نقطہ نظر/ظہیر سالک

مسئلہ کشمیر کا ممکنہ حل اور پاکستان کا کردار

کشمیر ایشو کے تناظر میں حالات لمحہ بہ لمحہ اور دن بہ دن تیزی سے بدل رہے ہیں ،گزشتہ ماہ جب ہندوستان نے یک طرفہ غیرآئینی اور غیر قانونی اقدام کے ذریعے کشمیر کی سپیشل آئینی حثیت کو ختم کر کے ہندوستان میں مرج کیا ہے اس وقت سے لیکر آج تک اس ریجن کے حالات بہت تیزی سے تبدیل ہوئے ہیں ۔

کشمیر ایشو کے تینوں فریق، کشمیری، ہندوستانی اور پاکستانی غیر یقینی صورت حال کا شکار ہیں ۔۔گزشتہ کل آزادکشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کی سینٹ کے پارلیمنٹرین کے سامنے تقریر اور بحثیت کشمیری جان دار موقف کی وجہ سے جہاں کشمیری عوام نے تمام پارٹی مفادات سے بالا ہوکر وزیراعظم کو سپورٹ کیا وہاں پر پاکستان کے مقتدر حلقوں میں موجودہ صورت حال کے پیش نظر کچھ بے چینی بھی پائی جاتی ہے۔

موجودہ صورت حال میں وزیراعظم آزاد کشمیر کا موقف کشمیری قوم کی اصل ترجمانی ہے ۔موقف دو ٹوک اور واضع ہے کہ کشمیری پچھلے 70 سالوں میں کشمیر پر پاکستانی موقف اور بے اثر پالیسیوں سے اکتا چکے ہیں اور پاکستان انٹرنیشنل لیول پر کشمیر کا کیس لڑنے میں مکمل ناکام ہو چکا ہے لہذا وقت کی ضرورت ہے کہ کشمیریوں کو خود ان کا کیس بین الاقوامی طور پر لڑنے دیا جائے ۔

دنیا ابھی تک کشمیر کو پاکستان اور انڈیا کے مابین ایک ٹریٹوریل ایشو کے طور پر دیکھ رہی ہے جبکہ یہ کئ ملین انسانوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اس مسلے کو نئی جہت دینے کے لیے کشمیریوں کو اپنا کیس خود لڑنا پڑے گا تاکہ بین الاقوامی دنیا ان کے بنیادی حق، حق رائے شماری کو تسلیم کرے، گزشتہ ادوار میں ساری پاکستانی حکومتوں کی کشمیر ایشو پر ناقص حکمت عملی کی وجہ سے آج ہورا خطہ اور اس میں بسنے والے بلین سے زیادہ انسان موت کے دہانے پر کھڑے ہیں۔

کشمیریوں کی پرامن جدوجہد کو اپنی پراکسیز کے ذریعے دنیا کے سامنے دہشت گردی کا لیبل لگوانے سے لیکر کشمیر کے اندر انڈین آرمی کے جماؤ تک پاکستانی حکومتوں نے کشمیر کی اس کے علاوہ کوئی خدمت نہیں کی ۔کشمیر پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں سے قطع نظر موجودہ پاکستانی حکومت بالخصوص وزیراعظم پاکستان عمران خان کا موقف بہت واضع، قابل قبول اور مبنی برحقائق ہے، اپنی کئی تقاریر اور انٹرویوز میں عمران خان نے واضع طور پر کہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کا واحد حل اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کشمیریوں کو استصواب رائے دینا ہے ۔

اس میں ہندوستان یا پاکستان کی مرضی یا منشاء سے زیادہ کشمیری عوام کی مرضی اور منشاء چلے گی اور یہی واحد حل ہے مسئلہ کشمیر کا۔کشمیر نہ تو پاکستان کی شہ رگ ہے اور نہ ہی ہندوستان کا اٹوٹ انگ بلکہ کشمیر کشمیریوں کا ہے اور اس کی تقدیر کا فیصلہ بھی انہیں ہی کرنا ہے۔

پچھلے 70 سالہ دور میں پہلی بار ایک سنہری موقع ہاتھ آیا ہے جہاں پر بال اس وقت مکمل طور پر پاکستان کے کورٹ میں ہے، اگر پاکستان ابھی دلیرانہ فیصلہ کرتے ہوئے آزاد کشمیر اورگلگت بلتستان پر مشتمل ایک عبوری حکومت قائم کروا کر چین اور چند عرب ممالک سے اسے بحثیت الگ ملک تسلیم کروا کر کشمیریوں کو ان کا کیس خود لڑنے دے تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس میں ہر لحاظ سے پاکستان کا سراسر فائدہ ہے، ہندوستان ایک بند گلی میں داخل ہوجائے گا جہاں ہر اسے مجبورا کشمیر پر رائے شماری کروانی پڑے گی ۔

یہی اس مسئلہ کا واحد حل ہے آج ہو یا 50 سال بعد ہو۔۔۔اگر مذید دیر ہوئی تو ہندوستان اہنے مقبوضہ حصے کی ڈیموگرافی بدل کر رکھ دے گا پھر رائے شماری کا فائدے بجائے الٹا نقصان ہوگادوسرا ممکنہ حل جنگ ہے اور جنگ کی صورت میں دونوں ملکوں کے پاس صرف زمین کے ٹکڑے رہ جائیں گے انسان نہیں ۔۔۔۔دونوں ممالک روایتی جنگ لڑ کر کبھی ایک دوسرے سے کشمیر چھین نہیں سکتے اور نتیجہ الٹیمیٹ ایٹمی جنگ ہوگیپھر دونوں کے پاس پانے کے لیے اور کھونے کے لیے کچھ بھی نہیں بچے گا۔

لہذا پاکستانی لیڈرشپ کو خواہ وہ سویلین لیڈرشپ ہو یا ملٹری جلد فیصلہ کر کے اس ممکنہ حل کی طرف پیش قدمی کرنی ہوگی. ۔۔جنگ کی کوئ بھی صورت ہو، پراکسی وار ہو، کنونشنل وار ہو یا نیوکلیئر وار کشمیر آزاد نہیں ہوگا، مسلے کا واحد حل یہی ہے کہ کشمیریوں کو ان کا مقدمہ خود لڑنے دیا جائے بے شک پاکستان کی فوجیں اپنی پوزیشن پر برقرار رہیں،، کشمیر بحثیت آزاد ملک اپنے دفاع کے لیے پاکستان کے ساتھ عارضی معائدہ کر سکتا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم کا یہ بیان کہ پاکستان سے کسی بھی جہادی کا کشمیر میں داخل ہونا کشمیریوں کے ساتھ سراسر ناانصافی اور دشمنی ہوگا، بالکل درست اور مبنی برحقائق بیان ہےلہذا پاکستان کے پاس وقت انتہائ کم ہے اگر پاکستان اس مجوزہ حل کی طرف نہ گیا تو آزادکشمیر کی عوام کے دلوں کے اندر سلگتی چنگاڑی ایک خوفناک آگ کا لاوہ بن جائے گی پھر اس کو کنٹرول کرنا پاکستان کے بس میں نہیں ہوگا۔

گزشتہ کل وزیراعظم آزادکشمیر کی تقریر کے دوران پاکستانی میڈیا نے ان کی تقریر کاٹ دی جس پر پوری کشمیری عوام چند منٹوں میں آپے سے باہر ہوگئ اور سراپائے احتجاج بن گئی ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے کشمیری نے اس عمل کی بھرپور مذمت کی اور سارے ایک پیج پر ایک کاز کے لیے اکھٹے نظر آئے۔ پاکستان کو جان لینا چاہیے کہ عام کشمیری ایک عام پاکستانی سے کہیں زیادہ پڑھا لکھا اور باشعور ہے لہذا اب یہ ممکن نہیں کہ کشمیریوں کو بھلایا پھسلایا جاسکے۔

پاکستان کے پاس اس وقت سنہری موقع ہے کہ وہ بین الاقوامی طور پر اپنے آپ کو ہندوستان کی نسبت ایک معتدل، انصاف پسند، اور بہتر ملک ثابت کر کے دنیا میں اپنا کھویا ہوا امیج بحال کرسکے اور دوسری طرف مسلہ کشمیر حل کر کے ہندوستان کے ساتھ اپنے تنازعات سے فارغ ہوکر اپنی عوام کی زندگیاں بدل سکے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں