آرمی چیف سے ملاقات میں ملک ریاض‌کی اہم ملکی ادارے کی پالیسیوں پر تنقید

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک )گزشتہ روز آرمی چیف سے ملاقات میں کاروباری شخصیات نے جنرل قمر جاوید باجوہ کے سامنے کھل کر بات کی جس کے انہوں نے حوصلہ افزا جوابات دیے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے تاجروں و صنعتکاروں سے اجتماعی ملاقات میں بات چیت کرتے ہوئے ان کو چونکا دیا کہ چین سے 12 ارب ڈالر کی برآمدات پاکستان آکر محض 6 ارب رہ گئیں۔آرمی چیف سے ملک کے کاروباری رہنماؤں کی اہم ملاقات -آرمی چیف سے ملاقات کے دوران چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی اور وزیر مملکت حماد اظہر وہاں موجود تھے۔ملاقات میں شریک ایک اسٹاک بروکر نے کہا کہ 6 ارب ڈالر کی انڈر انوائسنگ کی گئی۔چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا کہ سیلزٹیکس ریفنڈ تین سال تک محدود کر دیا گیا ہے، تعمیراتی صنعت کو سہولتیں دیں گے۔

معروف بزنس مین، صنعتکار و تاجر میاں محمد منشاء نے کہا کہ تعمیراتی کنسیشن دینے کی ضرورت ہے اس سے پوری معیشت کا پہیہ چل سکتا ہے، نیب کو بزنس سے جدا کیا جائے۔علی حبیب کا کہنا تھا کہ اسمگلنگ تباہ کن ہے اس کو روکنے کی ضرورت ہے، فوج کے اقدامات کی تعریف بھی کی کئی جگہ باڑ لگا دی گئی ہیں۔ عارف حبیب نے کہا معیشت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ شرح سود ہے۔حسین داؤد نے کہا کہ اسٹرکچرل اصلاحات اور نیب سے متعلق معاملات بہتر کرنے کی ضرورت ہے جب کہ گوہر اعجاز نے بانڈز کی نشاندہی کی۔

ملک ریاض نے آرمی چیف کے سامنے نیب کا معاملہ اٹھادیابلڈر ٹائیکون ملک ریاض نے تعمیراتی سرگرمیوں اور نیب سے متعلق بات کی کہ 460 ارب روپے ہم سپریم کورٹ آف پاکستان میں دینے کی حامی بھرچکے ہیں اس کے باوجود بھی نیب کے نوٹسز مل رہے ہیں، چیف آف آرمی اسٹاف نے اس کا حوصلہ افزا جواب دیا۔نیب سے متعلق کاروباری برادری کے تحفظات کے حل کیلئے لائحہ عمل تشکیل انہوں نے کہا بھرپور انداز میں کام کیجئے آپ کو کسی قسم کا خوف نہیں ہونا چاہیے آپ ہر لحاظ سے آگے بڑھیں۔

سلطان علی الانہ وہاں موجود تھے، آرمی چیف نے ان کی تعریف کی اور کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے معاملے میں ان کا کردار بہت مثبت رہا ہے اور حکومت کی بہت مدد کی ہے، مجموعی طور پر بہت ہی مثبت چیزیں سامنے آئیں۔بہت سے کاروباری حضرات سے میری بات ہوئی ہے سب نے حماد اظہر کی بہت تعریف کی ہے ان کے انداز کی رسپانس کی اور کمپوز اسٹائل کی بہت تعریف کی ہے تا جروں کے نیب سے متعلق تحفظات ہیں، نیب باور کرارہی ہے کہ اس نے سرمایہ کاروں اور کاروباری طبقات پر بھاری ہاتھ نہیں رکھا۔

چیئر مین نیب نے لاہور میں تاجروں کے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ نیب ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا ئیگا جس سے معیشت کو نقصان پہنچے، نیب میگا کرپشن کیخلاف قابل قدرخدمات انجام دے رہی ہے، نیب نے سندھ اورپنجاب میں کرپشن کیسز پرقابل تعریف کام کیا ہے لیکن ساتھ ساتھ نیب کواپنے کیسز منطقی انجام تک پہنچانے ہوں گے۔ایک اسٹاک بروکر نے کہا کہ یہاں 6 بلین ڈالر امپورٹ ہوئی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ چھ بلین ڈالر امپورٹر نے انڈر انواسنگ کی ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ ایکسپورٹرزکا ریفنڈ بانڈ کا ایشو تھا ہم جب تک کمرے میں بیٹھے رہے تب تک وہ مسئلہ حل نہیں ہوجاتا اس کے بعد ایکسپورٹر کے گیس کے مسائل تھے ہم سب بیٹھے ہم نے گیس کے مسئلے کو بجلی کے مسئلے و کلویژدیا تاکہ اگلی میٹنگ میں سمری لا کر کیبنٹ میں لا کر اس مسئلے کو بھی حل کیا جاسکے بہت سارے مسائل کا ذکر کیا گیا جس میں سے بہت سے مسائل پر کام ہو رہا تھا ہم نے انہیں آگاہ کیا کہ اس حوالے سے ہم کہاں کھڑے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں