آزاد ی مارچ کے قافلے مظفرآباد سے چکوٹھی کی جانب روانہ ،پولیس کی بھاری نفری تعینات

مظفر آباد(سٹیٹ ویوز) جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کی کال پر آزاد کشمیر بھر سے قافلے مظفرآباد پہنچ گئے ہیں اور چکوٹھی سے لائن آف کنٹرول عبور کرنے کے لئے مارچ شروع کردیا گیا ہے۔

آزاد کشمیر سے آنے والے شرکاء اپر اڈاہ میں جمع ہوئے جس کے بعد پیدل سیز فائر لائن کی جانب مارچ شروع کردیا گیا۔ اس مارچ کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے نفاذ اور انسانیت سوز مظالم پر عالمی دنیا کی توجہ مبذول کروانا ہے۔

آزادی مارچ میں بزرگ، خواتین اور ہزاروں کی تعداد میں نوجوان شریک ہیں۔ مارچ کے شرکاء کو لائن آف کنٹرول کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لئے پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حکمت عملی ترتیب دے دی ہے۔مظفرآباد سے چکوٹھی کے درمیان پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے اور کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی صورت میں ایمبولینسز بھی موجود ہیں۔

کمشنر مظفرآباد ڈویژن نے کہا ہے کہ مارچ کرنے والے شہریوں پر بھارتی فوج کی فائرنگ اور گولہ باری کا خدشہ ہے، جس سے شہریوں کو شدید جانی نقصان ہو سکتا ہے۔کمشنر مظفرآباد ڈویژن نے کہا کہ لائن آف کنٹرول کے نزدیک عوامی اجتماع قیمتی جانوں کے ضیاع کا موجب بن سکتا ہے، جلوس کے شرکاء سے اپیل ہے کہ ایل او سی کے قریب اجتماع سے پرہیز کریں۔

واضح رہے کہ مارچ کا آغاز جمعے کی صبح 10 بجے آزاد جموں و کشمیر کے جنوبی ضلع بھمبر سے ہوا ترجمان لبریشن فرنٹ کے مطابق مظفرآباد اس کی پہلی اور سری نگر اس کی آخری منزل ہوگی۔ترجمان نے کہا کہ مارچ کا پہلا مقصد مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کرنا ہے جنہیں گزشتہ 2 ماہ سے 10 لاکھ سے زائد بھارتی فوجیوں نے یرغمال بنایا ہوا ہے۔

ایل او سی کی جانب آزادی مارچ کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے بھی آج صبح ٹویٹ کیا اورمارچ کے شرکاء کو خبردارکیا اورکہا کہ” میں مقبوضہ کشمیر میں 2 ماہ سے جاری غیرانسانی کرفیو میں گھرے کشمیریوں کے حوالے سے آزاد کشمیر کے لوگوں میں پایا جانے والا کرب سمجھ سکتا ہوں۔لیکن اہل کشمیر کی مدد یا جدوجہد میں انکی کی حمایت کی غرض سے جو بھی آزادکشمیر سے ایل او سی پار کرے گا وہ بھارتی بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلےگا”۔

اپنا تبصرہ بھیجیں