نقطہ نظر /شیخ حمید

جمہوریت کا عالمی دن

پاکستان میں جمہوریت کی آڑ میں غیر جمہوری روئیے بمقابلہ جمہوریت کا عالمی دن !!! دنیا بھر میں آج جمہوریت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے جبکہ پاکستانی جمہوریت جمہوری لونڈی کے سوا کچھ نہیں ۔۔۔کیا پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے اندر مکمل جمہوریت قائم ھو چکی ھے ؟؟؟ کیا بحیثیت سیاسی راہنماؤں اور سیاسی کارکنان کے روئیے جمہوری بن چکے ھیں ؟؟؟کیا جمہور کو جمہوریت اور جمہوری حکومتوں کا پھل مل رھا ھے؟؟؟

کیا اب بھی جمہوریت چند خاندانوں کے گرد ہی گھوم رہی ھے؟؟؟پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج جمہوریت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جبکہ ھمارے ہاں جمہوریت کا گالی بنایا جا رھا ھے،تاریخ گواہ ھے کہ ماضی میں پاکستان میں جمہوریت کو غیر آئینی حکمران بھی اپنے مفادات کیلئے استعمال کرتے رہے ہیں ۔۔۔
ویسے تو پاکستان میں جمہوریت کی تاریخ کوئ قابل فخر نہیں رہی،جمہوریت کو جنم دینے والا آئین ہی ترامیم کی نذر ہوتا رہا ہے ، کبھی میجر جنرل اسکندر مرزا ، کبھی جنرل ایوب ، کبھی یحیٰ خان کبھی جنرل ضیاالحق اور کبھی پرویزمشرف جمہوریت اور آئین کو پامال کرتے رہے ہیں-

حتی کہ غیر جمہوری اقتدار کو دوام دینے کے لئے سہارا بھی جمہوریت کا ہی لیا جاتا رہا ہے،آمر حکمرانوں کی کارروائیاں اپنی جگہ لیکن پاکستان میں آج بھی سیاسی جماعتوں میں جمہوریت پر سوال اٹھ رہا ہے کہ سیاستدانوں نے جمہوریت کو ڈی ٹریک کرنے کیلئے کس کس کی گود میں بیٹھ کر کیا کیا سازشیں کیں کیونکہ یہی سیاستدان یا ڈمی سیاستدان ماضی میں بھی غیر جمہوری حکمرانوں کا سہارا بنتے رہے ہیں جو سلسلہ بغیر کسی تسلسل کے جاری ھے،پاکستان کے بیشتر مارشل لاء جمہوریت کے ٹھیکیداروں کی مدد سے ھی لگے اور پھر وہی ٹھیکیدار جمہوریت کے چمپئین بن کر مختلف روپ میں عوام پر ابھی تک چھائے ھوئے ھیں!!!

پاکستان میں جمہوریت جمہوریت کا راگ الاپنے والے سیاسی جماعتوں کے متعدد راہنما جو نہ صرف جمہوریت اور جمہور سے بے خبر ھیں بلکہ اپنی اپنی جماعتوں کے تنظیمی ڈھانچوں اور حکومتوں کو جمہوری طرز عمل پر چلانے سے بھی نابلد یا ہٹ دھرمی پر ڈھٹائ سے ڈٹے ھوئے پائے جاتے ھیں جو جمہوریت کو گھر کی نہ صرف لونڈی سمجھتے ھیں بلکہ اپنے مذموم مقاصد کیلئے سیاسی جماعتوں کو بھی جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر غیر جمہوری طریقے سے چلاتے ھیں جس کیوجہ سے سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت نام کی کوئ چیز نہیں رہی بلکہ فرد واحد جہاں چاہے جب چاہے کسی بھی سیاسی شخصیت یا کارکن کی تمام تر قربانیوں کو اپنی انا یا کسی خاص مقصد کی خاطر کُھڈے لائن لگا دے-

اسی طرح ان کی نظر میں خاندان کے چند افراد اور ذاتی دوست یا کاروباری فرنٹ مین ہی جمہوریت کانام ھیں جس کیوجہ سے سیاسی جماعتیں انتہائ کمزور ھو گئ ھیں یہی وجہ ھے کہ آج دو بڑی سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ جیلوں میں پابند سلاسل ھے مگر اُن کی جماعتیں اور سیاسی کارکنان عوام کو سڑکوں پر لانے میں ناکام اور مایوس نظر آتے ھیں اسی تناظر میں حکمران جماعت بھی بہت جلد اپنے غیر جمہوری روئیے کیوجہ سے ذمین بوس ھونے کے قریب ھے جس کی بڑی وجہ جماعتوں کو غیر جمہوری طرز عمل سے چلانا ھے۔۔۔

جمہوریت کی مضبوطی کیلئے سیاسی جماعتوں کا جمہوری انداز میں مضبوط ھونا اور کرپشن کا خاتمہ اولین ترجیح ھونا چاہیے جبکہ ھمارے ہاں تو شہد اور ذیتون کا جھگڑا ہی ختم نہیں ھو رہا، غیر جمہوری رویوں کیوجہ سے سیاسی جماعتیں ایسے کارکن پیدا کر رہی ھیں جو اپنی جماعت کی کسی بھی غلط پالیسی کیخلاف آواز اُٹھانا یا پیرا شوٹر کیخلاف آواز بلند کرنے سے کتراتے ہیں اُن کیلئے جمہوریت کس کھیت کی مولی ھے؟؟؟

پاکسستان میں جمہوریت کو استحکام بخشنے کیلئے ضروری ہے کہ تمام ادارے بھی آئینی حدود میں رہ کر نہ صرف کام کریں بلکہ اپنی حدود کا بھی احترام کریں جبکہ سیاستدان بھی آمریت اور جمہوریت میں واضح لکیر کھینچیں تاکہ جمہوریت چلتی رہے اور سیاسی جماعتوں کے کارکنان کی فکری،نظریاتی اور اخلاقی سوچ میں جدوجہد ھو ۔۔۔ اس میں کوئ شک نہیں کہ تمام معاشی و سیاسی و اخلاقی کمزوریوں کا علاج حقیقی جمہوریت میں ھی پوشیدہ بھی اور ظاہری بھی ھے۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں