پنجاب حکومت نے بے روز نوجوانوں‌کو خوشخبری سنا دی

لاہور(ویب ڈیسک) پنجاب کابینہ نے صوبے میں فنانس کمیشن کے قیام کی منظوری دے دی، سستی روٹی اتھارٹی بھی ختم کرنے کی کابینہ نے اجازت دیتے ہوئے گریڈ ایک سے چار تک سرکاری ملازمتوں سے پابندی ہٹا لی۔تفصیلات کے مطابق پنجاب کابینہ کا اجلاس ایوان وزیراعلی ٰمیں سردار عثمان بزدار کے زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں چوبیس نکاتی ایجنڈے کاجائزہ لے کر کابینہ نے منظوری دی۔پنجاب کابینہ نے صوبے میں فنانس کمیشن کی تشکیل کی اجازت دیدی جبکہ سستی روٹی اتھارٹی ختم کرنے کی منظوری دی۔ پنجاب میں بارڈر ملٹری رولز میں بھی ترامیم کا فیصلہ کیا گیا جبکہ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی راولپنڈی کے قیام کی بھی اجازت دی گئی۔نان اے سی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں نظر ثانی کابینہ نے مسترد کردی۔

اجلاس میں پنجاب ویلیج اینڈ نیبرہڈ کونسل کی حد بندیوں کی منظوری دی گئی۔ گریڈ ایک سے چار تک سرکاری ملازمتوں سے پابندی ہٹا لی گئی اور اس کے علاوہ سپیڈو بس سروس لودھراں کے لیے اکسٹھ ملین کی منظوری دیدی گئی۔دوسری جانب صدر مملکت عارف علوی نے سی پیک اتھارٹی آرڈیننس پر دستخط کردیئے ، سی پیک اتھارٹی آرڈیننس کا اطلاق پورے پاکستان میں ہوگا اور وزیراعظم عمران خان اتھارٹی کے سربراہ ہوں گے۔تفصیلات کے مطابق صدر مملکت عارف علوی نے سی پیک اتھارٹی آرڈیننس پر دستخط کردیئے ، جس کے تحت وزیراعظم عمران خان سی پیک اتھارٹی کے سربراہ ہوں گے اور سی پیک اتھارٹی آرڈیننس کا اطلاق پورے پاکستان میں ہوگا۔

گذشتہ روز حکومت نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے سی پیک اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سی پیک اتھارٹی کا مسودہ منظوری کیلئے صدر پاکستان کو بھجوا دیا تھا۔مسودے میں کہا گیا کہ قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس نہ ہونے پرآرڈیننس لانیکافیصلہ کیا گیا، سی پیک اتھارٹی کیلئے آرڈیننس کا اطلاق پورے پاکستان میں ہو گا، سی پیک اتھارٹی 10 ارکان پر مشتمل ہوگی۔مسودے کے مطابق وزیراعظم اتھارٹی چیئرپرسن،ایگزیکٹوڈائریکٹرز،ارکان کی تعیناتی کریں گے ، چیئر پرسن، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز اور ارکان کی تعیناتی چار سال کیلئے ہوگی، اتھارٹی کا چیف ایگزیکٹو 20 گریڈ کا سرکاری آفسر ہو گا۔

مسودہ میں کہا گیا کہ سی پیک اتھارٹی کا دفتروفاقی دارالحکومت میں بنایا جائے گا اور اتھارٹی پاکستان، چین میں مختلف شعبوں میں مزید تعاون کا تعین کریگی اور جوائنٹ کوآپریشن، جوائنٹ ورکنگ گروپ میں رابطے کا کردار ادا کرے گا۔مسودے کے مطابق اتھارٹی سی پیک منصوبوں سے صوبوں اور وزارتوں میں رابطے رکھے گا، سی پیک کوئی بھی فیصلہ اتھارٹی کے اکثریتی ارکان کی منظوری سے ہوگا اور سی پیک منصوبوں سے مستفید ہونیوالا کوئی بھی اتھارٹی کاحصہ نہیں ہوگا۔مسودے میں کہا تھا –

سی پیک اتھارٹی پاکستان، چین میں مفاہمتی یادداشتوں کے مطابق کام کرے گی اور ہر سال اپنی فنانشل رپورٹ وزیراعظم کو جمع کرائے گی جبکہ اتھارٹی سی پیک سے متعلق کوئی بھی تفصیلات طلب کرنے کی مجاز ہوگی۔مسودہ کے مطابق سی پیک اتھارٹی کے لیے بجٹ مختص ہو گا، اتھارٹی کو اپنے ماتحت ملازمین کی تقرری کا بھی اختیار حاصل ہو گا، اتھارٹی رولز کے مطابق سی پیک بزنس کونسل قائم کرے گی۔مسودے میں کہا کہ سی پیک بزنس کونسل اتھارٹی کو مقاصد میں رہنمائی فراہم کرے گی، اتھارٹی وزیراعظم کی منظوری سے مزید قوانین بنانے کی مجاز ہوگی اور سی پیک اتھارٹی وزارت منصوبہ بندی کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں