جنبش قلم/علی حسنین نقوی

لبریشن فرنٹ کا آزادی مارچ اور آزاد کشمیر کی مفاد پرست سیاسی قیادت

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے آزادی مارچ کا آج چوتھا روز ختم ہونے کو ہے، آزادی مارچ کے شرکا جکسوال کے مقام پر شاہراہ سری نگر پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔خبر ہے صبح انتظامیہ نے دھرنا شرکاء کے لیے کھانا بھیجا جسے شرکاء نے کہہ کر لوٹا دیا کہ “ہمیں ناشتہ نہ دو بلکہ راستہ دو”دھرنا شرکاء میں بوڑھے، بچے، خواتین، سب شامل ہیں، شرکاء نے رات بارش میں سردی میں گزاری۔یہ وہ عام لوگ ہیں جنہیں نہ حکومت سے کوئی مفاد ملتے ہیں ،ان کے پاس کرسی ہے نہ انکی جدوجہد کرسی کے لیے ہے۔آزاد حکومت اور آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت کے ڈوب مرنے کا مقام ہے جو کام آزادی مارچ کے شرکاء کر رہے ہیں یہ کام سیاسی قیادت کے کو کرنا چاہیے تھا، مگر جن کا شیوا کاسہ لیسی، مفاد پرستی، دشنام طرازی اور گردان فرازی ہو، جن کی رگ رگ میں اداکاری سمائی ہو، جن کے لیے دین و دنیا کرسی ہو وہ کیسے محصور و مظلوم کشمیریوں کا درد محسوس کر سکتے ہیں۔وہ سیز فائر لائن توڑنے کی بھڑکیں تو مار سکتے ہیں لیکن عملی میدان میں کمر درد میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

چئیرمین جموں کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس ڈاکٹر نذیر گیلانی کہتے ہیں کہ سیز فائر لائن ہندوستان اور پاکستان کا سیبجکٹ نہیں بلکہ یہ اقوام متحدہ کا سیبجکٹ ہے، انکا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی قرارداد نمبر 47 کا پیرا 12 کشمیریوں کو آر پار آمدورفت کی اجازت دیتا ہے ۔جبکہ پیرا 13 2.5 ملین مہاجرین جموں کشمیر کو آر پار جانے کی اجازت دیتا ہے ۔حکومت کو آزادی مارچ سے متعلق اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کو اگاہ کرکے بال اس کے کورٹ میں چھوڑنی چاہیے تھی لیکن بدقسمتی سے حکومت بے حسی سے کام لے رہی ہے اور اپنے آپ کو کمزور کر رہی ہے ۔انکا کہنا ہے کہ میں دعاگو ہوں کہ یہ حالات کسی تصادم کی طرف نہ جائیں لیکن یہ ڈر ابھی باقی ہے۔

آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت یہ سمجھ لے کہ اب وقت بدل چکا ہے اب لوگ آپکا اصلی چہرہ دیکھ چکے ہیں اور اب وہ وقت دور نہیں جب آپ کے ساتھ لندن فریڈم مارچ کے دوران کیے گئے سلوک سے بھی برا سلوک یہاں آزاد کشمیر میں ہوگا ۔سرخ سلام آزادی مارچ کے شرکاء کو جو اس سردی میں اپنے کاروبار بند کرکے گھروں کو بے آسرا چھوڑ کے جان ہتھیلی پر لیے وہاں بیٹھے ہیں ۔اور سے بھی زیادہ خراج تحسین کے لائق مارچ کی قیادت ہے جس نے ابھی تک لوگوں کو پرامن رکھا ہوا ہے۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے آزادی مارچ کا آج چوتھا روز ختم ہونے کو ہے، آزادی مارچ کے شرکا جکسوال کے مقام پر شاہراہ سری نگر پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔خبر ہے صبح انتظامیہ نے دھرنا شرکاء کے لیے کھانا بھیجا جسے شرکاء نے کہہ کر لوٹا دیا کہ “ہمیں ناشتہ نہ دو بلکہ راستہ دو”دھرنا شرکاء میں بوڑھے، بچے، خواتین، سب شامل ہیں، شرکاء نے رات بارش میں سردی میں گزاری۔یہ وہ عام لوگ ہیں جنہیں نہ حکومت سے کوئی مفاد ملتے ہیں ،ان کے پاس کرسی ہے نہ انکی جدوجہد کرسی کے لیے ہے۔آزاد حکومت اور آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت کے ڈوب مرنے کا مقام ہے جو کام آزادی مارچ کے شرکاء کر رہے ہیں یہ کام سیاسی قیادت کے کو کرنا چاہیے تھا، مگر جن کا شیوا کاسہ لیسی، مفاد پرستی، دشنام طرازی اور گردان فرازی ہو، جن کی رگ رگ میں اداکاری سمائی ہو، جن کے لیے دین و دنیا کرسی ہو وہ کیسے محصور و مظلوم کشمیریوں کا درد محسوس کر سکتے ہیں۔وہ سیز فائر لائن توڑنے کی بھڑکیں تو مار سکتے ہیں لیکن عملی میدان میں کمر درد میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

چئیرمین جموں کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس ڈاکٹر نذیر گیلانی کہتے ہیں کہ سیز فائر لائن ہندوستان اور پاکستان کا سیبجکٹ نہیں بلکہ یہ اقوام متحدہ کا سیبجکٹ ہے، انکا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی قرارداد نمبر 47 کا پیرا 12 کشمیریوں کو آر پار آمدورفت کی اجازت دیتا ہے ۔جبکہ پیرا 13 2.5 ملین مہاجرین جموں کشمیر کو آر پار جانے کی اجازت دیتا ہے ۔حکومت کو آزادی مارچ سے متعلق اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کو اگاہ کرکے بال اس کے کورٹ میں چھوڑنی چاہیے تھی لیکن بدقسمتی سے حکومت بے حسی سے کام لے رہی ہے اور اپنے آپ کو کمزور کر رہی ہے ۔انکا کہنا ہے کہ میں دعاگو ہوں کہ یہ حالات کسی تصادم کی طرف نہ جائیں لیکن یہ ڈر ابھی باقی ہے۔

آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت یہ سمجھ لے کہ اب وقت بدل چکا ہے اب لوگ آپکا اصلی چہرہ دیکھ چکے ہیں اور اب وہ وقت دور نہیں جب آپ کے ساتھ لندن فریڈم مارچ کے دوران کیے گئے سلوک سے بھی برا سلوک یہاں آزاد کشمیر میں ہوگا ۔سرخ سلام آزادی مارچ کے شرکاء کو جو اس سردی میں اپنے کاروبار بند کرکے گھروں کو بے آسرا چھوڑ کے جان ہتھیلی پر لیے وہاں بیٹھے ہیں ۔اور سے بھی زیادہ خراج تحسین کے لائق مارچ کی قیادت ہے جس نے ابھی تک لوگوں کو پرامن رکھا ہوا ہے۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں