کراچی کو وفاق کے کنٹرول میں لینے کا فیصلہ

اسلام آباد (سٹیٹ ویوز) کراچی کی بگڑتی صورتحال اور بے ہنگم مسائل کے باعث وفاقی حکومت نے اپنا آئینی کردار ادا کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ کراچی میں آرٹیکل 149کے نفاذ کا وقت آگیا ہے ۔نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون بیرسٹرفروغ نسیم نے کہا کہ کراچی کے مسائل کے حوالے سے جو کمیٹی بنائی گئی ،اس کا مقصد شہر کے مسائل کا حل ہے ۔ یہ کمیٹی اٹھارویں ترمیم کے بعد بنائی گئی ہے ۔ کراچی پورے صوبے کو جتنا ریونیو دیتا ہے اس پر اس حساب سے فنڈز خرچ نہیں کئے جاتے ۔

اس کمیٹی میں چھ ایم کیوایم اورچھ ہی ارکان پی ٹی آئی سے ہیں،میں اس کمیٹی کا سربراہ ہوں جووفاقی کمیٹی ہے ۔ اس کمیٹی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کراچی کے مقامی حکومتوں کے نظام کو کیسے چلایا جاسکتا ہے ۔ سندھ حکومت کی کارکردگی سب کے سامنے ہے جبکہ 2008 سے کراچی کو تباہ کیا گیا ہے ۔سپریم کورٹ کا حکم ہے کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا نظام کراچی کے پاس رہے گا۔

سندھ حکومت نے بہت سے ادارے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں جو صرف اورصرف کرپشن کررہے ہیں۔ پی پی پی کی حکومت کچھ کرنے نہیں دیگی تو سپریم کورٹ جایا جائے گا۔ ہم کراچی میں آرٹیکل 149 فور نافذ کرنے جارہے ہیں جس کے تحت کراچی وفاق کے کنٹرول میں آجائے گا۔ اس کے تحت وفاقی حکومت کراچی کیلئے احکامات جاری کر سکتی ہے ۔میں اس آرٹیکل کے نفاذ کے حق میں ہوں کیونکہ گزشتہ گیارہ برس میں کراچی میں کوئی کام نہیں ہوا اوراس 300 ارب کاریونیودینے والے شہر کو تباہ کیاگیا۔انہوں نے کہا سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ آئین سے متصادم ہے ۔

کوٹہ سسٹم غیر اسلامی ہے اورآ ج کے دور میں کوئی اس کی اجازت نہیں دیتا ۔ جی آئی ڈی سی کا دفاع اٹارنی جنرل نے کرنا ہے لیکن اگر وہ مجھ سے تعاون لینا چاہتے ہیں تو میں حاضر ہوں۔میں اگر نیب قانون میں ترمیم کروں گا تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اگرنیب کا کوئی ایسا قانون ہے جہاں پر زیادتی ہوتی ہے تواس کو روکا جائے گا،

ہم نیب کے دانت نہیں نکال رہے ہیں، اس کے حق میں نہیں ہوں۔ 18 ویں ترمیم جس نے بنائی، اس سے پوچھا جائے کہ اس نے اتنی متنازعہ کلاز کیوں ڈالی ہے ۔ الیکشن کمیشن کی پارلیمانی کمیٹی اگر ارکان کی نامزدگی کے حوالے سے فیصلہ نہیں کرتی تو پھر سپیکر کی رولنگ لی جائے گی ۔ سود کے حوالے سے فیصلہ شریعت کورٹ نے کرنا ہے جبکہ شریعت کورٹ کے ججوں کی تعیناتی جوڈیشنل کونسل کرتی ہے ۔

یہ کیس 1991سے پینڈنگ میں پڑا ہوا ہے ۔قاضی فائز عیسیٰ کے حوالے سے کیس پر انہوں نے کہا اب تو معاملہ کھل گیا ہے اورپتہ لگتا ہے کہ جج صاحب کو ساری بات بتائی گئی تھی اوروہ باخبر تھے ۔ یہ معاملہ پینڈنگ ہے اس پر زیادہ بات نہیں کرنی چاہئے ۔تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے قانون میں ایک لفط کی تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔اس قانون میں کمی نہیں اس کوز یادہ کیا جاسکتا ہے ۔

انہو ں نے کہاآرٹیکل 6کامقدمہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیر نہیں بن سکتا ۔ غداری کیس کیلئے وفاقی کابینہ کی اجازت ضروری ہے ۔ ن لیگ کے دور میں سابق صدر پرویز مشرف کیخلاف مقدمے کی منظوری وفاقی کابینہ سے نہیں لی گئی۔معاملہ سامنے آنے پر کیس کی حیثیت پر سوالات پیدا ہوگئے تھے ۔

بعدازاں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کراچی کے عوام مسائل کاحل چاہتے ہیں ،گورنرراج اور ایمرجنسی لگائے بغیراس آرٹیکل سے انتظامی امور چلائے جا سکتے ہیں۔یہ میرا ذاتی موقف ہے ،تمام تجزیہ کراچی کمیٹی کے سامنے رکھوں گا،آرٹیکل 149 کے نفاذ کااعلان وزیراعظم کے 14ستمبرکودورہ کراچی میں متوقع ہے ۔ آرٹیکل 149کے اطلاق کامقصدکراچی کے انتظامی امورکا کنٹرول حاصل کرناہے ۔

جمہوری اور غیرجمہوری ہونے کافیصلہ آئین کوکرنا ہے ۔ ادھرپیپلزپارٹی کے رہنما سعید غنی نے آرٹیکل 149 پر ردعمل میں کہا ہے کہ آرٹیکل 149میں ایسا کچھ نہیں۔شہر کے معاملات کو وفاقی حکومت ٹیک اوور نہیں کرسکتی۔ ہم این ایف سی سے اپنا حصہ مانگ رہے ہیں۔این ایف سی کا شیئر نہیں ملتا تو سندھ کا بجٹ متاثر ہوگا۔وفاقی حکومت آرٹیکل 149کا اطلاق کرنا چاہتی ہے تو کرکے دیکھ لے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں