نقطہ نظر/ذیشان گردیزی

کچھ پتہ ہے ہمار ا کیا ہو گا؟؟؟

پانچ اگست کو فاشسٹ مودی نے کشمیری عوام کو ان کی ترقی اور خوشخالی کا چکما دے کر ان کے مستقبل سے جو کھلواڑ کیا اس کی مثال شائد ہی دنیا میں کہیں ملتی ہو،بھارت کو بخوبی اندازہ تھا کہ کشمیریوں نے کسی صورت بھارتی اس اقدام کو تسلیم نہیں کرنا،اس لئے بھارتی حکومت نے آرٹیکل 370اور 35Aختم کرنے کے بعد کشمیریوں کی تحریک مکمل طور پر کچلنے کا منصوبہ بھی بنا رکھا ہے ،آرٹیکل ختم کرنے بعد بھارتی حکومت نے کشمیر میں کرفیو لگانے کے ساتھ جنت نظیر وادی سے ذرائع ابلاغ کے وہ تمام ذریعے ختم کر دیے تھے جس سے بھارتی ظلم و ستم کا پردہ چاک ہونا تھا،مقبوضہ کشمیر میٰں پانچ اگست کے بعد میں مسلسل کشمیر میں موجود دوستوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا ،لیکن انٹرنیٹ کی بندش اور تمام تر ذرائع جن سے کشمیریوں سے رابطہ کیا جا سکتا تھا –

بھارتی حکومت نے پانچ اگست کے اقدام کے بعد بند کر رکھیں تھے،اور اور وادی کو جیل میں بدل رکھا ہے،کشمیر میں کرفیو کو دو مہینے سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد آج پہلی دفعہ ایک کشمیری دوست سے رابطہ ہوا ،جو 65دن کرفیو میں گزارنے کے بعد بھارتی پنجاب پہنچا ، گھر والوں کی خیر خیریت دریافت کرنے کے بعدمیں نے کشمیر کے موجودہ حالات کے بارے میں جاننے کوشش کی تو اس نے میرے سوال کا جواب دینے کے بجائے مجھ سے ہی سوال کر دیا کچھ پتہ ہے ہمارا کیا ہو گا؟؟کیونکہ میرے پاس بھی اس سوال جواب نہیں تھا اس لیے میں نے بات کو ٹالتے ہوئے پھر اس سے سوال کیا کہ پچھلے دو مہینے نے آپ نے اور کشمیریوں نے کیسے گزارے؟اس نے پچھلے دو مہینے کے حالات بتاتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کو بھی صرف وہاں تک کے حالات معلوم ہیں ِجہاں تک وہ پیدل جا سکتے ہیں اس نے اپنے علاقے بارہ ہمولا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج نے کرفیو کے تیسرے دن کشمیریوں کے گھروں پر چھاپے مارکر کشمیری نوجوانوں کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا-

اس کے بعد بھارتی فوج نے علاقے میں خوف حراس پھیلانے کے لیے رات کو بارہ بجے کشمیری نوجوانوں کو جیپ کے ساتھ باندھ کر لاؤڈ سپیکر نوجوانوں کے سامنے رکھ کرتشدد کرنا شروع کیا اور علاقے میں موجود تمام لوگوں کو گھر وں میں خوفزدہ کیا جاتا اورانہیں نفسیاتی ٹارچر کیا جانے لگا -میں نے پھر سوال کیا کہ ان دو مہینوں میں بھارتی فوجی اہلکار کتنی دفعہ آپکے گھر داخل ہوئے ؟؟؟اس نے جواب دیا کہ آٹھ اگست کو میں پنجاب سے کشمیر پہنچا تھا ان دو مہنیوں میں بھارتی فورسز کے اہلکار رات کو مختلف اوقات میں دس دفعہ ہمارے گھر میں داخل ہوئے ،اور ان دس دفعہ میں گھر میں داخل ہونے کی ٹائمنگرات بارہ بجے سے دوبجے کے درمیان تھی،جب بھی بھارتی فوج کے سپاہی گھر میں داخل ہوتے میرے بارہ سال کے بھائی کو ایک ٹانگ پر کھڑا ہونے کا کہتے ،شائد کہ وہ کشمیر میں نوجوانوں اور بچوں میں اس قدر خوف پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ آزادی کی تحریک پھر کبھی نہ اٹھ سکیں-

میرے ایک اور سوال کے جواب میں اسکا کہنا تھا کہ بھارتی فوج نے ظلم وستم کے باوجود یہاں احتجاج ہوتے ہیں،بھارتی فورسز نے مظاہرین پر پیلٹ بھی برسائے لیکن اب تک نہ تو زخمیوں کی تعداد کا علم ہے اور نہ ہی کتنے لوگوں کو شہید کیا جاچکا ہے انکی تعداد کا علم ہے، تمام ریکارڈ بھارتی فورسز کی جانب سے غائب کر دیا جاتا ہے ،احتجاجی مظاہروں کے دوران بھارتی فورسز کشمیریوں پر جب پیلٹ برساتی ہے تو کشمیری نوجوان گرفتاری کے ڈر سے ہسپتال کا رخ نہیں کرتے ، مظاہرہ ختم ہونے کے بعد بھارتی فورسز رات کو جب گھروں میں داخل ہوتی ہے،تو کشمیری نوجوانوں کے جسم سے کپڑے اتار کر پیلٹ گن کے نشانات چیک کرتی ہے،ایک چھرے کا نشان بھی اگر کسی جسم پر موجود ہوتا ہے تو انہیں نامعلوم مقام پر اٹھا کر لے جاتی ہے،اسکا کہنا تھا کشمیر میں کاروبار مکمل طور پر بند ہے ،ٹرانسپورٹ کا نظام مکمل طور پر بند ہے انڈین آرمی اپنی بسیں چلا رہی ہے-

جن پر لوگ سفر کرتے ہیں،سفر کے دوران انڈین فورسز کے جوان بسوں میں تعینات ہوتے ہیں،جیسے ہی بس فل ہوتی ہے تو کشمیریوں کو کہا جاتا ہے اب گاڑی سے اتر جاؤ اور سو کلو میٹر تک پیدل چلو ،ہمارے پیدل چلنے کی ویڈیوں بنائی جاتی اور انڈین میڈیا کو بیجھی جاتی ہے،اور انڈین میڈیا کشمیر میں معمولات زندگی بحال ہونے کا پروپیگنڈہ کرتا ہے،وزیراعظمپاکستان کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے اس کا کہنا تھا وزیراعظم عمران خان سے کشمیریوں نے بہت سی امیدیں باندھ رکھی ہیں ،جس دن عمران خان نے اقوام متحدہ میں تقریر کی اس دن کشمیر میں جشن بنایا گیااور لوگ اس قدر خوش تھے جیسے کشمیر آزاد ہونے کو ہے،ہر روز رات کو جب کشمیری سوتے ہیں تو رات کو یہی سوچ کر سوتے ہیں کہ صبح شائد کچھ ایسا ہو جائے کہ کشمیر آزاد ہو جائے-

سب حالات بتانے کے بعد اس نے پھر مجھ سے وہی سوال کیا تم اسلام آباد میں بیٹھ کر سب حالات دیکھ رہے ہو ،مجھے بتاو کچھ پتہ ہمارا کیا ہو گا؟؟؟میں نے اسے تسلی اور حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہیں معلوم کب ہو گا،لیکن اتنا یقین ضرور ہے کہ جو ہو گا کشمیریوں کے حق میں ہو گا،اس کا یہ سوال بار بار میرے ذہن میں گردش کر رہا تھا لیکن اسے یہ معلوم نہیں تھا شائد کہ اس سوال کا جواب مجھ سمیت ہر کشمیری تلاش کر رہا ہے کہ ہمارا کیا ہو گا؟؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں