قائمقام وائس چانسلربہاؤالدین زکریا یونیورسٹی نے قواعد وضوابط کی دھجیاں بکھیردیں

ملتان (نیوزڈیسک)گورنر پنجاب کے احکامات کی روح کے خلاف فیصلے، قائمقام وائس چانسلر نے سنڈیکیٹ کے فیصلے ہوا میں اڑانا شروع کردیئے۔

طویل عرصے سے مستقل وائس چانسلر سے محروم بہاالدین زکریا یونیورسٹی میں ایک اور سنگین بے قاعدگی کا انکشاف ہوا ہے جس کے مطابق قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر طارق محمود انصاری نے یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اپنے صوا بدیدی اختیارات کے نام پر اکیڈمک کونسل اور یونیورسٹی سنڈیکیٹ کا نام استعمال کرتے ہوئے پبلک ایڈمنسٹریشن کے ایم اے اور بیچلرز پروگرام کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی طور پر شعبہ سیاسیات سے چھین کر انسٹیٹیوٹ آف بینکنگ اینڈ فنانس کے حوالے کردیا ہے۔حالانکہ یونیورسٹی سنڈیکیٹ کا یہ فیصلہ قواعد کی رو سے صرف اور صرف یونیورسٹی کا سینیٹ ہی تبدیل کر سکتا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ ملتان ویمن یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی تقرری بارے ایک کیس میں ہائیکورٹ کی قرار دے چکی ہے کہ قائم مقام وائس چانسلر کی تقرری چھہ ماہ سے زیادہ میں ہو سکتی ۔ اس فیصلے کی رو سے ڈاکٹر طارق انصاری کی چھہ ماہ بعد دوبارہ تین ماہ کے لئے بطور قائم مقام وائس چانسلر تقرری بذات خود پنجاب حکومت کے لئے سوالیہ نشان ہے ۔

واضح رہے کہ دو برس پہلے گزشتہ وائس چانسلر نے یونیورسٹی سنڈیکیٹ کی منظوری کے بعد انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کو تحلیل کر کے طلبا و طالبات کے مفاد میں ایم اے پبلک پالیسی اور ایم اے پبلک ایڈمنسٹریشن کواسی فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز کے اندر شعبہ سیاسیات کو منتقل کر دیا تھا۔

بعد میں سنڈیکیٹ کے اسی فیصلے کی روشنی میں وائس چانسلر نے بی ایس پبلک ایڈمنسٹریشن اور پبلک پالیسی کے چار سالہ کورسزاور ایم فل پبلک ایڈمنسٹریشن کے کورسز بھی شعبہ سیاسیات کو منتقل کر دئیے تھے۔ لیکن موجودہ قائم مقام وائس چانسلرڈاکٹر طارق محمود انصاری نے یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے گزشتہ فیصلوں کو بیک جنبش قلم مسترد کرتے ہوئے ایم اے پبلک ایڈمنسٹریشن اور بیچلر آف پبلک ایڈمنسٹریشن کے پروگرام فوری طور پر فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز سے باہر فیکلٹی آف کامرس، لا اینڈ بزنس ایڈمنسٹریشن کے شعبہ انسٹی ٹیوٹ آف بینکنگ اینڈ فنانس کو منتقل کر دیئے ہیں۔

ڈاکٹر طارق محمود انصاری کے اس تازہ فیصلے کی بدولت مذکورہ پروگرامز کے ایسے طلبا و طالبات جو ایک یا ایک سے زیادہ مضامین میں فیل ہو چکے ہیں ان کے لئے انتہائی تشویشناک اورمضحکہ خیز صورت حال پید اہو چکی ہے کہ ان کے باقی کلاس فیلوز کے مقابلے میں انہیں اپنی ڈگری کے لئے ایسی فیکلٹی اور شعبہ سے رجوع کرنا پڑے گاجن میں انہوں نے تعلیم ہی حاصل نہیں کی۔طلبا و طالبات اور ان کے والدین نے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس صورت حال کا نوٹس لیں تاکہ مستقبل میں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے لاہور کیمپس جیسے تنازع کی صورتحال سے بچاجاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں