مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم کوعالمی سطح پر اجاگرکرنے کیلئے “وال آف وائلنس”بنادی گئی

اسلام آباد(رپورٹ :سٹیٹ ویوز)مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کو بین الاقوامی سطح پر اجاگرکرنے کیلئے مظفرآبادشہرکی اہم ترین شاہراہ پر “وال آف وائلنس”دیوارتشدد بنادی گئی۔

وال آف وائلنس پر کشمیری عوام پر بھارتی مظالم کو مختلف زاویوں سے عالمی دنیا کیلئے اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔دیوارکے داہنے جانب سرینگر کی لال چوک کو دکھایا گیا ہے جہاں پر بھارتی فوج کی گاڑیوں اور نہتے کشمیریوں پر تشدد کو نمایاں کیا گیا ہے ۔

ساتھ ہی مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجی میجر لیفٹننٹ گوگوئے کی جانب سے کشمیری شہری فارو ق احمد ڈار کو ہیومن شیلڈ کے طور پر استعمال کیے جانے کو بھی دکھایا گیا ہے بھارتی افسر کی جانب سے نہتے کشمیری شہری کو جیپ کے آگے باندھنے کے عالمی میڈیا پر بھی کافی چرچے رہے ۔

وال آف وائلنس میں جہاں مقبوضہ کشمیرکے سرسبزپہاڑوں کو دکھایاگیا ہے تو ساتھ ہی ماحول کو خوفزدہ کرنیوالی بھارتی ایئرفورس کے طیاروں کی پروازوں کی تصویر کشی بھی کی گئی ہے ۔جبکہ بھارتی فوجیوں کی جانب سے مقبوضہ کشمیرمیں خواتین کی عصمت دری کے واقعات پربین الاقوامی دنیا کاضمیر جھنجھوڑنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔

کشمیر کی موجودہ صورتحال کا پس منظر

بھارت نے 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی (UNION TERRITORIES) میں تقسیم کردیا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جبکہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا۔

بھارت نے یہ دونوں بل لوک سبھا سے بھی بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے ہیں۔

آرٹیکل 370 کیا ہے؟

بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر میں خصوصی اختیارات سے متعلق ہے۔

آرٹیکل 370 ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے، اسے برقرار رکھنے، اپنا پرچم رکھنے اور دفاع، خارجہ و مواصلات کے علاوہ تمام معاملات میں آزادی دیتا ہے۔

بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔

بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کسی بھی دوسری ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر کا شہری نہیں بن سکتا اور نہ ہی وادی میں جگہ خرید سکتا ہے۔

کشمیر میں اب کیا ہورہا ہے؟

بھارت نے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے سے قبل ہی مقبوضہ کشمیر میں اضافی فوجی دستے تعینات کردیے تھے کیوں کہ اسے معلوم تھا کہ کشمیری اس اقدام کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی تعداد اس وقت 9 لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے وادی بھر میں کرفیو نافذ ہے، ٹیلی فون، انٹرنیٹ سروسز بند ہیں، کئی بڑے اخبارات بھی شائع نہیں ہورہے۔

بھارتی انتظامیہ نے پورے کشمیر کو چھاؤنی میں تبدیل کررکھا ہے، 7 اگست کو کشمیری شہریوں نے بھارتی اقدامات کیخلاف احتجاج کیا لیکن قابض بھارتی فوجیوں نے نہتے کشمیریوں پر براہ راست فائرنگ، پیلٹ گنز اور آنسو گیس کی شیلنگ کی۔

ریاستی جبر و تشدد کے نتیجے میں متعدد کشمیری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں جب کہ کشمیر میں حریت قیادت سمیت بھارت کے حامی رہنما محموبہ مفتی اور فاروق عبداللہ بھی نظر بند ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں