گوادر پورٹ کو تجارتی راہداری (ٹرانزٹ ٹریڈ)کے لیے کھول دیا گیا

کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک ) بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنماء وسینیٹر کہدہ بابر نے کہا ہے کہ گوادر پورٹ کو تجارتی راہداری (ٹرانزٹ ٹریڈ)کے لیے کھول دیا گیا اور اس سلسلے میں پہلا جہاز آئندہ ہفتے پہنچے گا بڑی کمپنیوں سے کہا جائے گا کہ وہ اس طرح کی سہولیات پر مقامی آبادی کو روزگار فراہم کرنے کیلئے قرارداد منظور کی جائے ساتھ ہی یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ماہی گیری کے ٹرالروں سے متعلق ایک قومی سطح کی پالیسی بنانا ہوگی اور تمام صوبوں کے لیے ایک یکساں طریقہ کار وضع کرنا ہوگا کیونکہ سمندری ماہی گیری سندھ سمیت بلوچستان کے ساحل سے دور کی جاتی ہے –

رپورٹ کے مطابق وزارت سمندری امور کے حکام نے ذیلی کمیٹی کو ٹرانزٹ ٹریڈ اور ٹرانشپمنٹ کے بارے میں بتایا کمیٹی کو بتایا گیا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ (اے ٹی ٹی)ماڈیول میں کچھ تبدیلیوں کی ضرورت تھی، جسے کیا گیا اور ابتدائی طور پر ٹیسٹ کرنے کے بعد یہ اطلاق کے لیے تیار ہے سینیٹ کمٹی کو بتایا گیا کہ پہلا اے ٹی ٹی شپمنٹ آئندہ ہفتے 8 اکتوبر کو گوادر پورٹ پر آئے گا، جس میں بتدریج اضافہ ہوگا اس موقع پر گوادر سے تعلق رکھنے والے ذیلی کمیٹی کے کنوینر سینیٹر کہدہ بابر نے علاقے کی ترقی اور منصوبہ بندی میں موجود خلا کی طرف اشارہ کیا۔

جس پر حکام نے اس بات کو تسلیم کیا کہ گوادربندرگاہ کی اصل حریف سنگاپور اور دبئی کی بندرگاہیں ہوں گی کیونکہ کارگو میں تاخیر کے چارجز نہ ہونے اور 3 ماہ کی اسٹوریج کی سہولت جیسی مراعات یقینی طور پر کاروبار کو گوادر کی طرف موڑ دے گا۔ذیلی کمیٹی کی جانب سے بندرگاہ کے اندر یا باہر فش پروسیسنگ کے لیے اسٹوریج کی سہولیات سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا گیا، ساتھ ہی کمیٹی کو یقین دہانی کروائی گئی کہ اس طرح کی سہولیات فراہم کرنے اور اس سلسلے میں سرمایہ کاری کرنے والی چینی کمپنیوں پر اضافی ٹیکس نافذ نہیں کیا جائے گا۔

اس دوران ذیلی کمیٹی نے چینی کمپنیوں سمیت مقامی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو گوادر بندرگاہ پر فش ڈمپنگ اور ری پروسیسنگ سہولیات فراہم کرنے سے متعلق قانونی فریم ورک، قواعد و ضوابط پر تبادلہ خیال کیا۔سینیٹر کہدہ بابر کا کہنا تھا کہ بڑی کمپنیوں سے کہا جائے گا کہ وہ اس طرح کی سہولیات پر مقامی آبادی کو روزگار فراہم کرنے کیلئے قرارداد منظور کی جائے ساتھ ہی یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ماہی گیری کے ٹرالروں سے متعلق ایک قومی سطح کی پالیسی بنانا ہوگی اور تمام صوبوں کے لیے ایک یکساں طریقہ کار وضع کرنا ہوگا کیونکہ سمندری ماہی گیری سندھ سمیت بلوچستان کے ساحل سے دور کی جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں