مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ گرفتار

اسلام آباد(نیوزڈیسک)بھارتی فورسز نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ اور نیشنل کانفریس کے رہنما فاروق عبداللہ کو “متنازع قانون” کے تحت گرفتار کرلیا۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا تھا کہ بھارتی حمایت یافتہ سینئر سیاست دان اور بھارتی پارلیمان کے رکن کو مقبوضہ کشمیر میں پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے اس متنازع قانون کے تحت گرفتار کیا گیا، جو انتظامیہ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی کو بھی بغیر کسی الزام یا ٹرائل کے 2 سال تک قید رکھ سکتے ہیں۔

81 سالہ فاروق عبداللہ کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے سری نگر میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا، جن کی رہائش گاہ کو 5 اگست کے بھارتی اقدام کے بعد سے سب جیل قرار دیا گیا تھا۔

اس بارے میں پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار منیر خان کا کہنا تھا کہ کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ ان کی حراست کتنی طویل ہوگی۔

ادھر بھارتی نشریاتی ادارے انڈیا ٹوڈے نے رپورٹ کیا کہ فاروق عبداللہ کو سری نگر سے گرفتار کیا گیا جنہیں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سے نظربند کیا ہوا تھا۔اس سے قبل کشمیری رہنما شاہ فیصل کو بھی جموں و کشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں بھارتی سپریم کورٹ نے فاروق عبداللہ کی عدالت میں دائر درخواست پر نئی دہلی اور مقبوضہ جموں و کشمیر انتظامیہ سے جواب طلب کرلیا۔

بھارت کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی اور دیگر ججز پر مشتمل بینچ نے بھارتی حکومت اور ریاست کو نوٹس جاری کرتے ہوئے درخواست کو 30 ستمبر کے لیے سماعت کے لیے مقرر کردیا۔

علاوہ ازیں گزشتہ 4 دہائیوں سے فاروق عبداللہ کے قریبی دوست ویکو کا کہنا تھا کہ ‘ قانون کے اختیار کے بغیر غیر قانونی’ طور پر نیشنل کانفرنس کے لیڈر کو گرفتار کرکے انہیں آئینی حقوق سے محروم کردیا گیا۔

واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بعد سے درجنوں کشمیری سیاست دان اور رہنما گرفتار یا نظربند کردیا تھا، اس کے علاوہ مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ ہے اور انٹرنیٹ، موبائل سمیت تمام مواصلاتی نظام معطل ہے۔

یہی نہیں بلکہ اس سے قبل بھارتی انتظامیہ نے مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی کو نظر بند اور بعد ازاں گرفتار کرلیا تھا جو 40 روز سے زائد گزرنے کے باوجود تاحال زیرحراست ہیں۔

اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وادی کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے اب تک 4 ہزار افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔

تاہم ان سب پابندیوں مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 6 ہفتوں میں بھارتی حکومت کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً 20 احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں