کیا اور ہر گھر ایک قید خانہ بنادیا گیا ہے۔ ظلم، تشدد، بے توقیری اور بے حرمتی کی ایک الگ داستان رقم ہو رہی ہے۔

11 ستمبر کو وزیراعظم صاحب معزز ارکان کی کمیٹی کے اجلاس میں ” آئندہ کے لئے لائحہ عمل کے لئے فیصلہ جات کریں گے”۔

5 اگست سے 11 ستمبر تک کے عرصہ تک اگر وزیراعظم صرف اتنا ہی کام کرتے، یا اس کام سے ملتا جلتا کام کرتے، جو چنائے میں زیر حراست محبوبہ مفتی کی بیٹی التجاء نے ، اپنے جغرافیائی حالات کے مطابق سپریم کورٹ آف انڈیا میں ایک درخواست کے ذریعے کیا، تو کیا اچھا ہوتا۔

ایک لڑکی نے کم از کم ایک ماں تک رسائی ہی حاصل نہیں کی بلکہ بھارتی افواج اور سسٹم کے جبر میں ایک نقب لگایا۔

وزیراعظم اعظم اور معزز ارکان کی یہ کمیٹی اللہ کرے ایک یا بہت سی ماؤں تک (اگر پوری قوم نہیں) رسائی کا ذریعہ تلاش کر لیں گے۔

امید ہے، یہ معزز ارکان اپنے اعزاز کی حرمت کا لحاظ رکھیں گے اور کشمیری لڑکی کی التجاء سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے ۔ میں انہیں سپریم کورٹ آف انڈیا جانے کا مشورہ نہں دیتالیکن اگر جائیں بھی تو کوئی برائی نہیں۔ ان کے مطلب کی بھی عدالتیں موجود ہیں ۔

معزز ارکان نے آخر کمیٹی کے قیام سے لیکر اب تک وزیراعظم کی دعوت کا انتظار کیوں کیا۔ شاید اس لئے کہ ان معزز ارکان کی دستار فضیلت کا “شملہ” وزیراعظم کے صوابدیدی اختیار میں ہو۔

اس دوران حکومت آذاد کشمیر نے اپنے طور UNCIPقراردادوں کے تحت سنبھالی گئی کونسی ذمہ داری نبھائی، یہی حکومت کی سنجیدگی کا ثبوت ہوگا۔

اب یہ التجاء بمقابلہ حکومت آذاد کشمیر ہے۔ دنیا کی نظریں حکومت آذاد کشمیر پر لگی ہوئی ہیں۔
اس وقت سیاسی آنسوں بہانے کا بٹن اگر آف رکھا جائے اور عمل کا بٹن آن کیا جائے، تو ذیادہ مناسب ہوگا ۔

اللہ نہ کرے کہ کہیں ہمیں آپ کو جھوٹ پکڑنے والی مشین سے گزار نے کا مطالبہ نہ کرنا پڑے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں