تلاش/سیدخالدگردیزی

آل پارٹیز کمیٹی کو تجاویز

جناب راجہ فاروق حیدر صاحب وزیر اعظم آزادکشمیر

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں پیدا کردہ حالات کے تناظر میں ریاستی۔قومی اور بین الاقوامی سطح پر نتیجہ خیز اقدامات کیلئے سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کے مشترکہ اجلاس کیلئے تجاویز درجہ ذیل ہیں۔

1۔تمام سیاسی قیادت کو حق خودارادیت کے حصول کے مشترکہ بیانیہ پراکٹھاکیاجائےاور اس بیانیے کیلئے حکومت پاکستان اور متعلقہ اداروں کو اعتماد میں لیا جائے۔

2۔حکومت پاکستان کیجانب سے کشمیر بنیگا پاکستان کا نعرہ بند کرایا جائےاورحکومت کو باور کرایا جائے کہ قومی اور بین الاقوامی سطح کے مختلف فورمزپرکشمیریوں کو اپناکیس خودپیش کرنےدیاجائے۔حکومت پاکستان صرف حق خودارادیت کے بیانیہ کو سپورٹ کرے۔

3۔آزادکشمیر میں نافذ العمل عبوری آئین میں موجود رائے شماری کا آئینی مشیر تعینات کیا جائے جس کوکشمیر کیس کی نہ صرف بین الاقوامی قانونی حثیت کا علم ہو بلکہ سیاسی اورجغرافیائی معاملات سے بھی آگاہ ہو۔یہ مشیر ادارہ قائم کرکےحکومت آزادکشمیر سمیت حکومت پاکستان کورائے شماری کے معاملات میں مشاورت فراہم کرے اور متعلقہ فورمزپررائےشماری کی راہ ہموارکرے۔

4۔لائن آف کنٹرول توڑنےکودھمکی کےطورپر استعمال کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نہ صرف جنیوا میں بلکہ آزاد کشمیر میں لاکھوں لوگوں کا اجتماع کیا جائے جس میں قومی اور بین الاقوامی میڈیاکو ساتھ لیکریہ مطالبہ دنیاکے سامنے رکھاجائے کہ اگر انڈیا 35 اے کو بحال نہیں کرتااور مقبوضہ کشمیرمیں کرفیو ختم نہیں کرتا تو لاکھوں لوگ پھنسےہوئےلوگوں کی مدد کیلئے بذریعہ ایل۔او۔سی ریلیف اینڈریسکیوآپریشن کرنےپر مجبور ہونگے۔

5۔اہم ممالک میں لابنگ کیلئے یوتھ، صحافیوں،وکلاء،این جی اوز،خواتین اورکاروباری لوگوں کے وفود تشکیل دیئے جائیں جو مختلف ممالک میں اپنے شعبوں سے متعلق لوگوں سے ملاقاتیں کریں اوراپنےشعبوں کےلوگوں کشمیرکیس پر اپناہمنوابنائیں ۔یہ عمل مسلسل جاری رکھا جائے۔

6۔حکومت کی سرپرستی میں پانچ سو ان افراد پر مشتمل ایک گروپ بنایا جائے جنہیں انگلش اور اردو میں سوشل میڈیا پراپنے بیانیہ کا ٹرینڈ بنانا۔پروپیگنڈہ کرنا اورمخالف بیانیہ کو کاؤنٹر کرنا آتا ہو۔اس گروپ میں مختلف ٹائم زون میں رہنے والے لوگوں کو شامل کیا جائے تاکہ 24 گھنٹے سوشل میڈیا پر ایکٹو رہا جاسکے۔

7۔ضرورت پڑنے پر کام آنے کیلئے شہریوں کو شہری دفاع کیلئے عسکری تربیت دی جائے۔

8۔مقبوضہ کشمیر سے تقریباً 300 کشمیری بچیوں کے اغواء کے خلاف اور انہیں برامد کرنے کیلئے سپریم کورٹ آف انڈیا میں رٹ کرنےکااہتمام کیاجائے۔

یہ تجاویز اقوام متحدہ کی قرار دادوں۔پاکستان اور انڈیا کے آئین اور گراؤنڈ پر موجود صورتحال کو پیش نظررکھ کرترتیب دی گئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں