پی ٹی آئی رہنماوزیراعظم کو وزراء کی شکایت کرتے ہوئے آبدیدہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) پی ٹی آئی رہنما عامر ارباب وزیراعظم کو وزراء کی شکایت کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق وزیرعظم عمران خان کی زیرصدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے سفارتی کامیابیوں سے آگاہ کیا۔ مسئلہ کشمیر کو دبنے نہیں دیں گے، وزراء اور ارکان اسمبلی خاموش نہ رہیں۔
اجلاس میں کی پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی نے سوالات کے انبار لگا دیے۔پشاور کے رکن قومی اسمبلی عامر ارباب نے وزیراعظم سے شکایت کی کہ وزراء ہمیں ملاقات کیلئے وقت بھی نہیں دیتے، جائز کام کیلئے بھی وزراء کی منتیں کرتے ہیں لیکن پھر بھی کام نہیں ہورہے، وہ یہ شکایت کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔

ذرائع نے بتایا کہ ارباب عامر جذباتی ہو کر اجلاس سے اٹھ کر جانے لگے تو وزیراعظم نے انہیں روکتے ہوئے کہا کہ جن وزراء کی کارکردگی ٹھیک نہیں، انہیں تبدیل کررہا ہوں۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں8 سے 10 وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا، شفقت محمود کو وفاقی وزیرداخلہ، اسد عمر وفاقی وزیرپٹرولیم ،زبید جلال کو وزیرتعلیم، علی محمد خان، فواد چودھری کی بھی وزارت تبدیل کیے جانے کا امکان ہے۔

جب ارکان نے کہا کہ وزراء ہماری بات نہیں سنتے نہ ہی ملاقات کا وقت دیتے ہیں۔ اسد عمر نے کہا کہ آج کل میں فارغ ہوں اس لیے ارکان اسمبلی سے بھی ملاقات کرتا رہتا ہوں۔
وزیراعظم عمران خان نے اسد عمر کو نئی ذمہ داریاں دینے کا عندیہ بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسد عمر آپ زیادہ دیر فارغ نہیں رہو گے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جن وزراء کی کارکردگی ٹھیک نہیں ہے ان کوتبدیل کردوں گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ میں8 سے 10 وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان وزراء میں وفاقی وزیر شفقت محمود کو وزیرداخلہ، اسد عمر وفاقی وزیرپٹرولیم، زبید جلال کو وزیرتعلیم کا قلمدان دیا جائیگا، علی محمد خان کو ہٹانے، فردوس عاشق کو ترجمان وزیراعظم بنانے جبکہ وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری کی بھی وزارت تبدیل کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بابر اعوان کو مشیر بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن قانون دان بابراعوان مشیر کی بجائے سینیٹر بننا چاہتے ہیں۔ اسی طرح اجلاس میں وزیراعظم عمران خان پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر نورعالم پر بھی برس پڑے، انہوں نے کہا کہ نورعالم میں نے آپ کی قومی اسمبلی والی تقریر سنی ہے۔ گزشتہ ادوار میں جو لوٹ مار ہوئی تب نورعالم کیوں نہیں بولے؟ کیا نورعالم تمہیں پچھلی حکومت میں مہنگائی نظر نہیں آئی؟ اب یاد آیا مہنگائی ہے؟ گزشتہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی بڑھی ہے-

اپنا تبصرہ بھیجیں