موبائل گیمز کے بچوں پر مضر اثرات

تحریر:۔ راجہ محمد سہیل خان
ٹیکنالوجی کی وجہ سے جہاں انسان کو سہولیات میسر آئی ہیں وہیں اس نے انسان کی شخصیت پر بھی گہرے نقوش ثبت کیئے ہیں۔ کوئی بھی چیز بالذات اچھی یا بری نہیں ہوتی، اس کا استعمال اچھا یا برا ہوتا ہے۔ موبائل فون کا بھی یہی معاملہ ہے۔ موبائل فون، ایک ٹیلیفون کے ساتھ ساتھ ٹی وی، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، ریڈیو، وائرلیس فون، پیجر، ٹارچ، گھڑی، الارم، کیلکولیٹر، ٹیپ ریکارڈر، اسٹل کیمرا، مووی کیمرا، واک مین اور نہ جانے کیا کیا سہولیات فراہم کرتا ہے۔ دوسری طرف اسی موبائل فون سے عریانی، فحاشی اور دیگر بے پناہ معاشرتی مسائل اور الجھنیں بھی جنم لے رہی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک نے سمارٹ ڈیوائسز کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے اور کافی حد تک نوجوان نسل کو انکے منفی اثرات سے بچانے میں کامیاب رہے۔ترقی پذیر ممالک جو کہ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں جہاں بہت دیر سے شامل ہوئے وہیں انکے منفی اثرات سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور ان کے پاس ان کے منفی اثرات کے تدارک کے لیے نہ تو کوئی واضح حکمت عملی موجود ہے اور نہ ہی وہ اس حوالے سے اپنی عوام کو آگاہی فراہم کر سکے ہیں۔ جسکی وجہ سے انکی آنے والی نسلوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

یہ حقیقت ہے جو عالمی ماہرین کی تحقیق میں ثابت ہوچکی کہ اگر ایک طرف موبائل فون اور سیلولر سروسز نے ہمارے لیے آسانیاں پیدا کی ہیں تو دوسری جانب اس نے خطرناک ترین مسائل بھی کھڑے کردیے ہیں۔ سائنس دانوں نے امریکی قانون سازوں کو موبائل فون کے استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات سے آگاہ کیا ہے۔سمارٹ فونز کی ایجاد کے بعد موبائل گیمز کی طرف بچوں کا رجحان بڑھ گیا ہے اور اس سے بچوں کی شخصیت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔موبائل فون سے متاثرہ بچوں کے والدین شکایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ انکے بچے گیمز سے بری طرح عادی ہو چکے ہیں۔اکثر گیمز اس طرح ڈیزائن کی ہوتی ہیں کہ ان میں پر تشدد اور منفی سرگرمیوں کو ہوا دی جاتی ہے۔جسکی وجہ سے بچوں کی شخصیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ان گیمز کے عادی بچوں میں جارح پن اور پر تشدد رویے پروان چڑھتے ہیں۔والدین کا کہنا ہے کہ بچے جب اس طرح کی گیمز کے عادی ہوتے ہیں تو ان میں سے والدین کی نافرمانی کا عنصر اجاگر ہوتا ہے۔سکول جانے والے بچے اس طرح گیمز سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔جسکی وجہ سے انکی تعلیم بری طرح متاثر ہوتی ہے۔گیمز کا بخار اس حد تک چڑھتا ہے کہ وہ ان گیمز کو ہر چیز پرمقدم سمجھتے ہیں اور انکے روز مرہ کے معمولات بری طرح متاثر ہو کر رہ جاتے ہیں۔

کیتھولک یونیورسٹی آف لیون بیلجیم میں نفسیات کے لیکچرار جان وین ڈین بلک کے سروے کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک Teenagerموبائل گیمز کا عادی ہو کر اپنے ریگولر معاملات اور سونے کے اوقات پور ے نہیں کرتا جسکی وجہ سے انکے روز مرہ کے معمولات متاثر ہوتے ہیں اور اس وجہ سے نہ صرف انکے سماجی رویوں میں منفی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں بلکہ جسمانی صحت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ رائل سوسائٹی آف لندن نے ایک ریسرچ پیپر شائع کیا ہے جس کے مطابق وہ بچے جو بیس سال کی عمر سے پہلے موبائل فون کا استعمال کرنا شروع کردیتے ہیں ان میں انتیس سال کی عمر میں دماغ کے کینسر کے امکانات ان لوگوں سے پانچ گنا بڑھ جاتے ہیں جنھوں نے موبائل کا استعمال بچپن میں نہیں کیا ہوتا۔ تاہم موبائل فون کا استعمال، موبائل فون کے ذریعے آن لائن گیمز کا استعمال، موبائل فون میں انسٹالڈ گیمز کا استعمال، کمپیوٹر یا ٹی وی پر گیمز کا استعمال یا ویڈیو گیمز پر گیمز کے استعمال کے اثرات میں فرق ہے، اسی طرح گیمز کے اثرات بھی اس کی نوعیت پر منحصر ہیں۔ پر تشدد گیمز ایکسر سائز گیمز کی نسبت زیادہ نقصان دہ ثابت ہوئے ہیں۔ ماہرین متفق ہیں کھیل کود اور ورزش انسان کو صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور ویڈیو گیمز سمیت بیٹھ کر کھیلی جانے والے اکثر کھیلوں کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان سے وزن میں اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم ایک نئے مطالعاتی جائزے سے یہ دلچسپ انکشاف ہوا ہے کہ ویڈیو گیمز ایسے بھی ہیں جو بچوں میں موٹاپا کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے ویڈیو گیمز کھیلنے سے ورزش کے تقاضے کچھ نہ کچھ پورے ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ان کی تحقیق تمام اقسام کے ویڈیو گیمز کو جسمانی ورزش کا نعم البدل قرار نہیں دیتی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ویڈیو گیمز کے نفسیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق سائنس دانوں نے اپنی تحقیق میں یہ پایا کہ جو بچے ورزانہ ایک گھنٹے سے کم ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں وہ ان بچوں کے مقابلے میں معاشرے سے زیادہ ہم آہنگ ہوتے ہیں جو ویڈیو گیمز بالکل نہیں کھیلتے، لیکن جو بچے روزانہ تین گھنٹے سے زیادہ ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں وہ مجموعی طور پر اپنی زندگی سے کم مطمئن پائے گئے ہیں۔دی جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق موبائل فون کے استعمال سے بچوں کی دماغی صلاحیتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ بچے اگر موبائل فون استعمال کرتے ہیں تو اس سے ان کی سیکھنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ مزید یہ کہ ان کے رویوں پر خراب اثر پڑ سکتا ہے۔ کلاس روم میں بھی ان کا مزاج اور قابلیت متاثر ہوسکتی ہے، اگر وہ وقفے کے دوران فون استعمال کرتے ہیں۔بیلجیم، فرانس، بھارت اور سمیت دیگر ممالک میں بچوں کے فون استعمال کرنے کے حوالے سے قوانین پاس ہونے والے ہیں جبکہ چین سمیت ترقی یافتہ ممالک میں اس حوالہ سے قانون سازی موجود ہے۔ اس کے علاوہ انتباہ بھی سامنے آرہے ہیں۔ اسمارٹ فون بنانے والے بھی اسکے منفی اثرات کی طرف نشاندہی کر رہے ہیں۔

والدین کو چاہیے کہ وہ سولہ سے کم عمر بچوں کو موبائل کے استعمال پر پابندی لگائیں جبکہ قانون سازی کے ادارے اس حوالہ سے قانون سازی کریں۔ اس سلسلہ میں آگاہی مہم کی بھی اشد ضرورت ہے تعلیمی اداروں میں بچوں کو اس حوالے سے خصوصی لیکچرز دیے جائیں،موثر میڈیا مہم شروع کی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں صحت مندانہ سرگرمیوں کے بھرپور مواقعے فراہم کیے جائیں تاکہ ہماری آنے والی نسل اسکے منفی اثرات سے محفوظ ہو رہ سکے۔ ملک میں موبائل گیمز پر ریسرچ کے حوالہ سے ایک خصوصی سائبر کمیٹی تشکیل دی جائے جو موبائل گیمز کا جائزہ لینے کے بعد ہی انکی اجازت دے اور پرتشدد موبائل گیمز جن سے بچوں کی ذہنیت متاثر ہونے کا خدشہ ہے پر پابندی عائد کی جائے تاکہ مستقبل کے معماروں کی صلاحیتیں محفو ظ رہ سکیں اور وہ بہتر طریقے سے ملک و قوم کی خدمت کیلئے تیار ہوسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں