قبائلی عمائدین کشمیریوں سے یکجہی کیلئے مظفرآباد پہنچ گئے، بھارت مخالف ریلیاں اور جلوس نکالے

مظفرآباد (سٹیٹ ویوز)سینکڑوں قبائلی مشیران، عمائدین اور نوجوان قبائلی مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لئے دارلحکومت مظفرآباد پہنچے جہاں منگل کے روز انہوں نے پریس کلب سے اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور آفس اور وہاں سے چھتر چوک تک ریلی نکالی اور مارچ کیا ۔ مارچ کی قیادت مہمند ایجنسی سے خان بہادر، اورکزئی ایجنسی کے ملک زبیر ، شمالی وزیر ستا ن سے سمیع اللہ ، جنوبی وزیر ستان سے ملک محمد یوسف مسعود ، کرم ایجنسی سے ملک جلال حسین بنگش،ابرار جان طوری،حشمت علی بنگش ، ریاض حسین طوری، حاجی تصویر ، یوسف حسین، باجوڑایجنسی سے انیس خان وزیر ،ڈاکٹر خلیل، ملک مظہر شاہ ، واڑی خان ، حفیظ اللہ وزیر ، خان ممتاز خان ، نوابزادہ وہاب خان ،ملک بہادر شاہ ، احمد نور، مفتی حنیف اللہ ، ملک ایاز، حاجی اکبر خان، عزیز ملک ، حاجی نذیر جبکہ آزاد کشمیر کی نمائندگی وزیر ٹیوٹا وآئی ٹی ڈاکٹر مصطفی بشیر عباسی ، ممبر اسمبلی عبدالماجد خان ، شوکت جاوید میر ، پاسبان حریت کے عزیر احمد غزالی اور مشتاق الاسلام نے کی ۔

ریلی کے شرکاءنے مختلف کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیر کی آزادی تک جنگ رہے گی جنگ رہے گی ،بھارتیو کشمیرکو چھوڑ دو ، ہندوستان کی بربادی تک جنگ رہے گی جیسے نعرے درج تھے ۔ ریلی چھتر چوک پہنچ کر جلسہ کی شکل اختیار کر گئی ۔جلال حسین کرک نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم سارے قبائل اکھٹے ہو کر یہاں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے آئے ہیں ۔ ہم مودی سرکار کو بتا نا چاہتے ہیں کہ ہم سارے قبائل مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ہیں ۔ جسطرح قبائل نے پہلے کشمیریوں کی آزادی کے لئے جانیں دیں اسی طرح پھر قربانیاں دینے کے لئے تیار ہیں ۔ میں تمام اسلامی ممالک ، اقوام متحدہ سے اپیل کرتاہوں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کا نوٹس لیں ۔ کشمیرمیں لاک ڈاﺅن ہے ، کرفیو ہے۔

ممبر صوبائی اسمبلی اجمل خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم باجوڑ وزیر ستان تک کے قبائل مظفرآباد آئے ہیں ۔ اس مقصد کے لئے آئے ہیں کہ کشمیری بھائیو ہم آپ کے ساتھ ہیں ۔ ہمارے اجداد آپ کے ساتھ تھے ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں ہمارے بچے بھی آپ کے ساتھ رہیں گے ۔ مودی کو پیغام دیتے ہیں امن کی طرف آﺅ بات کریں ۔ دنیا کا کوئی مسئلہ نہیں جو حل نہ ہو سکتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ بہادر افواج دنیا کی مضبوط جنگجو فوج ہے جدید ایٹمی طاقت سے لیس فوج ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح کشمیری ایل او سی کو نہیں مانتے اسی طرح ہم قبائل بھی ایل او سی کو نہیں مانتے ۔ قبائل سارے کشمیر کو آزاد کرائے گا۔ قبائلی کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑ یں گے ۔ ابرار جان طوری (کرم ایجنسی ) نے خطاب کرتے ہوئے کہا کے سارے قبائل یہ سمجھتے ہیں کہ مودی نے آرٹیکل 370اور 35اے ختم کیا ہے تو یقین جانیے یہ اقدام کشمیریوں کی آزادی کا باعث بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ 1947میں بھی قبائل نے ہندﺅں کو سبق سکھایا تھا اب پھر سکھائیں گے ۔ ہم کلمہ گو مسلمان ہیں ۔ اسلام کی راہ میں شہید ہونے والے زندہ ہوتے ہیں ۔ عالمی برادری سے مطالبہ ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کا محاصرہ ختم کرائے ۔ ہم ساجد علی طوری کے قیادت میں یہاں آئے ۔ گل ظفر خان ممبر قومی اسمبلی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں سے ہمارا رشتہ بہت پرانا ہے ۔ ہندوستان ہوش کے ناخن لیتے ہوئے کشمیریوں پر ظلم بند کرے ۔ قبل اس کے ہم ہندوستان کے خلاف بندوق اٹھائیں ہندوستان کشمیر کو چھوڑ دے ۔ملک محمد یوسف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت کی طرف سے اشارہ ملنے کے منتظر ہیں مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کو بھارت کے ظلم سے چھڑانے کے لئے تیار ہیں ۔

مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلئے دارلحکومت مظفرآبادآنے والے قبائلی مشیران، عمائدین اور نوجوان قبائلیوں نے واضح کیا ہے کہ ہندوستان کشمیر کو زیادہ دیر تک قبضہ میں نہیں رکھ سکے گا۔ ہندوستان کی فوج ایک بزدل فوج ہے جو قبائلیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ 80لاکھ قبائلی مظلوم کشمیریوں کی پشت پر کھڑے ہیں ۔ حکومت کی طرف سے اشارہ ملنے کی دیر ہے ہم آگے تک جائیں گے اور کشمیریوں کو آزاد کرائیں گے ۔ پاکستانی قوم ، حکومت اور فوج متحد اور منظم ہے اور ہم اپنے وطن کا دفا ع کرنا جانتے ہیں۔ بھارت امن کا راستہ اختیار کرے ورنہ اس کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ قبائلیوں کا بچہ بچہ اپنے مظلوم کشمیریوں کی آزادی کےلئے لڑے گا۔ منگل کو یہاں سینٹرل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ۔

ایم این اے گل ظفر خان نے کہاکہ گجرات کے مودی کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ آ پ ماضی کی طرح اپنی سوچ چھوڑ دیں ۔ آج کے پاکستان کے بارے میں تمہاری سٹڈی نہیں ، پاکستان کی فوج دنیا کی بہترین ، منظم اور وار ایکسپرٹ فوج ہے ۔ آج پاکستان جدید اسلحے اور میزائل سے لیس ایٹمی طاقت ہے ۔ مودی اور اس کے کارندوں کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ آپ کے ساتھ کیا ہوگا۔ ہم قبائل اس دن باجوڑ، مہمند، خیبر ، کرم ، اورکزئی ، شمالی و جنوبی وزیر ستان اپنے گھروں میں نہیں بیٹھیں گے ۔ تم ہم کو ادھر کشمیر کے بارڈر پر پاﺅ گے اور اپنے بھائیوں کے ساتھ ہونگے ۔ ہم اپنی تاریخ کو دہرائیں گے اور نئی تاریخ رقم کرینگے ۔ جس طرح کشمیری ایل او سی کو نہیں مانتے ہم اس کو تیس نہس کر دینگے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم پورے مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی بات کرتے ہیں ۔

گل ظفر ایم این اے نے کہاکہ ہم اظہار یکجہتی کےلئے آئے ہیں ۔ فوج کی طرف سے کال کا انتظار کررہے ہیں ۔ کشمیر کی ماﺅں ، بہنوں کا احساس ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں 40دن سے کربلا کا منظر ہے۔ کربلا کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے ہم یقین دلاتے ہیں کہ ہم کو ایک حکم کا انتظار ہے ۔ ہم دشمن کو سمجھا رہے ہیں ، روس کا جو حشر کیا وہ حشر ہندوستان کا کرینگے ۔ بہادر لوگوں کے حصے میں ہمیشہ آزادی آئی ہے ۔ ہمیں اپنے وزیر اعظم اور فوج پر پورا یقین ہے ۔ خلیل الرحمان باجوڑ نے کہاکہ کشمیر کے ساتھ ہمارے رشتے ہیں ۔ ہمارا ان سے انسانیت ، اسلام اور مظلومیت کا رشتہ ہے ۔ 1948میں ہمارے آباﺅ اجداد کی قبریں ہیں جب تک یہ قبریں ہیں تعلق ختم نہیں ہو سکتا، ان کی پشت پر 80لاکھ قبائل کھڑے ہیں ۔ جب تک قبائل زندہ ہیں کشمیری اکیلے نہیں ۔ مودی کو ہمارا پیغام ہے کہ بزدل انسان آپ کو مظلوم بچوں اور بزرگوں کا احساس نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتا ہوں کہ یہاں جنگ کا خدشہ ہے ۔قبل اس کے کہ یہاں عالمی جنگ شروع ہو حالات کو سنبھالا جائے پھر ہم اقوام متحدہ کو نہیں مانیں گے ۔ مہمند ایجنسی سے ملک خان بہادر نے کہاکہ مودی نے جو مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کا بازار گرم کررکھا ہے اس کو فوری ختم کرو۔ ہماری تاریخ اچھی طرح جانتے ہو۔ تمہارے ظلم کا جواب ہمارے پاس ہے ۔ قبائلی اور پاک آرمی آپ کو ایسا سبق سکھائیں گے کہ آپ کو یاد رہے گا۔ عمران جان خان ضلع کرم نے کہاکہ بھارت نے 370اور35اے کو ختم کر کے اپنے آئین کی خلاف ورزی کی ہے ۔ 1948میں ہمارے آباﺅ اجداد نے کشمیر کو آزاد کروایا اور اب اگر پاک فوج حکم دے تو اب بھی لڑنے کےلئے تیار ہیں ۔ ہم شہادت کو نئی زندگی سمھتے ہیں ۔ او آئی سی ، اقوام متحدہ صورتحال کا نوٹس لے ۔ اس تحریک کو ہم صرف مظفرآباد تک محدود نہیں رکھیں گے ۔

اس موقع پر ایم ایل اے عبدالماجد خان نے کہاکہ میں ان کو خوش آمدید کہتا ہوں ۔ خان عبدالقیوم خان کی نسل سے ہوں ، آج یہ دوبارہ آئے تو میں ان کے ساتھ بیٹھا ہوا ،جو میرے لیے اعزاز کی بات ہے ۔ جلال حسین پارہ چنار نے کہاکہ ہم یہاں اظہار یکجہتی کےلئے آئے ہیں ہم کربلاکے ماننے والے ہیں۔ امام حسین ؓ کا پیغام ہے کہ کبھی ظالم کے سامنے سر نہ جھکائیں ۔ اپنے مظلوم بہن بھائیوں کو تنہاءنہیں چھوڑیں گے ۔ آئندہ ہم لشکر کے ساتھ ہیں ۔ ملک زبیر نے پشتومیں بات کرتے ہوئے کہاکہ 1948میں بھی قبائل نے کشمیر کےلئے قربانی دی اور ہم پھر قربانی دینگے ۔ حکومت کی طرف سے اجازت کا انتظار ہے ۔ ہم مودی کے خلاف لڑنے کےلئے تیار ہیں ۔ حاجی محمد یوسف نے کہاکہ ہم نے پہلے بھی قربانیاں دیں اور اب بھی کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔ ہم یہاں سیر کےلئے نہیں آئے ۔ ہم انتظار کررہے ہیں کہ حکومت ہمیں اشارہ دے اور اہم آگے جا کر دشمن سے لڑیں ۔ کشمیریوں کے لئے سارا پاکستان متحد ہے ۔ سخی خٹک نے کہاکہ تمام مہمانان کو یہاں خوش آمدید کہتے ہیں ۔یہاں 60سے70ہزار پٹھان رہتے ہیں آپ کو آنے کی ضرورت نہیں ۔ آخر میں انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی .

اپنا تبصرہ بھیجیں