سید فیصل علی /آزادآدمی

ہجوم کے نام اک خط

پیر پنجال کی اوٹ سے کوئی زخمی کبوتر جس کے پر خون سے لال تھے۔ یہ خط پہاڑوں کی اس طرف کی پتھریلی زمین پر گرانے کے بعد خود بھی زمین سے ٹکرا کر آزادی کی موت مر گیا۔ لیکن خونی لکیر کے اس پار وادی لہو سے یہ خط یہاں پیر پنجال سے اس طرف پہنچانے میں کامیاب ہوا۔ خط مجھ سمیت ہجوم میں موجود دیگر کئی افراد کے ہاتھ لگا۔ہر اک نے اپنی اپنی طرح سے خط کی تشریح کی اور کچھ روایتی الفاظ کے ساتھ خط اپنے اپنے کنند ذہنوں میں موجود آتش دانوں کی نظر کر لیا۔خط میں الفاظ تھے مگر خون آلود سطریں تھیں مگر آنسووں سے لبریز۔ خط اپنے آپ میں ایک صدائے استغاثہ ہے۔

خط میں لکھا ہے کہ تقریر اور آخری گولی کی باتیں گرد آلود ہو چکی ہیں مسلم امہ کا راگ بھی پرانا ہو چکا ہے۔یہ اچھا ہے کہ تقریر میں ہماری مظلومیت کا نوحہ اقوام عالم کے سامنے بیان کیا گیا ہے لیکن یہ بھی سود مند نہیں رہے گا۔ یہاں ساٹھ دن بیت چکے دنیا بھر میں تم سب نے جو ہمارے ساتھ یکجہتی کے لیے کچھ دیر کھڑ ے ہونے کی رسم ڈالی تھی اس نے بھی کوئی خاص فرق نہیں ڈالا اس لیے اب بیٹھے رہو۔ اور اب کہ منتظر رہو کہ ہماری ٓنکھیں پتھرا گئی ہیں۔خط میں لکھا ہے کہ ہمارے ساتھ یکجہتی کے لیے آپ سب نے بیش بہا اقدامات اٹھائے بلکہ ہر حربہ اپنایا الفاظ کی اک جنگ تو تاحال چھیڑ رکھی ہے تم سب نے مگر فتح نہیں ہو رہی۔اس لفظی گولہ باری میں ابھی تلک کسی زبان کو آنچ نہیں آئی۔

کیا وجہ ہے کہ تم ہجوم زدہ لوگ خود کو قوم بھی کہتے ہو۔اور اپنا مذاق بھی ایسے مناتے ہو کہ کبھی ٹولیوں کی صورت سیز فائیر لاین کی طرف چل پڑتے ہو۔پھر ایک سو یا دو سو میڑ سیز فائیر لاین سے پہلے ہی رک جاتے یا روک دیے جاتے ہو؟ یعنی شہادت سے ڈرتے ہو؟ اچھا تمہاری جو ٹولیاں مختلف اوقات میں کنٹرول لاین کی جانب پیش قدمی کرتی ہیں۔ پہلے پہل تو ہمیں خونی لکیر کے اس بار یہ سب جان کر ہمارا جذبہ خوب بیدار ہو جاتا تھا۔کہ خونی لکیر کے اس پار سے ہمارے لیے تڑپ شدت اختیار کر چکی ہے۔ لیکن جب نظر اس طرف کو جاتی ہے کہ تم میں موجودہر طبقہ اپنی اپنی مرضی سے خونی لکیر روند ڈال دینا چاہتا ہے۔ تم سب میں اتنا اتفاق بھی نہیں بن پایا کہ ایک ساتھ ایک ہی دن کسی فیصلہ کن سانحہ کو جنم دو جو خونی لکیر کو توڑ ڈالے۔ جو اقوام عالم کو یہ باور کروانے پر مجبور کرے کہ ہاں یہ منقسم قوم اور اس کی نسلوں کے درمیاں اک جبری تقسیم ہے جس کو ختم ہو جانا چاہیے۔

مگر افسوس اے اہل ہجوم ہم تم میں یہ اتحاد شاید کبھی نہ بن پاء ے۔آپ کو معلوم ہے ابھی تک جتنے بھی آزاد کشمیریوں نے کنٹرول لاین کی جانب پیش قدمی کر کے اپنا پیغام دنیا کو بتانے کی کوشش کی ہے۔ہر بار کرفیو میں موجود خونی لکیر کے اس پار ہمارے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ ہم نے ہر بار اس انتظار سے وقت کاٹا کہ اب کی بار شاید کوئی سانحہ جنم لے۔ جو اس جبری تقسیم کو پاٹنے کے لیے کافی ہو۔مگر نہیں اے اہل کوفہ تمہاری بکھری بکھری ٹولیاں جن میں اپنی اپنی سیاست اور اپنا ڈنڈا اپنا ایجنڈا کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے۔ جو خونی لکیر توڑ ڈالنے کو اپنی اپنی مرضیوں اور اپنے اپنے وقت کیساتھ آتی رہتی ہیں۔ تم کو معلوم ہے ہم اس سب سے اب شاید بیزار ہونے کو ہیں۔۔اچھا میں تو تمہیں ہی آڑے ہاتھوں لیتا رہا ابھی تلک اب تھوڑا یہاں کرفیو کے بارے بھی سنو۔یہاں زندگی منجمند ہے۔ خوف کے سائے ہیں فوجیوں کا گشت ہے جو راتوں کی نیندیں بھی حرام کیے دیتا ہے۔

یہاں ہر گزرتے لمحے کسی بستی سے دھویں کیساتھ چیخیں بھی آسماں کی جانب بلند ہوتی جاتی ہیں۔ان چیخوں کا مدوا کرنے کو کوئی نہیں آتا۔تمہیں معلوم ہے یہاں ٹارچر سیلیوں میں کچی عمر کے لڑکے اور بزرگی کو چھوتے باریش سفید بالو ں میں کھال چھپائے بزرگ اپنے جسموں میں اب درد کا خوف نہیں رکھتے۔ یہ لوگ کچھ وقت درد سہتے ہیں پھر بے درد ہو جاتے ہیں۔ اور پھر درد ان کے جسم سے آزاد ہو جاتا ہے۔یہاں یتیمیوں بیواوں اور اسیروں کی ٹولیاں ہیں۔ جو کسی مسیحا کے انتظار میں رات دن کاٹ رہے ہیں۔کرفیو کے ماحول میں دن رات ایک سماں ہے۔ ایک قید ہے جس نے ہیجانی کیفیت طاری کر رکھی ہے۔ اور تمہارے ہاں تو الفاظ کی جنگ نے لال قلعہ فتح کرلیا ہو گا۔

یہ جو خوں آلود رقعہ ہم نے تمہاری اوٹ روانہ کیا ہے۔ یہ خط نہیں ہے اسے استغاثہ سمجھنا کہ یہاں نو لاکھ سے زاید بندوق بردار ہیں۔ جن کی بندوقوں میں موجود لوہا صرف کشمیریوں کے سینوں میں اتار دینے کے لیے جمع کر دیا گیا ہے۔ اب تو پتھر باز بھی پتھر بازی سے اگلی حدوں کا سوچ رہے ہیں۔کہ غاصب کے ساتھ اب کی بار دو دو ہاتھ ہو ہی جایں۔اس لیے اگر یہ رقعہ پڑھ لینے کے بعد تمہیں کچھ ہمارے لیے درد محسوص ہو تو اسے اسلام آباد کے بڑے ایوانو ں تک بھی پہنچانے کا انتظام کرنا۔ خان صاحب کو بتانا کہ وہ جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں آپ نے ہم کشمیریوں کے لیے جو جنگ لڑنے کی بات کی تھی۔ اس پر عمل در آمد کب اور کیسے ہو گا۔ خان صاحب نے مملکت پاکستان کی بقا کے لیے کشمیر کی آزادی کو لازمی قرار دیا تھا نا۔ انہیں بتانا کہ کشمیر پر توخون کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ اور مملکت پاکستان کی بقا بھی تو سوالوں کی زد میں ہے تو اس سب پر کب اور کیسے قابو پایا جائے گا؟

وہاں موجود باقی سفارتکاروں صحافیوں اور وزیروں مشیریوں کو بتانا کہ کرفیو میں جینا خاصا مشکل ہوتا ہے۔ بلکہ یوں کہنا کہ کرفیو میں تو روز مرنا اور جینا جاری رہتا ہے۔ کسی طرح خان صاحب سے پوچھ بتانا کہ یہ تقریر ان کی سابقہ تقریروں کی طرح صرف تقریر تک ہی محدود تو نہیں رہے گی۔ کیا تبدیلی کا پرچار کرنے والے وزیر اعظم عمران خان کشمیر کے تبدیل ہوئے جغرافیے کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے کوئی پتھر پر لکیر فیصلہ کر یں گے؟ دیکھو اے اس خط کو پڑھنے والے ان سب سوالوں کا جواب واپس ضرور لکھ بھیجنا۔ میں نے تمہیں ہجوم کہا اس کے لیے معذرت۔ لیکن ہمارا جغرافیہ تبدیل ہونے کے بعد تم ہم سب کسی کشمیر نامی منقسم زمین کے مختلف ٹکڑوں پر اپنی بقا کی جنگ لڑتے کسی ہجوم سے زیادہ کوئی حثیت نہیں رکھتے۔
والسلام؛خونی لکیر کے اس پار سے اک لٹا ہوا کشمیری۔

اپنا تبصرہ بھیجیں