ڈاکٹرز نے ٹڈیوں‌کے حق میں‌فیصلہ سنادیا

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک ) ڈاکٹرز نے ٹڈی کے پکوان کو صحت کے لیے بہترین خوراک قرار دے دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق چند روز زقبل صحرائے تھر میں ٹڈی فرائی کڑھائی اور بریانی پکوانوں سے متعلق خبریں سامنے آئی تھیں۔جس پر سوشل میڈیا صارفین نے حیرانگی کا اظہار کیا تھا۔اب ٹڈی پکوان کے حوالے سے ڈاکٹرز نے اہم انکشاف کیا ہے کہ ٹڈی میں پروٹینز کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے لیکن اس کی حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق صفائی ضروری ہے۔اس کے علاو ہ صحرائے تھر میں ٹڈی دل کے پکوانوں کی خبروں پر ٹڈی کے حلال اور حرام پر بھی نئی بحث چھڑ گئی تھی۔

بتایا گیا کہ تھر میں فصلیں کھانے کے لیے آنے والی ٹڈیاں خود خوراک بن گئیں۔ ٹڈیاں کھیت کھانے چلی تھیں تھر والو ں نے انہی کو کھانا شروع کردیا۔ٹڈیوں کا کڑاہی گوشت جہاں آج کل تھر والوں کی مرغوب ڈش بنا ہوا ہے وہیں اس نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز بھی کردیا ہے۔اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد سے صارفین یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا ٹڈی حلال ہے یا حرام ۔ ایک صارف نے لکھا کہ ٹڈی گرم ہونے کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ فائدہ مند بھی ہے۔صارف نے یہ بھی بتایا کہ سانس کے مرض میں مبتلا لوگ اس کا استعمال کر سکتے ہیں۔نورین نامی ایک صارف ے بتایا کہ ٹڈیاں کھانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں اس کا استعمال عام ہے۔

سہیل نامی صارف نے بتایا کہ یہ حلال کیڑا ہے۔ایک صارف نے بتایا کہ 80 کی دہائی میں ان کے علاقے کے لوگ بھی کھاتے تھے۔ ایک اور صارف نے بتایا کہ سعودی عرب میں اس کا استعمال عام ہے۔ وہاں کے مقامی لوگ اسے بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔اقوام متحدہ کی جانب سے کھائے جانے والے کیڑوں کی فہرست میں ٹڈی کا نام بھی شامل ہے۔واضح رہے کہ چند ماہ قبل ٹڈی دل نے تھرپارکر سمیت دیگر علاقوں میں حملہ کردیا تھا جس سے کسان اپنی فصلوں کی حفاظت کیلئے پریشان تھے۔ٹدی دل کے خاتمے کے لیے اسپرے مہم کیلئے خصوصی فنڈ بھی جاری کیا گیا تھا، اس کے باوجود بھی کوئی خاص حل نہ نکلنے پر یہاں کے رہائشیوں نے خود ہی اس مسئلے سے نمٹنے کی ٹھانی اور وٹامنز سے بھرپور ٹڈی کو خود کھانا شروع کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں