اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کا وقت۔۔۔ پنجاب بھر میں بلدیاتی انتخابات کب ہونگے؟

اسلام آباد( ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کو حکومت بنائے لگ بھگ 13 مہینے گزر چکے ہیں، اور حکومت کو اس بات پت تنقید کا نشانہ بانیا اجاتا رہا کہ عمران خان نے خود پاکستان میں اختیارات کو نچلی سطح پر لانے کا اعلان کیا تھا لیکن اب اقتدار میں آکر اس چیز کو بھول بیٹھے ہیں، تاہم حکومت نے اب ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کر لیاہے۔

تفصیلات کے مطا بق ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کے شیڈول کا اعلان کر دیا گیا، حلقہ بندیوں کی ابتدائی تجاویز 26ستمبر کو آویزاں کی جائیں گی۔ ھلقہ بندیوں ے متعلق نمائندگان کے اعتراضات 27ستمبر کو داخل ہونگے جبکہ اعتراضات پر سماعت 27 ستمبر سے14 اکتوبر تک کی جاسکے گی۔ 2نومبر حتمی فہرستیں تمام پراسس کے بعد شائع کی جائیں گی۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق ) الیکشن کمیشن آف پاکستان پی ایس 11 لاڑکانہ 2 میں ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری کردیا-

الیکشن کمیشن کے مطابق پی ایس11میں ضمنی انتخاب17اکتوبر کوہوگا،کاغذات نامزدگی13سے15ستمبرتک جمع کروائے جاسکتے ہیں،امیدواروں کے کاغذات کی سکروٹنی 19 ستمبر کو ہو گی، الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کاغذات نامزدگی28ستمبر تک واپس لیے جاسکتے ہیں،امیدواروں کی حتمی فہرست28ستمبر کوآویزاں کی جائے گی ،واضح رہے کہ پی ایس11لاڑکانہ 2 کی نشست جی ڈی اے کے رکن سندھ اسمبلی معظم علی کے ڈی نوٹیفائی ہونے پرخالی ہوئی تھی۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سینیٹرپرویزرشید نے کہا کہ نوازشریف کسی صورت ڈیل نہیں کریں گے اور انصاف کا دوہرا معیار ہونے کے باوجود عدالت سے رہا ہوں گے۔

حزب اختلاف کی تمام جماعتیں مولانا فضل الرحمان کے مارچ میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں گی۔عمران خان نئے انتخابات کے لیے راہ ہموار کریں یا مولانا فضل الرحمان کے ساتھ آنے والے بھونچال کا سامنا کریں۔ پیر کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینیٹر پرویزرشید نے کہا کہ نوازشریف کسی صورت ڈیل نہیں کریں گے اور انصاف کا دوہرا معیار ہونے کے باوجود عدالت سے رہا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے –

نوازشریف اغوا برائے تاوان والوں کے پاس ہیں۔پرویز رشید نے کہا کہ ڈیل کی بحث کرنے والے خود نہیں جانتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور بات طے ہے کہ ن لیگ کبھی بھی ڈیل کی صورت میں اپنی قیادت کی رہائی نہیں چاہتی۔نوازشریف کو لندن میں پیغام ملے تھے کہ وہ واپس نہ آ ئیں اور سیاست سے کنارہ کشی کر لیں لیکن ن لیگی قائد نے ایسا نہیں کیا۔انہوں نے کہاکہ سینٹ انتخاب میں 14 لوگوں کا اپنا ضمیر بیچنا افسوسناک ہے لیکن اپوزیشن جماعتیں متفق ہیں۔ حزب اختلاف کی تمام جماعتیں اپنا اپنا حصہ ڈالیں گی۔

عمران خان نئے انتخابات کے لیے راہ ہموار کریں یا مولانا فضل الرحمان کے ساتھ آنے والے بھونچال کا سامنا کرے۔ سینیٹر پرویزرشید نے کہا کہ نوازشریف کسی صورت ڈیل نہیں کریں گے اور انصاف کا دوہرا معیار ہونے کے باوجود عدالت سے رہا ہوں گے۔حزب اختلاف کی تمام جماعتیں مولانا فضل الرحمان کے مارچ میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں گی۔ عمران خان نئے انتخابات کے لیے راہ ہموار کریں یا مولانا فضل الرحمان کے ساتھ آنے والے بھونچال کا سامنا کریں.

اپنا تبصرہ بھیجیں