نظرقلم/نعیم مسعود

یونیورسٹیاں اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پروگرام

تحریر: نعیم مسعود
” ہال سے نکلتے ہوئے ارباب علم و ادب کہہ رہے تھے کہ جناب وائس چانسلر نے …. یونیورسٹی کو حقیقی معنوں میں علم و تحقیق کا گہوارہ بنادیا- ”

یہ بات صف اول کے ایک دانشور نے لکھی. شکر ہے “ہال” سے نکلتے کہا “حال” سے نکلتے ہوئے نہیں. جو ہمیں معلوم ہے وہ یہ کہ, یونیورسٹیاں بڑھ گئی ہیں اور وی سی نہیں ملتے گویا کہیں کہیں وی سی کے بجائے “وی سی آر” ہی سے کام چلانا پڑتا ہے. وہ کیا خوبصورت مصرع ہے حالی کا , کہ ” دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت ” خیر حالی کو تو یہ آواز چاہ یوسف سے آئی , مگر ہمیں یہ صدا یونیورسٹیوں سے آتی ہے , کہ جہاں تعلیم دوست تھوڑے ہیں اور ” بھائی ” بہت. بہرحال ہم اپنے محترم کالم نگار کو داد تحسین پیش کرتے ہیں ان کی چشم بینا تیرگی میں سے دیکھ لیتی ہے۔

ایک ہماری آنکھ ہے کہ کم بخت کو خوردبین اور دوربین سے بھی کچھ دکھائی نہیں دیتا. لیکن اتنا ضرور جانتے ہیں , جو وائس چانسلرز یہ سمجھتے ہیں کہ, میڈیا سیل اور وکلاء ٹیم کی بیساکھیوں کے سہارے منزل پالیں گے. ان کیلئے بس اتنا ہی کہیں گے , کہ وہ ضرورت سے زیادہ سیانے ہیں.

“یونیورسٹی ” اصطلاح جب 1088ء میں آئی تو اٹلی کے شہر بولوگنا میں ساتھ ہی ریسرچ, خود مختاری اور جدت نے بھی قدم رکھا, اس سے قبل تعلیمی معاملات مزہبی درسگاہوں سے منسلک تھے. سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ, جو بات 1088 سے چلی کیا وہ 2019 میں بھی پاکستان تک نہیں پہنچی ؟

شہر اقتدار کے ایک سابق وی سی دوست لکھتے ہیں ” سرکاری جامعات مکمل طور پر معیشت کے گرداب میں گھِرچکی ہیں …. اگر فوری مدد نہ کی گئی تو کتنی ہی جامعات معیشت کے بے رحم تھپیڑوں کی زد میں آ کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گی۔ ” ہم ان سے اتفاق کرتے ہیں اور اپیل کرتے ہیں کہ صدر پاکستان , وفاقی وزیر شفقت محمود, چانسلرز , پروچانسلر ,چیئرمین ایچ ای سی اور سربراہان صوبائی ایچ ای سیز تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرکے یونیورسٹیوں کو مسائل سے باہر نکالیں. افسوس کہ 18ویں ترمیم کے بعد کے پی کے اور بلوچستان اپنی صوبائی ایچ ای سیز ہی نہیں بنا پائے.

جہاں تک یہ بات کہ جامعات معیشت کے بے رحم تھپیڑوں کی زد میں ہیں , وہاں ایک بات یہ بھی کہ جامعات نے معیشت کو بےرحم تھپیڑوں سے بچانے کی کوشش بھی کب کی ؟ ایک وائس چانسلر یونیورسٹی تقریباً ساڑھے چھ لاکھ باقاعدہ ماہانہ تنخواہ اور الاؤنسز ڈال کر دس لاکھ ماہانہ سے زیادہ میں پڑتا ہے تو بڑی جامعات کے کتنے وائس چانسلرز نے یونیورسٹی بیسڈ اینٹرپرنیورشپ ایکوسسٹم (U-BEEs) کو فروغ دینے میں عقل سلیم کا سہارا لیا؟ حالانکہ ڈاکٹر طارق بنوری نے چئیرمین ایچ ای سی کا چارج لیتے ہی یونیورسٹیوں کو کہا کہ انٹرپرنیورشپ کی جانب قدم بڑھائیں اسی میں بقا ہے۔

امریکی یونیورسٹیاں اسی پر انحصار کرتی ہیں. لیکن قصور حکومتوں کا بھی ہے کہ جن یونیورسٹیوں کو کئی ماہ مستقل وی سی ہی نہ ملے گا تو ان کو دوبارہ اٹھنے میں کئی سال لگیں گے ,حال ہی میں جنوبی پنجاب کی ایک یونیورسٹی کا اسی حکومت میں حشر نشر ہوا , پچھلی حکومت میں وسطی پنجاب کی ایک گروئنگ یونیورسٹی کے ساتھ ایسا ہوا . یونیورسوں کے نام لئے بغیر بتادوں کہ, پروچانسلر پنجاب نے ان دونوں کے بگاڑ کے مابین مقابلہ ضرور سمجھتے مگر حل نکالنے سے قاصر ہیں. کے پی والے پریشان ہیں کہ پچھلے اسی پارٹی کے دورحکومت میں ہائر ایجوکیشن کا پرسان حال تھا, اب نہیں .

سندھ کے ایچ ای سی کے دوبارہ بن جانے والے چیئرمین ڈاکٹر عاصم احتسابی نشیب و فراز سے نکلیں تو کچھ کرسکیں. بلوچستان کا اللہ ہی حافظ ہے اور آزادکشمیر کی ہائرایجوکیشن عدالتوں سے نکلے تو برادری ازم کے ہتھے چڑھ جاتی ہے. سو یونیورسٹیوں کی معاشی بدحالی 75 فیصد وائس چانسلرز اور 25 فیصد حکومتی قصور ہے. ہاں وی سی کے 75 فیصد میں 25 فیصد پروفیسرز حصہ دار ہیں.

سنڈیکیٹ میں اینٹی وی سی الزامات کو کچل ڈالنا, سنڈیکیٹ ممبران کو وی سی سے ڈینز تک اور مختلف کمیٹیوں کے چیئرمین حضرات کا شیشے میں اتار لینا, سنڈیکیٹ ممبران کو ایجنڈا پڑھنا نہ آنا یا پڑھ کر نہ آنا, ایک وی سی کا بطور ممبر میزبان وی سی کو خدا واسطے کا سپورٹ کرنا بدقسمتی سے “کرائم سنڈیکیت” کی اصطلاح پر پورا اترنا نہیں تو کیا ہے ؟ کیا اس طرح یونیورسٹی “سنڈیکیٹ سنڈروم” میں مبتلا نہیں ہوجاتی ؟ اسسٹنٹ اور ایسوسی ایٹ پروفیسر اپنی یونیورسٹیاں چھوڑ کر, اپنے وائس چانسلرز کی برائیاں اور اگلے کی چاپلوسی کے سبب ڈیپوٹیشن اور اپ گریڈ کے چکر میں لور لور پھرتے ہیں. ایسا مافیا کیا جانے استاد کا اعزاز , انٹرپرنیورشپ اور ریسرچ اور ان کیلئے تو پلیجرزم بھی آرٹ ہے جرم نہیں.

یونیورسٹیوں کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پروگرام (PPPP) , فراہمی الحاق , افیلئیشن کم کانسٹیٹوئنٹ ماڈل مفید اور آسان انٹرپرنیورشپ تھی جو تعصب, کم فہمی, جلدبازی اور تنگ دلی کی بھینٹ چڑھ گئی . جسے وائس چانسلرز حکومت, اعلیٰ عدالتوں, پلاننگ و ڈیویلپمنٹ و ریفارمز اداروں اور ایچ ای سی کے سامنے صحیح بریف بھی نہ کرسکے , اس ضمن میں تین باتیں ہیں۔

1- ادارے دنوں میں نہیں سالوں میں بنتے ہیں.

2- فیلڈ کی کسوٹی پر نیچرل سلیکشن اور بہتر کی بقا ہی سے بات آگے بڑھتی ہے.

3- پروفییسرز کا کام پٹواری یا قانون گو بننا نہیں کوانٹٹی کے بجائے کوالٹی اور علاقہ و پس منظر دیکھیں , اپنی یونیورسٹی کو کمیونٹی سنٹر سمجھیں پرچون کی دکان نہیں.

سات نکاتی ایجنڈے , یعنی
1- سیاسی و تعلیمی لیڈر شپ وسعت نظر , لگن اور سپانسر شپ کو فروغ دے.
2- مفید پروگراموں اور مضبوط پروفیشنل فیکلٹی کو تقویت بخشیں.
3- طویل المدتی مدنظر رکھیں.
4- فنڈنگ ذرائع پیدا کریں.
5- ایجادات اور نصابیات کو ہم آہنگ کریں.
6- آرگنائزیشن کا حقیقی انفراسٹرکچر ہو.
7- “سماجی معیشت” کی پیدائش کی فلاسفی اور انٹرپرنیورشپ کو بروئے کار لائیں, یونیورسٹیاں کبھی جان سے ہاتھ نہیں دھوئیں گی!

یونیورسٹیوں کو اپنی ریسرچ سے, ملک کو معاشی بدحالی سے نکالنا چاہیے, اور چاہئے کہ ترقیاتی و منصوبہ بندی و اصلاحات کے اپلائیڈ فارمولے حکومتوں کو دے کیونکہ حکومتی ڈیپارٹمنٹ سیاسی مصلحتوں میں پھنسے ہوتے ہیں !

اپنا تبصرہ بھیجیں