پیرعلی رصابخاری نےپیغام پاکستان کانفرنس میں پیغام کشمیر دیدیا

لاہور(سٹیٹ ویوز )ممبر آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی و سجادہ نشین درگاہ بساہاں شریف پیر علی رضا بخاری نے کہا کہ ہندوستان پانچ اگست سے بالخصوص مقبوضہ کشمیر کے نہتے کشمیریوں پر کرفیو،تشدد اور گرفتاریوں کے ذریعے ظلم و ستم کر کے ریاستی دہشتگردی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ 1947ءسے لیکر ابتک 5لاکھ سے زائد کشمیری تحریک آزادی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں ، دوسری جنگ عظیم کے بعد اتنا ظلم کسی خطے میں نہیں ہو ا اور یہاں مسلسل ہولو کاسٹ ہو رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی نوجوان قیادت حصول آزادی کی تحریک کو کامیاب بنانے کیلئے پرعزم ہے اور دنیا کی کوئی طاقت انہیں اپنی منزل تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی۔

وہ گذشتہ روز نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام پیغام پاکستان کانفرنس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔ کانفرنس کی صدارت سینیٹر ولید رسول نے کی۔ پیر علی رضا بخاری نے کہا کہ بھارت یکطرفہ طور ہر کشمیر ہڑپ نہیں کر سکتا۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کو حق خودارادیت دیا جائے۔ بھارت مقبوضہ کشمیرمیں موجود اپنی سات لاکھ فوج کو فوراً مقبوضہ وادی سے نکالے اور کشمیریوں پر ہونیوالے مظالم کا سلسلہ بند کرے۔ مسئلہ کشمیر کو پاکستان کی سلامتی کے ساتھ منسلک کیا جائے۔آج تحریک آزادی اپنے جوبن پر ہے اور اس میں 19ماہ کی بچی بھی شامل ہو چکی ہے۔

1990ءسے لیکر اب تک ایک لاکھ کشمیری جانوں کی قربانی دے چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد لا پتہ ہیں۔ اہل فکر و نظر کشمیریوں نے بھارتی جرائم کی ایک طویل فہرست مرتب کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا کی بے حسی کا رونا تو رویا جا رہا ہے لیکن ہم میں سے ہر ایک اپنی کاوشوں کا جائزہ لے کہ کیا ہم کشمیریوں کا مقدمہ صحیح طور پر بین الاقوامی برادری کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ یہ ہم سب کا فرض ہے کہ انٹرنیشنل اداروں کا دروازہ کھٹکھٹائیں ۔72برس گزر جانے کے بعد آج بھی مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی قربانیوں اور پاکستان کی وجہ سے ہی زندہ ہے۔

14جون 2018ءکو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق اور ابھی حال ہی میں برٹش پارلیمنٹ کی رپورٹ میں بھارتی مظالم کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اہل جموں کشمیر کو ان کا حق خودارادیت دیا جائے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی پیلٹ گنوں کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بھارت کا نظریہ ہے کہ کشمیریوں پر اتنا ظلم کرو کہ وہ برداشت نہ کر سکیں اور دنیا کے سامنے انہیں جنگجو کے طور پر پیش کرو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی حالیہ رپورٹ کی روشنی میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیقات کےلئے ایک انکوائری کمیشن قائم کیا جائے جو حقائق دنیا کے سامنے پیش کرے ۔ اس مسئلہ کے چار فریق پاکستان ، بھارت، کشمیری اور اقوام متحدہ ہیں۔ اسے اسلام آباد اور دہلی تک محدود نہیں کرنا چاہئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں