ڈاکٹر فوزیہ کی گرفتاری کا مطالبہ ٹوئٹر پر ٹرینڈ بن گیا

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز)اس خاتون کا تعلق افغانستان سے ہے مگر یہ امریکا میں رہائش پذیر ہے اور سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے سوشل میڈیا پر کچھ بھی کرتی نظر آتی ہے۔خاص طور پر یہ خاتون اسلام مخالف مہمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا کرتی نظر آتی ہے۔

کبھی اس کی ویڈیوز قرآن پاک کی توہین کرتی نظر آتی ہیں تو کبھی توہین رسالت کی مرتکب نظر آتی ہے۔لہٰذا اس کیخلاف ٹوئٹر ٹرینڈ بن گیا کہ یہ خاتون اسلام مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے لہٰذا امریکا اسے گرفتار کرکے افغانستان کے حوالے کرے۔“اریسٹ ڈاکٹر فوزیہ” کے ٹرینڈ کی ٹوئٹر پر اس وقت 13 ہزار کے قریب پوسٹس ہو چکی ہیں۔

واضح رہے کہ نوجوان سوشل میڈیا پر نظر آنے والی کسی بھی پوسٹ پر من و عن عمل کر لیتے ہیں اور اس کی تحقیق کرنے یا کسی عالم سے معلومات لینے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔اس کے علاوہ بھی ففتھ جنریشن وار یا پھر یوں کہہ لیں کہ نئی عالمی جنگ اسی سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے لڑی جا رہی ہے کہ دشمن کسی بھی ملک کے نوجوانوں کے ذہنوں میں زہر اگل رہا ہے جس کے نتیجے میں معاشرتی انحطاط اس قدر زوروں پر ہے کہ وہ دن دور نہیں جب کسی ملک میں خانہ جنگی شروع ہو جائے۔

تاہم سوشل میڈیا کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ یہاں سے مجبور اور بے بس عوام کو زبان مل گئی ہے۔ اس کے علاوہ ٹیلنٹ رکھنے والوں کو بھی اپنا آپ دکھانے کیلئے ایک مناسب پلیٹ فارم مل چکا ہے۔آپ کسی برائی کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں تو سوشل میڈیا سائٹس فیس بک یا ٹوئٹر پر ٹرینڈ بنا دیں۔ یقین کریں کہ جادوئی عمل ہو گااور پل بھر میں آپ کی پوسٹ پوری دنیا میں وائرل ہو چکی ہو گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں