تلاش/سیدخالدگردیزی

قبروں پرسوٹیاں یاسوٹیوں کےذریعےقبریں؟

ماضی قریب کےچارپراثرکرداروں سردارابراہیم خان مرحوم۔کےایچ خورشید مرحوم۔سردارعبدالقیوم خان مرحوم اورامان اللہ خان مرحوم کے آپس میں نظریاتی اختلافات تھے۔سردارابراہیم خان اور سردار عبدالقیوم خان مرحومین کشمیر کا پاکستان سےالحاق پاکستان بہتر خیال کرتے تھے۔کےایچ خورشید مرحوم آزاد ریاست بشمول گلگت بلتستان کی انتظامی طورپر اندرونی خودمختاری کی جنگ لڑتےرہے۔

امان اللہ خان مرحوم کشمیریوں کے لئے مقبول بٹ شہید کا خودمختار کشمیر کا علم لیکر کھڑے رہے مگر یہ چاروں لوگ فکری طورپرایک تھے۔وہ ریاستی اور ذاتی مفادات کولیکرایک دوسرے کےمخالف چلتےرہےمگروہ فکرکی بنیادپرایک دوسرےکےمحافظ تھے۔غورکریں تواسی فکرکی بنیادپران چاروں نےسزائیں بھی پائیں۔کوئی ایک بھی نہیں جس نےسزانہ بھگتی ہو۔

انکی فکراورنظریات جب تیسری نسل کومنتقل ہورہےہیں تو ایسالگتاہےکہ لوگ انکےنظریات کولیکرچل رہےہیں لیکن وہ فکربھول گئےہیں جوانہیں جوڑےرکھتی تھی۔انکانظریاتی بیانیہ مستقبل سےمتعلق ہےاوران کا فکری بیانیہ حال سے متعلق ہے۔نظریاتی بیانیہ سےسب واقف ہیں مگرفکری بیانیہ ہے”حق خودارادیت اورتشخص”۔وہی حق خودارادیت جو نظریات کی بنیادپرمستقبل کافیصلہ کرنےکےقابل بناتاہے۔وہی “تشخص”جوالحاق یاخودمختاری دونوں میں سےکوئی ایک حل نکلنےکیصورت میں لوگوں کوباوقاربناتاہے۔

یہ چاروں لوگ نظریاتی اختلافات پرڈٹےرہے۔یہ اپنےنظریات کےحق میں دلائل سےبات کرتےتھے۔جب انکےنظریات تیسری نسل کومنتقل ہورہےہیں توتیسری نسل نے”دلیل” کو”تذلیل” میں بدل دیاہے۔یہ تذلیل “فکر”کوکھارہی ہے۔لوگ فکرکولیکر ساتھ بیٹھ نہیں سکتے۔ساتھ چل نہیں سکتے۔ساتھ مل کر کچھ بڑا نہیں کرسکتے۔ساتھ ملکرلاکھوں لوگ نکال کردنیا کوبتانہیں سکتےکہ مقبوضہ کشمیرمیں انکےبہن بھائیوں کے ساتھ کیاہورہاہے۔

تلخی کاماحول ختم کریں۔ایک دوسرے اور پاکستان سمیت اداروں کوگالی دینےسےپرہیزکریں۔دوطرفہ بیانیہ میں نرمی لاتےہوئے”حق خودارادیت” اور”تشخص” کواہمیت دیں بصورت دیگرموجودہ صورتحال برقراررہی تو یاد رکھیں کہ تیسری نسل فکر کی بنیادپراکھٹی ہورہی ہے۔اسےمستقبل کی بنیاد پر بنے بیانیوں سےزیادہ حال سےغرض ہے۔یہ نسل آپ کو کھا جائے گی۔

آپکوآپکےنظریات سمیت ملیامیٹ کردے گی۔راجہ فاروق حیدرماضی کےان کرداروں کی قبروں پر سوٹیاں مارنے کی خواہش کا اظہارکرتےرہے۔ایسابھی ہوسکتاہےکہ تیسری نسل سوٹیاں مارمارکرقبروں میں پہنچانےکےبارے میں سوچنے لگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں