پاکستانی معیشت–’’یہ سوال اب مجھ سے 5 سال بعد ہی پوچھنا۔۔۔ ‘‘وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وعدہ کرتا ہوں5 سال بعد سرپلس اکنامی ہوگی، حکومت کی کارکردگی جانچنے کا وقت 5 سال بعد کا ہوتا ہے، مجھ سے بھی 5 سال بعد سوال کیا جائے،آئی ایم ایف سے پاکستان کا یہ آخری پیکیج ہوگا۔ انہوں نے آج قطری میڈیا کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ماضی کی طرح ہماری حکومت میں کوئی بزنس ایمپائر نہیں بنا رہا-

یہ نیا پاکستان ہے کیونکہ میگا کرمنل کیسزمیں جس طرح لوگ جیلوں میں ہیں پہلے نہیں تھے۔13 مہینوں میں وزیراعظم یا کسی وزیر یخلاف کرپشن کیس نہیں آیا یہی ہے نیا پاکستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت عظمی ٰسنبھالی تو پاکستان پر 90.5 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا۔ ہم نے ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 70فیصد کمی کردی ہے۔ہم نے درآمدات کم کی ہیں برآمدات بڑھائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی 40 فیصد بجلی درآمدی ایندھن سے حاصل ہوتی ہے۔

گیس اور ایل این جی بھی درآمد ہوتی ہے اس وجہ سے ہر چیز مہنگی ہوتی ہے۔ آئندہ چار ماہ میں پاکستان اسٹیل ملز کام کرنا شروع کردے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ میں یو ٹرن کا وزیراعظم ہوں۔ کوئی ایڈیٹ ہی ہوتاہے جو یوٹرن نہیں لیتا۔ پاگل دیوار سے سر ٹکراتا رہتا ہے اور دانشمند راستہ بدل لیتا ہے۔ کرپٹ لیڈر ز کرپشن کرنے کے بجائے یو ٹرن لے لیتے تو آج جیل میں نہ ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ میری حکومت کے 5سال مکمل ہوجائیں تو تب ملک کی معیشت پر سوال کیا جائے۔ کسی بھی حکومت کی کارکردگی جانچنے کا وقت 5 سال بعد کا
ہوتا ہے۔ پاکستان میں پہلی بار معیشت کو درست کیا جا رہا ہے۔ وعدہ کرتا ہوں 5 سال بعد حکومت چھوڑیں گے تو سرپلس اکنامی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے پاکستان کا یہ آخری پیکیج ہوگا۔ آئی ایم ایف نے ہمیں اخراجات میں کمی اور ریونیو بڑھانے کے سوا کچھ نہیں کہا۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان کیلئے چین سب سے بہترین دوست رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نےعزم کررکھا ہے ہرمذہب کے ماننے والے پاکستانی کو برابرکا شہری سمجھا جائے گا۔ جبکہ بھارت میں اقلیتیوں کوبرابر کا شہری نہیں سمجھا جاتا یہی فرق پاکستان اوربھارت کی حکومت میں ہے۔ مزید برآں وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت معاشی ٹیم کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں وزیرمنصوبہ بندی، وزیر اقتصادی امور، مشیرتجارت ودیگر نے شرکت کی۔

وزیراعظم نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم سے متعلق فوری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ چیئرمین ایف بی آر نے وزیراعظم عمران خان کو ٹیکس اصلاحات پر بریفنگ دی۔ ٹیکسوں کی وصولی میں بہتری اور ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہوا۔حالیہ مہینوں میں ٹیکسوں میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ رواں سال پہلے 2 مہینے میں برآمدات اور درآمدات کی مدمیں تجارتی خسارے میں 38 فیصد کمی ہوئی۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بند صنعتی یونٹس کی بحالی کیلئے فوری لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔ اپارٹمنس کی تعمیرات اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ تعمیرات کے شعبے کو صنعت کا درجہ دینے کی منظوری دے دی ہے۔ انہو ں نے کہا کہ زراعت کے ہرشعبے کی ترقی کیلئے ایک مفصل پالیسی تشکیل دی ہے۔ طے شدہ حکومتی اہداف کی تکمیل مقررہ وقت میں یقینی بنائی جائے۔

وزارتیں سہ ماہی اہداف کی تکمیل کا طریقہ کار وضع کریں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عوام کو گمراہ کن عناصرکی غلط معلومات سے بچایا جائے۔ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے اہداف ملنا شروع ہوگئے۔ حکومتی معاشی پالیسی سے برآمدات میں اضافہ ہوا، نجی کاروباری سرگرمیوں میں تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں