اسلام آباد پولیس کی وردی میں ملبوس ٹھگوں کا ٹولہ بے نقاب

اسلام آباد (اسرار احمد راجپوت/سٹیٹ ویوز) ملکی دارالحکومت کی “ماڈل پولیس” کا ایک ایسا سیاہ کارنامہ منظر عام پر آگیا جس نے آئی جی سمیت سب افسران کے سر شرم سے جُھکا دیے۔

موبائل شاپس مالکان و ایزی پیسہ ڈیلرز کو تھانہ ترنول میں طلب کر کے وردی میں ملبوس افراد نے لاکھوں روپے مختلف موبائل فونز پر ٹرانسفر کروا دیے۔

اپنی اپنی کھالیں بچانے لیے ایک متاثرہ موبائل شاپ کے مالک جس کے موبی کیش موبائل سے 225000 روپے تھانہ میں بٹھا کر پانچ افراد کو ٹرانسفر کیے گئے تھے کی درخواست پر پرچہ درج کر کے تفتیش شروع کردی گئی جبکہ ایس ایچ او نے مدعی کو مبلغ 150000 روپے واپس کر دیے۔

تھانہ ترنول میں ہی تعینیات چند افسران کی اسلام آباد کے “منی میکسیکو” ڈورا گاؤں کے منشیات فروشوں سے مبینہ روابط کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ تھانہ ترنول میں تعینات ایس ایچ او اور ان کے چند منظور نظر جونئیر افسران و کانسٹیبلان نے ترنول کے قرب و جوار میں موبائل فونز/ایزی پیسہ کے کاروبار سے منسلک افراد کا ڈیٹا و موبائل نمبرز کی لسٹ تیار کی اور اس کام کے لیے تھانہ کی موبائل وین کے ڈرائیور (کانسٹیبل) کی ڈیوٹی لگائی گئی۔

زرائع کے مطابق اس ڈرائیور نے بعض مقامات بشمول ڈورا گاؤں میں خود کو “ایس پی” ظاہر کر کے منشیات فروشوں سے “بھتہ” بھی وصول کیا۔

زرائع کے مطابق تاجران کی فہرست مرتب کرنے کے عمل کے بعد 21 اگست 2019 کو ایک نامعلوم فرد نے موبائل نمبر5793508 -0306 سے ترنول میں محلہ حافظ آباد میں شفیع موبائلز کے مالک شفیع اللہ کے موبائل نمبر 03135008800 پر کال آئی جس نے خود کو SHO تھانہ ترنول متعارف کروایا اور شفیع کو حکم دیا کہ اپنا موبی کیش والا موبائل لے کر فوری طور پر تھانہ آؤ۔ زرائع کے مطابق شفیع نے متعقلہ موبائل فون اپنے بھائی عنایت اللہ کو دے کر تھانہ روانہ کر دیا۔

زرائع کے مطابق عنایت جب تھانہ ترنول پہنچا تو SHO نے اسے اپنے کمرے میں بٹھا کر پانچ موبائل نمبرز 0303057649/03022062997/03046316236 / 03048312843/ 0302284041 پر مشتمل ایک لسٹ تھما دی اور حکم دیا کہ فی الفور ان کو دو لاکھ پچیس ہزار روپے منتقل کرو جوکہ عنایت نے ایس ایچ او کے احکامات بجا لاتے ہوئے اسی وقت منتقل کر دیے۔ زرائع کے مطابق بعد ازاں جب شفیع کو اصل صورتحال کا علم ہوا اور ترنول کے دوسرے تاجروں سے اسی منظم طریقہ سے لوٹ مار کا سامنا کرنا پڑا تو اس نے تھانہ میں مقدمہ درج کروانے کا فیصلہ کیا۔

زرائع کے مطابق ابتداء میں مدعی کو خاصی مشکل کا سامنا کرنا پڑا جس نے افسران بالا کے پاس پیش ہونے کی دھمکی دی جس پر ایس ایچ او نے تھانہ میں نامعلوم کال کرنے والے کے خلاف مقدمہ نمبر 382/19 زیر دفعات 420/419/170/171 ت پ درج کر کے تفتیش ASI محمد اسحاق تھما دی۔

زرائع کے مطابق حالات کنٹرول سے باہر ہو جانے اور مدعی کی جانب سے خبر میڈیا کو لیک کرنے کی دھمکی پر SHO نے مدعی کو ڈیڑھ لاکھ روپے لوٹا دیے جبکہ 75000 بقایا بعد میں دینے کا وعدہ بھی کیا۔ زرائع کے مطابق بات کسی طرح افسران بالا تک پہنچ گئی جس پر وہ حرکت میں آگئے اور تھانہ “موبائل وین ڈرائیور” کو معطل کر دیا گیا جبکہ میڈیا میں سبکی کے ڈر سے معاملہ دبا دیا گیا۔

اس ضمن میں جب تفتیشی افسر ASI محمد سجاد سے انکا مؤقف جاننے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے واقعہ کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ مقدمہ میں ملوث گروہ کا سراغ لگا لیا گیا جو کہ کراچی اور سندھ میں بیٹھ کر لوگوں کو فون کر کے خود کو پولیس کے اعلی افسران ظاہر کر کے رقوم بٹورتے۔ انھوں نے کہا کہ ابھی وہ محرم کی سکیورٹی ڈیوٹی میں مصروف ہیں اور دس محرم کو وہ ہمراہ اپنی ٹیم ہوائی جہاز میں کراچی جائیں گے اور ملزمان کو گرفتار کر کے لائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں ASI کا کہنا تھا کہ اب بھلا فون پر کوئی پولیس افسر یا ایس ایچ او ترنول کیسے پہچان سکتا کہ دوسری طرف موبائل فون پر بات کرنے والا واقعی ایس پی/ڈی ایس پی یا ڈی آئی جی ہے یا کوئی جعل ساز۔ جب ASI سے سوال کیا گیا کہ کیا ترنول پولیس اتنی سادی و معصوم کہ مدعی کا بھائی ایس ایچ او کے سامنے ان کے کمرے میں بیٹھ کر پانچ افراد کو 225000 روپے بھیج رہا اور کوئی اسے روک نہیں رہا جو کہ ظاہر کرتا ہے کہ جعلساز تھانہ کے اندر موجود ہے جس پر ASI نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا اب ہم کسی کو تھانہ میں کیسے روک سکتے اپنی مرضی سے موبائل یوز کرنے سے۔ جب اس نمائندے نے ASI سے سوال کیا کہ اگر ایس ایچ او یا کوئی اہلکار اس جرم میں ملوث نہیں تو پھر ایس ایچ او نے کیوں مدعی کو ڈیڑھ لاکھ روپے واپس کیے اور پچہتر ہزار بقایا بعد میں دینے کا وعدہ کیا تو تفتیشی افسر محمد اسحاق نے دعوی کے انہیں اس بات کا علم نہ ہے۔

دوسری جانب اس نمائندے نے بارہ دن پہلے آئی جی اسلام آباد پولیس کے PSO ڈی ایس پی خالد اعوان کو واٹس ایپ پر سوال نامہ بھیجا تھا کہ تھانہ ترنول کے کس پولیس ملازم کو ڈورا گاؤں کے منشیات فروشوں سے روابط کے جرم میں معطل کیا گیا مگر انہوں نے جواب نہ دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں