فاروق عبداللہ سے فاروق حیدر تک

تحریر: مظہر اقبال
پبلک سیفٹی ایکٹ کے کالے قانون کا بے دریغ استعمال کرنے والے مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ خود اس قانون کا شکار ہوگئے۔امید ہے اب ان کو اوران کے خاندان کو بھارت کے سیکولرازم کے سحر سے باہر نکلنے میں آسانی ہوگی۔ محبوبہ مفتی پہلے ہی فرما چکی ہیں کہ ’ہم پاکستان پر انڈیا کو ترجیح دینے میں غلط تھے‘۔

فاروق عبداللہ ہو یا فاروق حیدر ، تمام کشمیری اب اپنی بقا کی جنگ ایک ہی نقطے پر لڑ یں گے۔کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ کشمیر پاکستان کی نظریاتی سرحدوں پر ابھرنے والا وہ ستارہ ہے جسے قبیلائی، مقامی، علاقائی اور جغرافیائی سرحدوں تک قید نہیں کیا جا سکتاہے۔دنیا بھر میں آزادی کی تحریکوں کی طرح کشمیر یوں کی سیاسی جدوجہد میں بھی رہنماؤں کا کردار کسی نہ کسی حوالے سے تنقید کا شکار رہا ہے ۔ تاہم مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ ہوں یا آزاد کشمیر کے موجودہ وزیر اعظم فاروق حیدر، کشمیری رہنما بلاتخصیص سیاسی قد کاٹھ کشمیریوں کی موجودہ تحریک میں کشمیریوں کی امنگوں کے تحت اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ 2019 کے واقعات کے بعد ان کے پاس دوسرا آپشن موجود نہیں ہے۔

کشمیر کی سابق یا موجودہ قیادت مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل میں کس حد تک مؤثر رہی ہے اس پر بحث ہوتی رہی ہے اور جاری رہے گی۔ تاہم حالیہ سیاسی اور قومی بحران کے تناظر میں پاکستان کے عوامی، حکومتی، صحافتی اور دانشور حلقوں میں ایک تاثر یہ تخلیق ہوتا ہوا نظر آرہا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کو ان کی اوقات سے بڑھ کر اہمیت دے کر خطے کی سالمیت کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ اس بیانیے کو ان حلقوں میں زیادہ پزیرائی مل رہی ہے جہاں طاقت کا نشہ سر چڑھ کر بولتا ہے۔ اسی بیانیے کو سامنے رکھتے ہوئے مسئلہ کشمیر کی مسلمہ تاریخی حیثیت کو نیا رخ دینے کی کوشش کی جا ر ہی ہے۔ استصواب رائے کشمیریوں کے سیاسی سفر کی اسا س ہے۔ اور کشمیری عوام سات دہائیوں سے استصواب رائے کے ذریعے ہی مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں۔

مگر ایک جانب بھارت مقبوضہ کشمیر میں شناخت اورنظریات کی بنیاد پرمسلمان آبادی کو ظلم و جبر کا نشانہ نہ بنا رہا ہے اور دوسری جانب پاکستان میں سیاسی بونے اپنا قد بڑھانے کے لیے طرح طرح کے بیانات داغ رہے ہیں۔ بھارت کشمیر کی حیثیت بدلنے کے بعد علاقے سے مسلمانوں کی موجودگی کو ختم کرنے کے درپے ہے ،مقبوضہ کشمیر کی تما م سیاسی قیادت جیلوں میں ہے جبکہ آزادکشمیر کے سیاسی ماحول کی جان بوجھ کر فروعی مسائل میں الجھا یا جا رہا ہے۔ جموں وکشمیر کے دونوں حصوں میں زمینی حقائق جس قسم کی قیادت کا تقاضا کرتے ہیں وہ بہر صورت موجود ہے۔ جس خطے کی سیاسی و سماجی تقسیم کی تہیں نسل در نسل منتقل ہو رہی ہوں وہاں کسی ہمہ گیر نظریاتی تحریک کا پروان چڑھنا ایک مشکل اور پیچیدہ عمل ہے۔اس قسم کی صورت حال میں عوامی سطح پر جو بھی قائدانہ کردار ادا کر رہا ہو اسے ایک خاص حد تک ابھرنے کا موقع بہرحال مل جاتا ہے۔ قیادت کے کردار کے حوالے سے کشمیر ی متفق اور متحد پہلے بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں، مگر اس کے باوجود جموں و کشمیر میں ایک متحرک سیاسی قیادت ہمیشہ موجود رہی ہے۔

مسئلہ کشمیر کے تناظر میں کشمیریوں کی قیادت مشکلات کے باوجود خاصی متحرک ہے اور بلا تخصیص قد کاٹھ تحریک آزادی میں اپنا کردار ادا کرتی نظر آتی ہے۔ بھارت نے سیکیولرازم کے ذریعہ کشمیریوں کے ساتھ جس نام نہاد تعلق کی بنیاد رکھی تھی تو وہ فاروق عبداللہ کی گرفتاری سے بہت پہلے ختم ہو چکا ہے۔ بھارت کے آئین سے آرٹیکل 370 کا اخراج ہی اس رشتہ کو ختم کرنے کے لئے کافی تھا، مگر اس پر مہر تصدیق اس وقت ثبت ہو گئی جب جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ۔ اس قانون کے تحت کسی بھی شخص کو دو سال تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔

بقول حامد میر جنرل ایوب خان کو’کاغذی فیلڈ مارشل‘ قرار دینے والے راجہ حیدر خان کا بیٹا اور آزادکشمیر کا موجودہ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان بڑی عاجزی اور انکساری کے ساتھ اپنے دل کے زخم ہتھیلی پر رکھے اپنوں سے انصاف طلب کر تا ہے۔ راجہ فاروق حیدر جموں وکشمیر کے جس حصے کے وزیراعظم ہیں وہاں طے شدہ کشمیر پالیسی سے انحراف کی گنجائش نہ پہلے تھی اور نہ اب ہے۔ مگر اس کے باوجود ان کی کشمیریت کبھی جوش مارنے لگے تو سیاسی بونے مجمع لگانے میں دیر نہیں لگاتے ہیں۔ کشمیر کے لیے آخری گولی، آخری فوجی اور آخری پاکستانی قربان کرنے کا دعویٰ کرنے والے فیاض چوہان کی خدمت میں کچھ گزارشات عرض ہیں۔

آپ کی یاد دہانی کے لیے عرض ہے کہ مظفرآباد کے سب سے بڑے چوک میں راجہ فاروق حیدر کی پھانسی کی مطالبہ کرتے ہوئے آپ ایک ہی سانس میں چارج شیٹ بھی پڑھ کر سناتے ہیں اور پھر دوسری ہی سانس میں کشمیر پر مر مٹنے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ پہلے تو آپ یہ فرماتے ہیں کہ ۔ کشمیر ی کھاتے پاکستان کا، پہنتے اور اوڑھتے پاکستان کا دیا ہوا ، عہدے اور وزارتیں پاکستان سے لیتے ہیں اور آزادی بھی پاکستان سے مانگتے ہیں۔ ایسے کشمیریوں کی بقول ان کے سزا پھانسی کے سوا کیا ہوسکتی ہے جو آزادی کی بات کرتے ہیں۔ اور پھر دوسری ہی سانس میں آخری گولی، آخری فوجی اور آخری پاکستانی قربان کرنے کی بات بھی کرتے ہیں۔

جب تک کشمیر کا ایک بھی باشندہ زندہ ہے آپ کو آخری گولی، آخری فوجی اور آخری پاکستانی قربان کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔کشمیرکے سرپھرے نوجوان اسلام کے نام پر مر مٹنے کا جذبہ لے کر اپنے خون سے اس تحریک میں حصہ ڈالتے رہیں گے جس کا آغاز انہوں نے جولائی 1931ء میں سرینگر سے کیا تھا۔ کشمیریوں کو خود سے الگ کر کے آپ اپنی بقا کی جنگ نہیں لڑ سکتےہیں۔ ذرا تصور کریں اگر دنیا کے نقشے پر جموں و کشمیر نام کی کوئی ریاست موجود نہ ہوتی تو آپ کو ایک خونی لکیر کہاں کھینچنی پڑتی۔ 13 جولائی سن 1931ء کوہزاروں کشمیریوں نے عبدالقدیر نامی کشمیری رہنما ء کو باغی قرار دیکر گرفتار کرنے پر سرینگر سنٹرل جیل کے سامنے احتجاج کیا اورظہر کی نماز کے وقت جب مظاہرین میں سے ایک نوجوان نے نماز کے لیے اذان دی تو ایک ڈوگرہ سپاہی نے گولی چلادی جس سے اس موذن کی موت ہوئی اسی اذان کو اسی مقام سے ایک دوسرے نوجوان نے شروع کیا لیکن اسے بھی گول ماردی گئی تاریخ کے مطابق اس طرح بائیس نوجوان ہلاک ہوئے تب یہ اذان تکمیل کو پہنچی۔اس قتل عام کی یاد میں ہر سال کشمیر میں 13 جولائی کویوم شہدائے کشمیر منایا جاتاہے۔آپ کو یاد رہے کہ یہ واقعہ قیام پاکستان سے پہلے کا ہے۔

تقسیم ہندوستان کے زخم دو قومی نظریے کے بطن سے پیدا ہونے والے وجود کو اپنے پاوں پر کھڑا ہونے سے آج بھی ویسے ہی روک رہے ہیں جیسے سات دہائیاں قبل روک رہے تھے۔ ہندو ازم اپنی اصلی اور بھرپور شبیہ لئے آپ کے دروازے پر دستک دے رہا ہے ۔

کشمیر آپ کی شہ رگ ہے، اگر کٹ گئی تو وجود کو سنبھالنا تو درکنار اسے زندہ رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ اس شہ رگ میں دوڑنے والا کشمیر ی خون دو قومی نظریے کی کوکھ سے پھوٹنے والے وجود کوآج بھی توانائی مہیا کر رہا ہے۔ سری نگر کے مزارِ شہداء میں مقبول بٹ اور افضل گرو کی قبریں خالی ہیں مگر ان کو لاکھوں سینوں میں آج بھی پرستش کی حد تک یاد رکھا جاتا ہے۔ یاسین ملک ، علی گیلانی اور فاروق حیدر جیسے ان گنت کشمیری اپنے حصے کے دیئے جلائے ہوئے طوفانوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ مگر کھمبیوں کی طرح اگنے والے فصلی بٹیروں کے پاس جو سیاسی توہم پرستی کا شکار ہو کر کشمیریوں کے خون سے سینچی جانے والی دھرتی کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھتے ہیں ، یہ ادراک بھی نہیں کہ اپنا قد اپنے لیڈروں سے اوپر لے کر جانے والوں کو دنیا کس نام سے یاد کرتی ہے۔

مظفرآباد کے جس چوک پر آپ پھانسی گھاٹ لگانا چاہتے ہیں، وہاں آپ کے مرشد و رہنما کشمیر کے ترانے پڑھتے ہیں اور وعظ ونصیحت کرتے نظر آتے ہیں۔ کشمیریوں کو واعظوں سے شغف ہے اس لیے جو بھی منبر سنبھال لے اس کی بات غور سے سنتے ہیں۔ اسی مظفرآباد میں کئی دہائیاں قبل کشمیر کی آزادی کے نام پر لشکر کشی بھی ہوئی اور پھانسی گھاٹ بھی کشمیریوں کا مقدر ٹھہرے۔ مگر آپ فکر مند نہ ہوں، کشمیریوں کی محبت میں آپ کو آخری گولی، اور آخری آدمی کی قربانی کی نوبت نہیں آئے گی۔ اس لیے کی خونی لکیر کے دوسری جانب جو کھیل کھیلا جا رہا ہے اس کی گیند بال ٹھاکرے کی شیو سینا کے سینکوں کے ہاتھوں سے ہوتی ہوئی اب راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس) کے ستیش پونیا جیسے کٹر مذہبی جنونیوں کے ہاتھوں میں آ چکی ہے۔ جن کا دھرم یہ ہے کہ دو قومی نظریے کے اصل خالق ہیں اور انہوں نے ہی ہندوستان سے مغلوں اور انگریزوں کو چلتا کیا تھا۔ وہ یہ عہد وپیماں کر چکے ہیں کہ ہندوستان اگر کسی ملک کا نام ہے تو وہ صرف ہندو قوم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں