خواتین کو اب جنسی طور پر ہراساں‌کرنا مشکل ہو گیا

لاہور(ویب ڈیسک) دنیا بھر میں خواتین کے ساتھ جس قسم کا استحصالی رویہ اپنایا جاتا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔کبھی جائیداد ہتھیانے کے لیے سگے رشتہ دار اور بہن بھائی ظلم کرتے ہیں تو کبھی جنسی لذت کے لیے راہ چلتی لڑکی کو اٹھا لیا جاتا ہے اور کبھی گھر میں گھس کر قتل کر دیا جاتا ہے۔اس حوالے سے انڈیا پہلے نمبر پر آتا ہے کہ وہاں خواتین کے ساتھ ریپ سب سے زیادہ کیے جاتے ہیں۔تاہم دیگر ممالک میں بھی یہ تناسب کچھ کم نہیں ہے۔اس وقت دنیا بھر میں عورتوں کے لیے خوفناک ترین ملک لاطینی امریکہ اور اس کے ساتھ والی ریاستوں کو کہا جاتا ہے۔

اس لیے اب ان ممالک میں بچاؤ مہم شروع کر دی گئی ہے جس کے لیے ایپس متعارف کرائی جا رہی ہیں۔لاطینی امریکی خطے میں ایپس خوف و ہراس کی صورت میں جیو ڈیٹا یعنی موجودگی کے مقام کے بارے میں متعلقہ افراد یا پولیس کو اطلاع دیتی ہیں تاکہ جلد از جلد آسانی سے پہنچ کر مشکلات کا شکار خواتین کی مدد کر سکیں۔نو مور، وی ہیلپ، نی اونامینوس اور انتونیانامی ایپس خواتین کو مشکل کے وقت مدد فراہم کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ نو استوئے سولا نامی ایک اور ایپ بھی ہے جو میکسیکو کے شہر خواریز میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سرکاری محکمے کی جانب سے تیار کی گئی ہے ایپ پورے میکسیکو میں بہت ہی معروف ہے۔میکسیکو میں موخیر سیگورا آلیرتا روزا نامی بھی ایپ ہے۔

ایپ کو استعمال کرنے والی خواتین ہاتھوں میں کڑے کی طرح پہنتی ہیں اور اس میں بٹن نصب ہے جسے دباتے ہی پولیس کو اطلاع پہنچ جاتی ہے۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ وہاں کی خواتین کو پولیس آفیسرز پر بھی اعتبار نہیں ہوتا۔ابھی حال ہی میں میکسیکو میں جنسی زیادتی کے ایسے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں جن میں پولیس افسران ملوث تھے۔اقوام متحدہ کے لاطینی امریکی کمیشن برائے اقتصادی امور کے مطابق 2018ء میں خطے میں 2003ء سے زائد خواتین کو قتل کیا گیا۔خواتین کے قتل کی تعداد کے حوالے سے دنیا کے 25 خطرناک ترین ممالک میں سے چودہ کا تعلق لاطینی امریکی خطے سے ہے۔

اس صورتحال کی وجہ سے یہاں کی خواتین خود کو تحفظ فراہم کرنے کے طریقہ کار اور حکمت عملی کی تلاش میں رہتی ہیں۔کئی لاطینی امریکی ممالک نے گزشتہ برسوں کے دوران ایسے کئی قوانین لاگو کیے ہیں، جن کے ذریعے سرعام، گھروں میں یا ملازمت کی جگہ پر صنفی استحصال کو جرم قرار دیا گیا ہے۔ تاہم اس کے باوجود اقوام متحدہ اس خطے کو خواتین کے لیے خطرناک ترین قرار دیتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں