من کی باتیں/خالد قریشی

اسلام آباد کی حالت۔۔۔وزیراعظم نوٹس لیں

اسلام آباد کے منتخب ممبران اسمبلی جو کہ پی ٹی آئی کے نمائندے ہیں،جن میں اسد عمر جو کہ سابقہ وزیرخزانہ اور آج کل چیئر مین سٹینڈنگ کمیٹی فنانس کے چیئر مین ہیں،این اے 54 سے ایم این اے ہیں،علی نواز اعوان معاون خصوصی سی ڈی اے برائے وزیراعظم ہیں اور این اے 52 سے راجہ خرم شہزاد نواز چیئر مین سٹینڈنگ داخلہ ہیں،وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کی تقریباََ 22 لاکھ کی آبادی ہے،گذشتہ ایک سال کے دوران واحد ایم این اے راجہ خرم نواز ہیں جو متحرک رہے اور عملی کام کئے ،آج اسلام آباد شاید ہی اپنی تاریخ کے بد ترین دور سے گذر رہا ہے۔جہاں گذشتہ سات دنوں سے سیکٹر سے کوڑا کرکٹ اُٹھانے والے اور صفائی والے سینٹری ورکرز آئے ہی نہیں۔

گذشتہ دنوں حکومتی اراکین اسمبلی نے اجلاس کیا جس میں اسلام آباد کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور گذشتہ 4 ماہ کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے حکمت عملی بنائی کہ اسلام آباد میں کام کرنے والے سینٹری ورکرز کو سابقہ اجرت ادا کی جائے ۔محترم و مکرمی جناب وزیراعظم اگر ناراض نہ ہوں تو اتنا عرض کروں کہ جس ریاست مدینہ کو رول ماڈل بنایا وہاں تو مزدور کو اس کی محنت کا صلہ ادا کرنے کا حکم اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرنے کا ہے۔اسلام آباد میں سینٹری ورکرز کو گذشتہ 4 ماہ سے اجرت نہ ملی ،بقول حکومتی اراکین کے کہ MCI کے اکائونٹ میں دو ارب جمع ہیں مگر سینٹیشن کا کام نہیں ہو رہا۔پھر میئر اور ایسی لوکل باڈیز کی کیا ضرورت جہاں عوام مشکلات کا شکار ہیں-

جناب میئر شیخ عنصر عزیز اپنے ائیر کنڈیشن دفتر میں سوٹ پہن کر بیٹھے ہیں،جب سے اسلام آباد میں لوکل باڈیز بنی ہیں،سی ڈی اے کے ساتھ محاذ آرائی ہوتی رہی ہے،کبھی عدلیہ میں کبھی یونین کے ساتھ جب تک پی ایم ایل این کی حکومت بنی تو میئر اور چیئر مین سی ڈی اے دونوں عہدے میئر کے پاس تھے مگر کوئی عملاََ کام نہ ہوا۔گذشتہ تقریباََ ایک سال سے جب سے پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تو چیف کمیشنر اسلام آباد چیئر مین سی ڈی اے بھی ہیں مگر آج بھی عملاََ کوئی کام نہیں ہو رہا،تمام بڑے منصوبے بند پڑے ہیں،ایک تو شاید پی ٹی آئی حکومت کو باور کرایاگیا کہ سابقہ حکومت کے منصوبے مکمل کئے تو کریڈٹ سابقہ حکومت کو جائے گا مگر آج شدید نفرت کا شکار ہیں۔

ایک جانب کوڑا کرکٹ کے ڈھیر لگے ہیں،جس سے صرف اہلیان اسلام آباد ہی متاثر نہیں بلکہ غیر ملی سفارت کار بھی متاثر ہیں کچھ عرصہ قبل جرمن امبیسڈر نے اسلام آباد کے کوڑا کرکٹ کے ساتھ اپنی تصویر پوسٹ کی تھی مگر بیماری اندرونی سیاسی،حکمت عملی،فائدہ نقصان کا تعلق عوام کی تکالیف سے نہیں ہے،اسلام آباد میں گرین اور کلین مہم کا منظر بھی ایک اجڑے دیار کا پیش کرتا ہے۔جہاں جہاں پودے لگائے تھے وہاں شاید پودے ہی نہیں ہیں،گردونواح میں جنگلی پودے،جھاڑیاں انتہائی تکلیف دے منظر پیش کرتیں ہیں۔عمران خان بطور وزیراعظم صرف اپنے دور اقتدار میں اسلام آباد کی نا گفتہ حالت کو دیکھیں اور صرف اس کے اسباب معلوم کریں،ایک تو چیئر مین سی ڈی اے اور کمشنر اسلام آباد کے عہدے ایک ہی آفیسر کے پاس ہیں ان کے پاس تو اتنا ٹائم نہیں کہ کسی ایک اجلاس میں مکمل توجہ کے ساتھ بیٹھ سکیں۔پی ٹی آئی کی حکومت نے آتے ہی تجاوزات کے نام پر پورا شہر اُکھاڑ رکھا ہے-

ایک سال ہو گیا مگر آج تک کوئی حکمت عملی نہیں بنائی گئی کہ کیا کرنا ہے؟،گذشتہ کئی مہینوں سے سی ڈی اے ماسٹر پلان کی Revision پر بے شمار میٹنگ ہوئیں مگر آج تک معلوم نہ ہو سکا کہ 50 سالوں کے بعد کیا انقلابی تبدیلیاں اسلام آباد کی تعمیر و ترقی میں لائی جائیں گیں۔بے تحاشہ کچی آبادیاں سرکاری زمین پر کھڑی کر کے سینکڑوں میں آباد لوگوں کا کلچر تبدیل ہو گیا،آج آئی سی ٹی کی انتظامیہ اور سی ڈی اے اہلکار مارکیٹوں اور سینکڑوں کے اندر قانون کی عملدرآمد یقینی بناتے ہیں مگر کیا کوئی حکومتی ادارہ ان کچی آبادیوں میں شاپر بیگ استعمال کی پابندی کرا سکتا ہے۔صرف 4 انچ کی دیوار پر ڈبل سٹوری مکانات اور کمرشل دوکانیں کسی وقت کسی حادثے کا شکار نہیں ہو سکتے ؟،کیا سی ڈی اے کا ادارہ یہاں پر سپریم کورٹ احکامات کی روشنی میں بلڈنگ کوڈز کو یقینی بنائے گا،بلڈنگ بائی لاز بنائے گا،ان عمارتوں کی ملکیت کو تحفظ دے گا-

وزیراعظم پاکستان عمران خان کے اعلان مطابق ہائی رائز بلڈنگ بنائیں،فلیٹ سائیڈ الاٹ کریں گے،کیا زندگی کی بنیادی سہولتیں دیںگے؟،آج اسلام آباد جیسے رومانی اور یونانی طرز کے خوبصورت شہر کو کس کی نظر کھا گئی؟۔کمرشل مارکیٹوں میں پارکنگ میسر ہی نہیں ،سابقہ چیئر مین سی ڈی اے علی نواز گردیزی نے اسلام آباد کے گردونواح چک شہزاد ہمک اور ترلائی میں فروٹ ،ویجیٹیبل اور پولٹری فارم بہت کم قیمت اور آسان اقساط میں الاٹ کئے تھے کہ اسلام آباد کے شہریوں کو تازہ اور کم قیمت سبزیاں ،فروٹ،انڈے اور مرغی ملے گی ،پھر اتوار بازار اور جمعہ بازار بنائے سی ڈی اے نے آبپارہ مارکیٹ کے قریب اور پشاور موڑ جی – نائن / فور مگر فارم ہائوس کمرشل ہو گئے اور بازار کی حیثیت ختم ہو کر لنڈا بازار بن گئے –

جہاں سٹال تک سب لٹ ہو گئے۔ارباب اختیار و اقتدار کو کب سمجھ آئے گی کہ ’’اسلام آباد‘‘ ہی منی پاکستان ہے،جہاں پوری دنیا کے نمائندے امبیسڈر کے بطور پر ہیں ،اسلام آباد کی حلات زار ہی ان کو متاثر یا پھر مایوس کرے گی،اس اسلام آباد سے پوری دنیا میں اچھا تاثر جا سکتا ہے۔کیا آج اسلام آباد کی صورتحال اطمینان بخش ہے؟،گرین اینڈ کلین درست سمت پر ہے؟،شجر کاری ہو رہی ہے؟،صاف پانی میسر ہے؟، پولن الرجی ہے؟، ڈینگی وائرس ہے؟، ناجائز تجاوزات ؟، امن و امان کی صورت؟، چوری ڈکیتی ؟، جگہ جگہ کوڑا کرکٹ ؟، گندگی کو تلف کرنے کا کوئی خود کار نظام؟، سی ڈی اے تمام ہائوسنگ سوسائٹیوں کو نوٹس جاری کرتا ہے کہ ایس ٹی پی سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائیں-

مگر سی ڈی اے کا اپنا ایس ٹی پی کہاں اور کس حالت میں ہے؟،اسلام آباد کے گردونواح میں بننے والی عمارتیں ہیں ان کو ریگولائز کیسے اور کون کرے گا؟، پولن اور ڈینگی جیسے وائرس کا سدباب کے لئے عملی کام کون کرے گا؟،سی ڈی اے اسلام آباد کے اربوں کے وسائل صرف تنخواہوں میں دے گا؟،ایکسپریس وی، کشمیر ہائی وے،انڈر پاس اور ہیڈ پل ،پانی کے ذخائر ،پارک گرین اینڈکلین کو ن کرے گا؟۔زیروپوائنٹ سے ائیر پورٹ تک میٹرو کون مکمل کرے گا؟،ناجانے اسلام آباد کو کس کی نظر لگ گئی،محترم وزیراعظم صاحب خدا کے لئے ’’اسلام آباد ‘‘ کو تباہی سے بچائیں،اگر کچھ نہیں ہو سکتا تو پبلک اور پرائیویٹ منصوبے کے تحت اس شہر کو بنائیں

۔بلڈرز ڈویلپرز کے ساتھ کوئی ایک نشست تو کریں،اس میں اہم ترین بات ہے کہ سی ڈی اے کا ادارہ باقاعدہ پانی نہیں دیتا ،صفائی اور سینٹیشن والے ریگولر نہیں آتے،انوارمنٹ کے لوگ اسلام آباد میں کام نہیں کرتے ،مینٹیننس اور سٹریٹ لائٹ ٹھیک نہیں ہیں۔ایم سی آئی اور سی ڈی محاذ آرائی کا شکار ہیں ایسے میں اسلام آباد کے اندر غیر قانونی آبادیاں بن گئی ،غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیاں بن گئی۔اسلام آباد کے اندر زون ون جس کو سیکٹوریل ایریا کہتے ہیں،یہاں آئی ٹین میں جس گھر کا پراپرٹی ٹیکس پانچ ہزار سالانہ آتا تھا اس دفعہ بارہ ہزار آیا ہے،یعنی 166 % اضافے کے ساتھ ،اس طرح پانی کے بلز میں 150% اضافہ ہو گیا،مگر سروسز کوئی نہیں ہیں،وزیراعظم صاحب پورے اسلام آباد نے دل سے پی ٹی آئی کو تبدیلی کا ووٹ دیا ہے،خدارا اہلیان اسلام آباد کو اتنی خوفناک سزا نہ دیں۔حبیب جالب کے چند اشعار
’’غلام ہم کو بنائے رہو گے تم کب تک
ہمارے سر کا جھکائے رہو گے تم کب تک
ہمارے حق کو دبائے رہو گے تم کب تک
وطن کو سولی چڑھائے رہو گے تم کب تک‘‘
شکریہ

اپنا تبصرہ بھیجیں