علماء نے ڈاکٹروں کا میڈیسن کمپنیوں سے لین دین حرام قراردیدیا،فتویٰ جاری

اسلام آباد(خواجہ تنزیل/ سٹیٹ ویوز)آج کل مختلف میڈیسن کمپنیز ڈاکٹرز کو نوازنے میں بُہت آگے تک جا چُکی ہیں ائیر کنڈیشنر، فریج اور کار تو اب ڈاکٹرز کیلیےمعمولی چیزیں بن گئیں اب ڈاکٹرز بیرون ممالک کے ویزے اور فیملی ٹوورز سے نوازے جانے لگے۔

ڈاکٹرز پرائیویٹ کلینکس پر کمپنیوں کے نمائندوں سے مُک مُکا کر کے سرکاری ہسپتالوں میں چیک ہونے والے مریضوں کو مہنگی ادویات لکھ کر کمپنیوں کو بزنس دینے میں مصروف ہیں کچھ دن پہلے بی بی سی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں ڈاکٹرز کا نُسخہ مریض کے لیے کم اور کمپنیوں کے لیا زیادہ لکھا جاتا ہے۔ اُس کے پیچھے وجہ تلاش کرنے پر معلوم ہوا کہ ڈاکٹرز اب مختلف میڈیسن کمپنیوں سے نقدی، قیمتی اشیاء اور فیملی ٹوورز کے ساتھ ساتھ اپنی اٹیچ فارمیسیز اور مارکیٹ شئیرز پر بھی پرسینٹیج لیتے ہیں.

اسی سلسے میں مختلف علماء کرام سے شرعی رائے لی گئی تو داتا دربار کے خطیب مولانا رمضان سیالوی صاحب ،خطیب بادشاہی مسجد مولانا عبدالخبیر آذاد صاحب ، مولانا طاہر قادری آف بہاولنگر ، مولانا حامد سعیدی صاحب آف بہاولپور اور پیر مظہر سعید کاظمی صاحب آف ملتان شریف اور دیگر عُلماۓ کرام کا کہنا تھا کہ یہ سب رشوت کے زمرے میں آتا ہےاور رشوت حرام ہے۔ حدیث شریف کا مفہوم بھی بیان کیا گیا “ رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں “ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کل ان ڈاکٹرز اور باقی لوگوں نے بھی ہائی اسٹینڈرڈ ہونے کیلیے سب کام جائز سمجھے ہوئے ہیں یہ سب کا دین اسلام سے دوری کا نتیجہ ہیں۔ مگر جن لوگوں کو حرام کھانے کی عادت پڑ چُکی ہے اُن کےلیے حلال حرام کچھ نہیں اُن کے لیے سب جائز ہے۔

حیرانگی اس بات پر ہے کہ ہمارے اینٹی کرپشن جیسے دیگر ادارے کیا کر رہے ہیں ہمارا نیب ڈیپارٹمنٹ کیا کر رہا ہے ہمارے تحصیل و ضلعی سطح کے ہیلتھ آفیسرز کیا کر رہے ہیں؟ کیا کہیں ملی بھگت تو نہیں ہے؟ کیا یہاں سب ایک دوسرے کے راز دار تو نہیں یا کچھ لے دے کر کام تو نہیں چل رہا؟ حالانکہ گذشتہ تمام حکومتوں کے دعوے تھے کہ کرپشن فری پاکستان اور Say no To Corruption وہ سب دعوے کہاں ہیں.

کیا پاکستان میں قانون غریب عوام کے لیے اور ہے اور امیر زادوں کے لیے اور؟ یا پھر مُلک پاکستان میں یونین سسٹم کامیاب ہے جو مرضی اُٹھے اپنی یونین بنائے اور جو مرضی کرے اُس سے پوچھنے والا کوئی نہیں۔

غربت کی ماری قوم کو علاج کے بہانے لوٹنے والوں سے کوئی پوچھنے والا ہے یا نہیں۔ آج سے چند سال قبل گائنی کی ڈاکٹرز حاملہ عورتوں کو نارمل ڈیلیوری کےمشورے دیا کرتی تھیں مگر اب پانچویں یا چھٹے مہینے میں یہ کہہ کر دماغی طور پر آپریشن کےلیے تیار کرنا شُروع کر دیتی ہیں کہ بچہ اُلٹا ہے یا بچہ ٹیڑھا ہے وغیرہ وغیرہ اس کی بڑی وجہ پیسے کی آمد بڑھانا ہے نارمل ڈیلیوری تو دائیاں بھی کر لیا کرتی ہیں اور ڈاکٹرز بھی مگر نارمل ڈیلیوری میں 8000 سے 10000 روپے ملتے ہیں جبکہ ایک آپریشن جو کہ سستے سے سستا ہو گا 30 سے 60000 روپے تک کا کرتے ہیں۔ دوسرے ممالک میں حاملہ عورت کے آپریشن کا نام تک نہیں لیا جاتا وہاں آخری حد تک نارمل ڈیلیوری کی کوشش کی جاتی ہے مگر سوہنے پاکستان میں کوئی پوچھنے والا جو نہیں تو یہاں سب چلتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں