شاہ محمود قریشی نے بلاول بھٹو کو ان کے متنازعہ بیان پر جواب دے دیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے واضح کیا ہے کہ پختونستان کی باتیں کرنے والے پٹ گئے اور سندھو دیش کی باتیں کرنے والے بھی پٹ جائیں گے، سندھ سے متعلق آپ کے ذہن میں کوئی تشویش نہیں ہونی چاہیے ، ملک کی بقاء وفاقی سوچ میں ہے ، آئین کا احترام تھا اور رہے گا ، ہم صوبائی خود مختاری پر آنچ نہیں آنے دینگے ، سندھ حکومت کو بلا وجہ چھیڑ چھاڑ کا کوئی ارادہ نہیں ،مسئلہ کشمیر پر 58ممالک نے پاکستان کے نقطہ نظر کو مانا ہے یہ سب سے بڑی کامیابی ہے ،اپوزیشن کے لوگ پروڈکشن آرڈر کے معاملے پر عدالت جانا چاہتے ہیں تو جائیں۔

جمعہ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سید خورشید شاہ کے بیان پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ سندھ سے متعلق آپ کے ذہن میں کوئی تشویش نہیں ہونی چاہیے، سندھ اس ملک کی اکائی ہے، صوبے سے متعلق ماضی کا جو حوالہ دیا گیا، اسے تسلیم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں جو کردار ادا کیا گیا اس پر کوئی اختلاف نہیں، وفاق کی سوچ ہونی چاہیے، اس ملک کی بقا یہ ہے کہ وفاقی سوچ ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہاکہ میں حکومت کی طرف سے ایک پالیسی بیان دے رہا ہوں کہ آئین کا احترام تھا، ہے اور رہے گا، صوبائی خودمختاری پر ہم آنچ نہیں آنے دیں گے، سندھ حکومت کو بلاوجہ چھیڑ چھاڑ کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر قانون کا ذکر کیا گیا اور آرٹیکل 149 کو بہت اچھالا گیا لیکن میں نے خود ان کا وضاحتی بیان پڑھا اور سنا ہے کہ جو مجھ سے منسوب کیا جارہا ہے وہ میں نے نہیں کہا، اس بیان سے متعلق غلط بیانی کی جارہی اور اسے توڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا، لہٰذا جب ایک وفاقی وزیر نے وضاحت کردی تو آپ کی تشویش ختم ہوجانی چاہیے۔

بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ کے سیاسی سفر کی شروعات ہیں، آپ کی جانب سے کسی دباؤ یا جذبات میں بہہ کر سندھو دیش یا پختونستان کی بات کرنا مناسب نہیں ہے، مجھے بلاول بھٹو کی حب الوطنی پر شک نہیں ہے لیکن سیاسی دباؤ میں آکر اس طرح کی بات کرنا آپ کو زیب نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ خورشید شاہ نے صحیح کہا کہ پیپلزپارٹی ایک ایسی جماعت ہے جس نے وفاق کو ترجیح دی ہے اور اسی جماعت نے صوبائی تعصب کو دفن کیا ہے، جو جماعت وفاق کی علامت کی بات کرتی ہو اس کے موجودہ چیئرمین سندھ کارڈ استعمال کرنے کی کوشش کریں یہ مناسب نہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان، وفاق، آئین کی بات کرنا سجتی ہیں لیکن اس طرح کی پختونستان کی باتیں کرنا ٹھیک نہیں، پختونستان کی باتیں کرنے والے پٹ گئے اور سندھو دیس کی باتیں کرنے والے پٹ جائیں گے، میرا ایمان ہے کہ ایک ایک سندھی پاکستان کا ساتھ دے گا ہمیں ان کی حب الوطنی پر شک نہیں ہے۔پیپلزپارٹی کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ یہ تاثر نہ دیں کہ پاکستان کے اندر صوبائی تعصب کی لہر ہے، ایسی کوئی لہر نہیں، میں دعوے سے کہتا ہوں کہ چاہے اردو بولنے والے سندھی ہوں یا سندھی بولنے والے سندھی سب حب الوطن ہیں۔

کشمیر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ وضاحت مانگی ہے کہ کسی انٹرویو میں کہہ دیا کہ خدانخواستہ جموں اینڈ کشمیر ہندوستان کا حصہ ہے،میں اپنے خطوط، سیکیورٹی کی بحث، اپنے بیان کو آپ کی خدمت میں پیش کر دیتا ہوں۔ انہوںنے کہاکہ آپ مطمئن رہیں میرا موقف وہی ہے جو آپ کا ہے۔ انہوںنے کہاکہ آج ہندوستان جتنی دفاعی پوزیشن میں ہے اتنا ماضی قریب میں دکھائی نہیں دیا۔

انہوںنے کہاکہ ہندوستان کو ہر فورم پر سبکی اٹھانا پڑی۔ انہوںنے کہاکہ اللہ کے فضل سے اٹھاون ممالک نے پاکستان کے موقف کی توثیق کی۔ انہوںنے کہاکہ گزشتہ روز امریکی کانگریس کے چار سینٹرز نے صدر ٹرمپ کو کشمیر کے تشویشناک مسئلے میں مداخلت کے لیئے خط لکھا ہے۔ انہوںنے کہاکہ 17 ستمبر کو پہلی مرتبہ یورپین پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر اٹھایا جائے گا۔انہوںنے کہاکہ مسئلہ کشمیر پر دھول پڑی ہوئی تھی آپ کی حکومت نے اجاگر کیا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 58 ممالک نے پاکستان کے نقطہ نظر کو مانا، یہ سب سے بڑی کامیابی ہے۔

انہوں نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پروڈکشن آرڈر کے معاملے پر آپ عدالت جانا چاہتے ہیں تو عدالت جائیں، تاثر گیا کہ پروڈکشن آرڈر کشمیر کے مسئلے پر فوقیت حاصل کر گیا،ہمیں ایک دوسرے کو ساتھ لیکر چلنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں