نجی یونیورسٹی کے طالبعلموں نے جھلس جانے والے افراد کے لیے اہم کارنامہ سر انجام دے دیا

لاہور(ویب ڈیسک ) ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی،بات صرف موقعہ دینے کی ہے وگرنہ ٹیلنٹ کی تو یہاں کمی نہیں ہے۔پاکستانی جوانوں اور ہنرمندوں نے ایسے ایسے کارنامے سرانجام دے رکھے ہیں کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔گھر میں کوئی شخص جہاز بنا لے تو اسے گرفتار کر لیاجاتا ہے،پانی کی مدد سے کوئی کار چلا لے تو اس کی بھی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور اگر کوئی اورچیلنج لے کر کوئی کمر کس لے تو اسے بھی داد و ہمت سے کبھی نوازا نہیں گیا۔

حکومتی سطح پر بھی ایسا کوئی پلان موجود نہیں کہ جہاں کسی محنتی شخص کی دلجوئی کے لیے کوئی پلیٹ فارم موجود ہو اس لیے طلبہ اپنی مدد آپ کے تحت لگے رہتے اورنت نئے تجربے کرتے نظر آتے ہیں۔حال ہی میں ایک نجی یونیورسٹی کے طالبعلموں نے کارنامہ کیا ہے کہ مصنوعی جلد تیار کی ہے۔یہ جلد جھلس جانے والے افراد کے لیے کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ہے۔پاکستانی طالبعلموں نے مصنوعی جلد تیار کرنے کا کامیاب تجربہ کر لیا۔نجی یونیورسٹی کے ریکٹرنے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ان کے طالبعلموں نے مصنوعی جلد بنانے کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔

مصنوعی جلد جھلس کر متاثر ہونے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔یونیورسٹیحکام نے بتایا کہ مصنوعی جلد 22 ڈالر فی اسکوائر انچ کے حساب سے امریکا سے منگوائی جاتی ہے جبکہ مصنوعی جلد کی تیاری پر 22 سینٹ فی اسکوائر انچ لاگت آئی ہے۔انتظامیہنے بتایا کہ ہمارے ایک طالبعلم نے ایک پٹی بنائی جس سے ذیابیطس کا علاج ہوتا ہے۔وہ طالبعلم اس پٹی کو ہاتھوں میں لے کر جگہ جگہ پھرا مگر کسی نے بھی اسکی طرف توجہ نہیں دی۔ان کا کہنا تھا اس سے ہمیں ایک ارب روپے کے عوض کھربوں روپے کا ریونیو ملتا، میں اس فارمولے کو آسٹریلیا لے کر گیا تو اسے ہاتھوں ہاتھ لے لیا گیا۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے بتایا کہ ایشیائی خطے میں ہماری جامعہ 131ویں نمبر پر ہے، ہمارے پاس 400 غیر ملکی طلباء ہیں مگر غیر ملکی فیکلٹی نہیں ہے۔تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ ان طالبعلموں کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں کسی پلیٹ فارم پر لا کر مزید محنت کرنے کے لیے اکسایا جاتا ہے یا پھر یہ کہانی یہیں رک جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں