وزیراعظم آزادکشمیر کی قیادت میں کل جماعتی مشاورتی کمیٹی کےاجلاس کے اندر کی کہانی سامنے آگئی

اسلام آباد(سیدخالدگردیزی/سٹیٹ ویوز)بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں طویل ترین کرفیو۔کشمیر کی متنازعہ حیثیت اورکشمیریوں کی شناخت ختم کرنے کے اقدامات سے نمنٹے کیلئے سوموار کو کشمیر ہاؤس میں تنازعہ کشمیر کے اہم سٹیک ہولڈر گلگت بلتستان کو نظرانداز کر کے آزادکشمیر کی سیاسی جماعتوں کی قیادت پر مشتمل خصوصی کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ فاروق حیدرکی سربراہی میں ہواجو تقریباٌ 4 گھنٹے جاری رہا۔

اس کمیٹی کا قیام وزیراعظم نے 5 اگست کے بھارتی اقدام کے فوراً بعد بلائی گئی کل جماعتی کانفرنس کے بعد کیا جسکا مقصد کل جماعتی کانفرنس میں سیزفائرلائن توڑنے کی تجویز سمیت دیگرآپشنز پر غور کرکے لائحہ عمل تیار کرنا تھا۔خصوصی کمیٹی کے قیام کےچندروز بعد وزیر اعظم غیر ملکی دوروں پر روانہ ہوگئے۔تقریباً تین ہفتے کے طویل دورے کے بعد وزیراعظم وطن واپس آئے تو انہوں نے فوری طورپر خصوصی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا۔

اجلاس میں مسلم کانفرنس۔پیپلزپارٹی۔جماعت اسلامی۔جموں وکشمیر پیپلز پارٹی۔لبریشن فرنٹ۔تحریک انصاف اور دیگر پارٹیوں کے نمائندوں نے وزیراعظم راجہ فاروق حیدرخان کو سخت تنقید کانشانہ بنایا اور ملے جلے خیالات کااظہار کرتے ہوئے وزیراعظم کو کہا کہ آپ ایل او سی کیطرف مارچ کا اعلان کرکے اس معاملے کو آگے لیکر چلنے کیلئے قائم کیمٹی سے مشاورت کے بغیر بیرون ملک روانہ ہوگئے۔آپ نے اس کمیٹی کا کسی کو اختیار بھی نہیں دیا جبکہ 13 ویں ترمیم میں آپ نے قائمقام وزیراعظم کا عہدہ بھی ختم کیا۔آپ کی غیر سنجیدگی اور عدم دستیابی کے باعث ریاست اپاہج اور سسٹم مفلوج ہو کر رہ گیا۔آپ اس نازک وقت میں تقریباً ایک ماہ کیلئے ملک سے باہر رہے جب یہاں چیف ایگزیکٹو کی ضرورت تھی۔عوام نے سوشل میڈیا پر آپکی گمشدگی کا اشتہار تک چلایا۔

معتبر ذرایع کے مطابق وزیراعظم سخت تنقید پر جذباتی ہوئے لیکن انہیں کہا گیا کہ آپ کیوجہ سے ریاست میں ماتم کا سا ماحول ہے لہذا آپ جذباتی نہ ہوں۔لوگوں کی بات سنیں۔تحریک انصاف۔جماعت اسلامی اور لبریشن فرنٹ کے نمائندوں نے انہیں بتایا کہ وہ انفرادی طورپرایل او سی کیطرف مارچ کی تاریخ بھی دے چکے ہیں۔اسی طرح کے رحجان کا اظہار مسلم کانفرنس کیطرف سے بھی کیاگیا۔

ذرایع کے مطابق اجلاس میں دیگر تجاویز بھی زیر بحث آئیں لیکن سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشترکہ کال دی جائے اور لاکھوں لوگوں کو لیکر ایک جھنڈے اور ایک نعرے کے ساتھ ایل او سی کیطرف مارچ کیا جائے۔مقبوضہ کشمیر کیطرف سے بھی لوگوں کو نکالا جائے اور عملاً سیز فائر لائن کو روندھا جائے جسے کشمیری ویسے بھی نہیں مانتے۔

مختلف آپشنز پر گرماگرم بحث کے بعد ایل او سی کیطرف مارچ کا حتمی فیصلہ کیاگیا ہے لیکن تاریخ اور دیگر لوازمات اور انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے سوموار ہی کی شب کو سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کا اجلاس دوبارہ ہوا لیکن ایل او سی کی طرف مارچ کی تاریخ اور دیگر معاملات پر اتفاق رائے کے بغیر اجلاس ختم ہوگیا تاہم طےکیا گیا کہ 13 ستمبر کو وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے مظفرآباد میں جلسے کے بعد 14ستمبر کو کمیٹی کا اجلاس دوبار ہوگا جس میں تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ سیاسی جماعتوں پر مشتمل کمیٹی کے اجلاس کے پہلے حصے میں پاکستان مسلم لیگ کے سرکردہ رہنما راجہ ظفرالحق۔قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری یاسین۔پیپلز پارٹی کے صدر چوہدری لطیف اکبر۔مسلم کانفرنس کے ممبر اسمبلی سردار صغیر چعتائی۔پی پی پی آزادکشمیر کے جنرل سیکریٹری فیصل راٹھور۔مسلم کانفرنسی رہنما راجہ یاسین۔لبریشن فرنٹ کے ترجمان رفیق ڈار۔جماعت اسلامی آزادکشمیر کے سابق امیر اورچیرمین پی اے سی عبدالرشید ترابی۔امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر خالد محمود۔تحریک انصاف آزادکشمیر کے نائب صدر ظفرانورسمیت دیگر جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی جبکہ دوسرے حصے میں سابق وزیراعظم سردارعتیق احمد خان بھی اجلاس میں شامل ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں