قومی پارلیمانی کشمیر کانفرنس میں وزیراعظم آزادکشمیر دوران خطاب آبدیدہ،دل کی بات کہہ ڈالی

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز)سینٹ آف پاکستان کے زیراہتمام قومی پارلیمانی کشمیر کانفرنس میں وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدرریاستی عوام کے دل کی بات اپنی زبان پر لے آئے۔

تفصیلات کے مطابق قومی پارلیمانی کشمیر کانفرنس میں دوران خطاب وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر مقبوضہ کشمیرکی صورتحال بیان کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے ،انہوں نے وفاقی حکومت کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی بہن بیٹیاں روز صبح دروازہ کھول کردیکھتی ہے کہ پاک فوج کے جوان ان کی مدد کو آئے یا نہیں،انہوں نے حکمران طبقے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ڈالروں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کیا آپ انہی ڈالروں کو چبائیں گے۔

وزیراعظم کے جذباتی خطاب سے متعدد اراکین پارلیمنٹ کی آنکھیں نم،وزیراعظم نے وزیر خارجہ اور فردوس عاشق اعوان کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ایک خاتون مشیر بغیر سوچے سمجھے ہرروز نیا بیان ٹھوک دیتی ہے۔ اگر کشمیر امت مسلمہ کا مسئلہ نہیں تو فلسطین بھی امت کا مسئلہ نہیں۔ ہر ملک کے اپنے مفادات ہیں۔ جن ممالک پر ہمیں سب سے زیادہ تکیہ تھا وہ مودی کو ایوارڈ دے رہے ہیں۔ کشمیر کے مسئلہ پر اب ہمیں سیاسی سفارتی اقدامات سے مطمئن نہیں کیاجاسکتا ہمیں عملی اقدامات چاہیے۔ ہم وزیراعظم کی جنرل اسمبلی کی تقریر کے منتظر ہیں۔

وزیراعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ 72 سال سے کشمیری عوام آزمائش کا سامنا کر رہی ہے، جموں میں نومبر 1947 کو 20 دن میں 2 لاکھ سے زائد کشمیریوں کا قتل عام کیا گیا اور 3 لاکھ سے زائد کشمیریوں نے پاکستان کی جانب ہجرت کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ آج مقبوضہ وادی میں 1 لاکھ سے زائد شہادتیں ہوچکی ہیں اور 10 ہزار سے ایسی خواتین ہیں جنہیں معلوم نہیں کہ ان کے شوہر لاپتہ ہیں یا مارے جاچکے ہیں، 10 ہزار خواتین کی آبرو ریزی کی جاچکی ہے، 10 ہزار سے زائد بچے یتیم کیے جاچکے ہیں، سیکڑوں نوجوان بچے اور بچیاں آنکھوں کی بصارت سے محروم کیے جاچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے آپ کو خطے میں برطانوی راج کا وارث سمجھتا ہے، اپنے آپ کو ابھرتی ہوئی، فوجی اور اقتصادی قوت سمجھتا ہے جبکہ مودی نے چالاکی سے بھارت میں کثیر تعداد میں لوگوں کو یکجا کرلیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘قومی سلامتی کے اجلاس میں بھی میں نے کہا تھا کہ اگر کشمیریوں کا یہ جھنڈا گر گیا تو بھارت کا اگلا نشانہ پاکستان ہوگا۔

راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان نے پلوامہ حملے کو سانحہ قرار دیا جس کی میں مخالفت کرتا ہوں، اصل سانحہ تو ہمارے ساتھ ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ایک سیاسی جماعت تھی تاہم اس پر آر ایس ایس نے قبضہ کرلیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی جنگ دوئم کی وجہ ہٹلر کا قومیت کو ابھارنا تھا، بھارت بھی اس ہی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے پیرس میں ملاقات کے دوران نریندر مودی نے کہا تھا کہ 1947 سے پہلے ہم ایک ہی تھے، اگر اس کی بات کی گہرائی میں جائیں تو بھارت پھیلنا چاہتا ہے اور اس کے لیے اس نے سب سے پہلے کشمیر پر حملہ کیا اور بھارت کے راستے میں نہ بنگلہ دیش، نیپال اور دیگر کوئی بھی رکاوٹ نہیں بلکہ اس کے راستے میں صرف پاکستان ہی رکاوٹ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام آپ کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، اپنا حساب کتاب شروع کردیں، بھارت نے آج مقبوضہ کشمیر لیا ہے اور آزاد کشمیر کا بھی دعویٰ کیا ہے اور وہ پاکستان کے پانیوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ لاہور میں قرار داد پاکستان کے علاوہ قرار داد فلسطین بھی پیش کی گئی تھی تاہم فلسطین کے صدر محمود عباس نے مودی کو اپنے ملک کا سب سے بڑا اعزاز دے کر ہمارے دلوں کو ٹھیس پہنچائی ہے۔

آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں کسی کی لڑائی میں حصہ لینے سے قبل بھی اپنے مفادات دیکھنے چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ جب سے یہ مسئلہ بین الاقوامی سطح پر سامنے آیا ہے ہم نے چند کوتاہیاں بھی کی ہیں، بھارت کے ساتھ کشمیر پر مذاکرات نہیں کرنے چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے چالاکی سے کشمیر کو عالمی سطح پر علاقائی تنازع بنا کر پیش کیا، پاکستان نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ کشمیر ہمارا ہے بلکہ پاکستان کہتا ہے کہ کشمیر کی عوام کو ان کا حق ملنا چاہیے اگر ہم نے بھی اسے علاقائی تنازع بنایا تو ہم 700 سال تک کوشش کرتے رہیں گے مگر کوئی ہماری حمایت نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آزاد کشمیر کی حکومت اور حریت کانفرنس کو ایک چھتری کے نیچے لانا چاہیے جس نے آپ کے اور ہمارے کردار کا تعین کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ ہمیں آگے کریں ہماری بات سنی جائے گی آپ کی بات نہیں سنی جائے گی۔انہوں نے پاکستانی حکومت سے شکوہ کیا کہ پاکستان نے بھارتی سپریم کورٹ کے احکامات کی تائید کی، میں پاکستان کے اس بیان سے اختلاف کرتا ہوں کیونکہ حقیقت میں بھارتی سپریم کورٹ نے عالمی دباؤ سے نریندر مودی کی حکومت کو بیل آؤٹ کیا ہے۔

راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے اندر رہنے والے ہماری جانب دیکھتے ہیں کہ انہیں آزاد کرنے والے یہاں سے آئیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘میری نانی مجھے بچپن میں کہا کرتی تھیں کہ انہوں نے خواب دیکھا ہے کہ اس جانب سے کشمیر کی آزادی کے لیے ایک لشکر بڑھ رہا ہے اور تم بھی اس لشکر میں شامل ہو۔

انہوں نے آبدیدہ ہوکر سوال کیا کہ ‘آپ کو کیا ہوگیا ہے کیوں آخری کشمیری کے مرنے کا انتظار کر رہے ہیں، آزاد کشمیر پر حملے پر فوری بیانات جاری کیے جاتے ہیں مگر وہ کشمیری مارے جارہے ہیں اسے کون روکے گا۔انہوں نے کہا کہ ‘جن ممالک پر ہم تکیہ کرتے تھے انہوں نے کہا کہ اسے امت کا مسئلہ نہ بنائیں، اگر کشمیر امت کا مسئلہ نہیں تو فلسطین بھی ہمارا مسئلہ نہیں۔

وزیراعظم آزادکشمیر نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے بیانیہ دیاجاتاہے کہ آزادکشمیر پر حملہ ہوا تو بھرپور جواب دینگے تو کیا مقبوضہ کشمیرکے بھائیوں کو مرنے کیلئے چھوڑ دیا جائے ۔کشمیری قوم پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے ۔انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پر موثراقدام اٹھائیں جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر پاکستان کی ڈھال ہے، کشمیری صرف پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں، پاکستان ہی کشمیر کی آزادی اور اپنی بقا کا ضامن ہے.وزیر اعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ ‘کشمیر کی عوام لائن آف کنٹرول پر سب سے آگے کھڑے ہوں گے اور پاکستانی قوم سے کوئی گلہ نہیں تاہم ارباب اختیار سے کہتا ہوں کہ جب آپ سے خدا سوال کرے گا تو آپ کیا جواب دیں گے؟

ان کا کہنا تھا کہ ‘انسان کے لیے سب سے بڑی سزا ہے ذلت کی زندگی گزارنا ہے، وقت تیزی سے گزر رہا ہے، اگر آتش چنار بجھ گئی تو وہ مظلوم لوگ کسی کو معاف نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے فیصلہ کرلیا ہے آخری کشمیری تک اپنی آزادی کے لیے لڑیں گے، ہم نے جان، مال اور عصمتوں کی قربانی دی ہے اب ہمارے پاس گنوانے کو کچھ نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب وقت چلا گیا سیاسی، اخلاقی و سفارتی مدد کا، مجھے اب اس سے مطمئن نہیں کیا جاسکتا، اب ہمیں عملی اقدامات چاہیے ہیں، ہم وزیر اعظم کی اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کا انتظار کر رہے ہیں۔آخر میں انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کا کوئی بھی شخص میر جعفر میر صادق نہیں بنے گا، ہم حیدر علی کی طرح اپنا نام امر کریں گے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم فاروق حیدر کے خطاب کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ 27ستمبر کو کشمیر کا کیس بھرپور انداز میں پیش کریں گے.مشکل کی اس گھڑی میں پاکستانی قوم کشمیریوں کیساتھ کھڑی ہے کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ ایک عالمی تنازعہ ہے ۔27ستمبرکو وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ کے اجلاس میں کشمیر کا مقدمہ پیش کریںگے۔

وزیر خارجہ نے وزیراعظم آزاد کشمیر فاروق حیدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے احساسات اور جذبات سے آگاہ ہوں، وزیراعظم آزاد کشمیر سے کہتا ہوں ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہیں۔بھارت کے اندر کشمیر کی صورتحال پر مودی سرکار کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ مودی کے 5 اگست کے اقدام پر بھارتی سپریم کورٹ میں 14 درخواستیں زیر التوا ہیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر یہ قوم کل بھی ایک تھی اور آج بھی ایک ہے، اپوزیشن کے ساتھ اختلافات الگ بات ہے لیکن کشمیر پر ہم سب ایک ہیں۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل بہت ضروری ہے، پاکستان کی کوششوں کے باعث آج مغربی میڈیا بھی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر آواز اٹھارہا ہے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر دنیا کے افق پر نظر آنا پاکستان کی بڑی کامیابی ہے، پاکستان کی کوششوں سے 1965 کے بعد پہلی بارسلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر زیربحث آیا، جینیوا میں عالمی اداروں اور سول سوسائٹی نے بھی بھارتی موقف کی نفی کی۔

انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل میں روس نے اپنے رویے میں لچک دکھائی، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا موقف مسئلہ کشمیر کے حل کی شروعات ہے، مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل لےجانے میں چین نےاہم کردار ادا کیا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ شب پاکستانی عوام سو رہی تھی تو یورپ میں کشمیری عوام کا مقدمہ لڑا جارہا تھا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کا متفقہ اعلامیہ ہے کہ کشمیر میں فی الفور کرفیو ہٹایا جاۓ تاہم اس تنظیم کے کچھ ممالک کے خیالات میں خلیج ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں 45 دن سے مسلسل دن رات کرفیو نافذ ہے جبکہ مواصلاتی نظام بھی معطل ہے، کشمیر صرف زمین کا ٹکڑا نہیں، ہمارے لیے انتہائی اہمیت کا حامل خطہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں