اردن پر چڑھائی کا اسرائیلی اعلان،عرب اتحاد کا اہم بیان سامنے آگیا

تل ابیب(مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی وزیراعظم کے بیان کے بعد عرب ممالک کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے جب کہ بعض حلقوں نے اسے انتخابی پروپیگنڈہ قرار دیا ہے،

عرب لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابوالغیط نے کہا کہ عرب وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کے حصوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے منصوبے کی مذمت کی ہے۔

ابو غیط نے قاہرہ میں وزر خارجہ ایک روزہ اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا مغربی کنارے کی سرزمین سے متعلق نیتن یاھو کے بیانات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔

اس کے نتیجے میں امن مساعی تباہ ہوسکتی ہیں۔اردن کے وزیر خارجہ ایمن صفدی نے اپنے رد عمل میں کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم کے اس اعلان سے واضح ہوتا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کو الحاق کرنے اور وادی اردن اور شمالی بحیرہ مردار پر اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اسے ایک خطرناک جارحیت سمجھا جائے گا جو امن عمل کی بنیادوں کو مجروح کرتا ہے اور پورے خطے کو تشدد اور تنازعات کی طرف دھکیلنے کا موجب بن سکتا ہے،تنظیم آزادی فلسطین پی ایل او کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سکریٹری جنرل ، صایب عریقات نے کہا کہ نیتن یاہو کے اس اعلان سے امن کے کسی بھی امکان کو ختم کردیا گیا ہے۔

عریقات نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر کہاکہ اگر الحاق پر عمل درآمد ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اگلے کم سے کم 100 سال تک امن کے کسی بھی امکان کو دفن کردیا جائے گا،فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیلی وزیر اعظم کے بیان کو انتہا پسندوں کے ووٹ حاصل کرنے کا ایک نعرہ قرار دیا۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہاکہ نیتن یاھو ابھی بھی اس کوشش میں ہے کہ وہ فلسطینی سرزمین پر قبضہ برقرار رکھ سکتے ہیں۔ فلسطینی عوام اس وقت تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک کہ اس سرزمین سے غاصبانہ قبضہ ختم کرکے اپنی آزاد ریاست قائم نہیں کی جاتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں