آر پار/مقصود منتظر

تیرا مارچ ، میرا مارچ

تیزی سے بدلتے ہندوستان میں2014 ميں نریندر دامودر داس مودی پردھان منتری بنا۔يہ دنيا کيلئے عجيب تھا لیکن کسی نے يہ سوال نہيں اٹھايا کہ ایک چائے بیچنے والا شخص بھلا کیسے اتنے بڑے عہدے پر فائز ہوسکتا ہے؟ لگ بگ ڈيڑھ ارب کی آبادی والے ملک ميں رواں سال عام انتخابات ہوئے۔ بي جے پي نے ميلہ لوٹا ۔ انتہا پسندوں کي پسنديدہ جماعت پھر اقتدار ميں آئی اور نریندرمودی مسلسل دوسری بار وزیراعظم بن گيا۔ اکھنڈ بھارت کے سوچ کی پرچار کرنے والے مودی کي دوسری اننگز پراپوزيشن جماعتوں نےشکوک وتحفظات کاا ظہارتو کيا مگر کسي نے يہ اعتراض نہیں اٹھایا کہ کم پڑھا لکھا اورعجيب وغريب حرکات وسکنات والا انسان اتنے بڑے منج پر کیوں کر براجمان ہوسکتا ہے۔

چند سال قبل سونيا گاندھي نے کانگريس کي صدرات چھوڑی تو ان کے نوجوان بيٹے راہول گاندھی کو پارٹی کمان سونپی گئی۔یہاں بھی کسي نے يہ شکوہ نہیں کیا کہ سينکڑوں سينئر رہنماؤں کے ہوتے ہوئے ایک اناڑی کیسے پارٹی امورچلاسکتا۔؟ سرحد کے دوسری جانب پاکستان کا رخ کريں ۔ بلاول بھٹو کو چاروں صوبوں کي زنجير سمجھی جانے والے پيپلز پارٹی کے چئيرمين کے عہدے پر بٹھايا گيا ۔مگر مجال ہے ،پارٹی میں موجود سینئر سیاسی بابوں نے چُوں بھی کي ہو۔ پارٹی کے تمام رہنماوں نے آصف زرداری کا فيصلہ قبول کرتے ہوئے اپنی استطاعت کے مطابق سیاست میں پہلی بار قدم رکھنے والے اکسفوڈکے تازہ گریجویٹ کی آوبھگت شروع کی –

اسی سے ملتي جلتی مثال ن ليگ کي دھڑکن مريم نوازصاحبہ کي بھی ہے ۔ تین سال قبل سياست ميں انٹری دی اورآتے ہي نہ صرف چھاگئيں بلکہ پارٹی اور اس وقت کي نون ليگی حکومت کے مقبول ترين فيصلوں ميں اہم کرداربھی ادا کیا ۔ پارٹی نےسابق وزيراعظم نوازشريف کي نااہلی کے بعد ان کي صاحبزادی کو نائب صدارت سونپ کر گويا پوری جماعت کی لگام ہاتھ میں دی مگر کسی نے يہ پوچھنا گوارہ نہ کیا ،ارے بھائي يہ کيا ہورہا ہے۔ کيا احسن اقبال ، شاہد خاقان ،سعد رفيق ،خواجہ آصف جيسے منجھے ہوئے سياستدان جماعت چلانے کے اہل نہیں؟
پاکستان ہو،بھارت ہو، یا پھر برصغیر کا کوئی اور ملک ۔ یہاں اہم عہدوں کیلئے اہلیت کو زیادہ ترجیح اوراہمیت نہیں ملی ۔ تنظیمی یا ملکی امور میں موروثیت کےساتھ ساتھ قد کاٹھ اور وزن ہمیشہ بھاری رہا لیکن اس کے باوجود داد دینا پڑتی ہے ان سیاسی رہنماوں ،کارکنوں اورعام ورکروں کے صبرواستقامت کو جنہوں نے جانے انجانے میں اگر کبھی اچھے برے میں فرق کا سوچ بھی لیا پھر بھی پارٹی اور قائد کی وفاداری کو ہی عزیز رکھا ۔

شاید یہی وجہ ہے کہ خطے کی پرانی سیاسی و مذہبی جماعتیں آج بھی کسی نا کسی طرح اپنی اپنی قوموں کی سیاست میں اہم رول ادا کرتی نطرآرہی ہیں۔کشمیر کی بات کریں یہاں ریاست کی طرح تنظیمیں ،جماعتیں ،عوام سب بٹے ہوئے ہیں ۔منقسم ریاست کی صورتحال پاکستان ،ہندوستان اور خطے کے دیگر ممالک کے برعکس ہے۔ يہاں ہر بندہ ليڈرہے، ہر گھرمیں رہنما ہے ،شہر نگر گلی محلے میں خودساختہ لیڈروں کی بہتات ہے مگر ہر لیڈر دوسرے لیڈر کو غدار یا کم از کم نااہل ضرور قرارد ے رہا ۔ لیڈر تو لیڈر ایک عام کشمیری بھی خود کو عقل کل اور دوسروں پر ایجنٹ کا لیبل لگانے سے نہیں کتراتا۔ تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کا حال ہے ہی خستہ حال ۔ جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ نفرتوں اور تعصب کا لاوا کتنا پک چکا ہے ۔ سیاسی ہو یا عسکری ،یامذہبی،ان تنظیموں اور پارٹیوں کے ذرا اندر جھانکیں تو معلوم ہوتا ہے عہدوں اور ان پر برجمان لوگوں سے اختلاف کی جنگ بھی کسی پراکسی وار سے کچھ کم نہیں ہے ۔

ایک قدم آگے جائیں تو علاقائی اونچ نیچ کا مقابلہ ، نظریات ،سوچ اور خیالات کی لڑائی بھی آج کی بات نہیں ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ جو قوم دو ایٹمی ممالک کی غلام ہے، محکموم اورمظلوم ہے، وہاں اتحاد و اتفاق کے بجائے اختلافات در اختلافات کیوں ہیں؟ ایک سوچ اور ایک فکر کے بجائے ہر کسی کے ہاتھ میں غداری یا ایجنٹ کا سرٹیفکیٹ کیوں ہیں ؟ ریاست منسقم ضرور ہے مگر قوم کی آزادی کیلئے لوگوں کی منزل الگ الگ بڑی بدقسمتی ہے۔ پھر اس سے بڑا سوال یہ کہ اگر کوئی محکوم قوم کی خاطر کچھ کرگزرتا ہے حتیٰ کہ اپنی جان تک نچھاور کرتا ہے ،اس کو بھی کسی نا کسی لیبل کے بغیر دفنایا نہیں جاتا ۔

یہاں تک کہ جن لوگوں نے اپنی جوانی ، فیملی ،تعلیم ، کیئریر اور کاروبار کو تحریک آزادی کی راہ میں قربان کردیا ۔ ان کو بھی نہیں بخشا جارہا ہے۔ کسی کی قربانی کا ہمارے ہاں کوئی احترام نہیں ۔ کسی کی معمولی خامی نظرآئی تو تنقید اور نفرتوں کے توپ خانے لیکر بھرپور چڑھائی کردیتے ہیں ۔ حالانکہ ہم سب انسان اسی وجہ سے ہیں کہ ہم سے غلطیاں بھی سرزد ہونگیں ۔۔ اتنا ہی نہیں ہمیں کسی کی خوشحالی اور ترقی بھی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ پیسے کہاں سے آئے ، کوٹھی کیوں کر بنائی؟ بچوں کو اچھی تعلیم کیوں دی جارہی ہے؟ سوال پر سوال اور حساب کتاب کا نہ رکنے والے سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ کم ظرفی انتہا یہ ہے کہ اگر کوئی اچھا سوٹ بوٹ پہنتا ہے تو بعض لوگوں کو اس پر بھی اعتراض ہوتا ہے۔

وادی کشمیر میں تیس سال سے نوجوان برسر پیکار ہیں لیکن آزادکشمیر میں بعض طبقے ان کی جدوجہد پرمعترض ہیں ،ایک دھڑاتو مسلح نوجوانوں کو ۔ باڑے کے ٹٹو۔۔کہلانے میں بھی نہیں ہچکچاتا۔ خودمختار کشمیر، جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا بنیادی موقف اور نظریہ ہے لیکن چند طبقے ان کو مجرم تصور کرتے ہیں ۔اسی طرح الحاق پاکستان یا الحاق ہندوستان کا سوچ رکھنے والوں کی بھی جب موقع ملے ٹھیک ٹھاک کلاس لی جاتی ہے ۔ کسی کی سوچ اور فکر سے اختلاف ہونا کوئی بری بات نہیں ۔ لیکن اس معمولی دوری کو نفرت کی دیوار بنانا کوئی عقل مندی نہیں ۔ ہم گلگت بلتستان کے لوگوں کے رویے اور کشمیریوں سے متعلق سوچ اور خیال سے آگاہ ہیں ۔دونوں خطوں کے درمیان معمولی غلط فہمی یا غلطی کس طرح ریاستی رشتے کی راہ میں بلند پہاڑ بن گئی ۔ وضاحت کی ضرورت نہیں۔

5اگست کو بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اور وادی سمیت جموں اور لداخ ڈویژن میں کرفیو اور دیگر پابندیاں عائد کردیں ۔ پاکستان اور آزادکشمیر میں وادی کے لوگوں کی یکجیتی اور بھارت کیخلاف ریلیاں نکالی گئیں ، احتجاج مارچ غرض ہر طریقے سے بھارتی اقدام کو مسترد کیا گیا ۔ لیکن افسوس کا مقام کہ کشمیری یہاں بھی بٹے ہوئے نظر آئے ، حریت کانفرنس ایک صفحہ پر ، آزادحکومت دوسرے پیچ پر ، الحاقی شمال اور خودمختاری جنوب میں نعرے بازی کرنے لگے۔ مارچ ہوئے وہ بھی الگ الگ ۔۔ ایک دھڑا ادھر ایک ادھر ۔۔ حالانکہ مودی کے اقدام نے قوم کو یک جان ہونے کا سنہری موقع فراہم کیا تھا۔ ہائے شومئی قسمت اس بدنصیب قوم کی۔ یہاں پھر ڈیڑھ ڈیڑھ انچ کی مسجدیں بن گئیں –

اتحاد نہ ہونے تک تو بات کسی حد تک ٹھیک تھی لیکن اس سنگین صورتحال میں بھی نفرتوں کے وار اور تعصب کے توپوں سے حملے ایک عام کشمیری اور قوم کا درد رکھنے والوں کیلئے کسی بڑے سانحہ سے ہرگزکم نہیں ۔۔۔وقت آر پار یک جان ہونے کیلئے پکار رہا ہے اور شاید یہ بہتر موقع بھی ہے ۔ایسے ہرکشمیر بلاشبہ مظلوم بہن بھائیوں کیلئے کچھ نہ سہی لیکن ایک احسان ضرور کرے ۔۔ اتحاد و اتفاق کو فروغ دینے کیلئے آگے بڑھے۔ ایل اوسی بے شک نہ توڑے مگر نفرتوں اور اختلافات کی دیوارضرور منہدم کرے ۔ ورنہ آپ ،میں اور ہم سب کتابوں میں ہی ملیں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں