پوائنٹ آف آرڈر /ارشد وحید چوہدری

وقت وقت کی بات

نومبر 2017سے نومبر 2018- وقت کا پہیہ دو سال گھومنے کو ہے، تب برسراقتدار پاکستان مسلم لیگ ن تھی اور اب پاکستان تحریک انصاف ہےتب ناموس رسالت کے نام پہ تحریک لبیک پاکستان نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پہ فیض آباد کے مقام پہ دھرنا دیا اور آج جمعیت علمائے اسلام ف کے اسلام آباد کی طرف 27اکتوبر کو اعلان کردہ آزادی مارچ پہ اسے مذہب کارڈ استعمال کرنے کا طعنہ دیا جا رہا ہے۔ جے یو آئی ف کے قائد مولانا فضل الرحمٰن کا استدلال کہ وہ 25جولائی 2018کو منعقدہ عام انتخابات کو غیر جانبدار اور شفاف تسلیم نہیں کرتے اس لئے تحریک انصاف کی حکومت کے وجود کو بھی جمہوری اور آئینی نہیں مانتے۔

اپنے اسی موقف کا اظہار انہوں نے عام انتخابات کے فوری بعد اسلام آباد میں متاثرہ جماعتوں کی منعقدہ کانفرنس میں کرتے ہوئے اسمبلیوں میں نہ جانے کا مشورہ دیا تھا تاہم پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے ان کی تجویز سے اتفاق نہ کرتے ہوئے بطور احتجاج ارکان کے حلف لینے کا فیصلہ کیا تھا اور چار و ناچار مولانا صاحب کو بھی ان کے پیچھے چلنا پڑا۔ اب حکومت کے صرف ایک سال اور دو ماہ گزرنے کے بعد فضل الرحمٰن امام اور پیپلز پارٹی اور ن لیگ ہاتھ باندھے مقتدی بنے کھڑے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری تو واضح اعلان کر چکے ہیں کہ وہ حکومت کے خلاف مولانا کے آزادی مارچ یا جلسے جلوس کا تو حصہ بنیں گے لیکن وہ دھرنا نہیں دیں گے۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات میں انہوں نے اپنے فیصلے کی وکالت کرتے ہوئے ان سے استفسار کیا کہ کیا آج تک کسی دھرنے کے نتیجے میں حکومت کو اقتدار سے الگ کیا جا سکا ہے تو موجودہ حکومت کی بھی دھرنے کے نتیجے میں رخصتی کے امکانات معدوم ہیں چنانچہ دھرنے کی ناکامی کی صورت میں بطور وزیراعظم عمران خان ہیرو بن جائیں گے، شہباز شریف تو پہلے دن سے حکومت مخالف احتجاج کے نقاد ہیں اس لئے انہیں تو بلاول بھٹو کی باتیں دل کو چھوتی محسوس ہوئیں لیکن چونکہ پارٹی کے قائد آج بھی نواز شریف ہی ہیں جو پہلے ہی ہدایات دے چکے ہیں کہ مسلم لیگ ن کو مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ کھڑا ہونا ہے، چاہے یہ احتجاج کسی بھی نوعیت کا ہو۔

یوں شہباز شریف اور ان کے حامی گروپ کو بالآخر پارٹی قائد سے ہفتہ وار ملاقات کے بعد ان کے فیصلے پہ لبیک کہتے ہوئے مارچ میں پوری طرح شرکت کا باضابطہ اعلان کرنا ہی پڑے گا۔ ادھر مولانا کی طرف سے اسلام آباد کا رخ کرنے کے اعلان کے بعد وزیراعظم سے لے کر وفاقی وزرا تک کی بے چینی دیدنی ہے۔ وزیراعظم صاحب کا فرمانا ہے کہ مولانا مدارس اصلاحات پہ پریشان ہیں اور مدارس کے بچوں کو استعمال کر کے اپنی ڈوبتی سیاست بچانا چاہتے ہیں-

شیخ رشید کہتے ہیں کہ مولانا مدارس کو استعمال نہ کریں ان کے آگے کھائی پیچھے کنواں ہے، آزادی مارچ سے بھارت فائدہ نہ اٹھالے، فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ مولانا کو ایسا بٹھائیں گے کہ دوبارہ کبھی کھڑا نہیں ہو سکیں گے۔ جس وقت کے پہیے کا ابتدا میں ذکر کیا اگر اسے صرف دو سال پیچھے گھما دیا جائے تو آج وہی لوگ مولانا کو مذہب کارڈ اور بچوں کے استعمال کے طعنے دے رہے ہیں جو اس وقت خود فیض آباد دھرنے کی حمایت کرتے ہوئے چیخ چیخ کے کاروبار زندگی اور نظام حکومت بند کرنے کی دھمکیاں دے رہے تھے، ملک کے عدم استحکام کا خوف دلانے والے یہ وہی پیشگو ہیں جو کھلے گریبان کے ساتھ عوام کو جلا دو گرا دو ماردو پہ اکساتے تھے۔

یہ صرف فیض آباد دھرنے کیس میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ کا فروری 2019میں جاری کیا جانے والا تفصیلی فیصلہ پڑھ لیں، یہ فیصلہ اسی بنچ میں شامل معزز جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے تحریر کیا تھا، تینتالیس صفحات پہ مبنی اس تفصیلی فیصلے میں فیض آباد دھرنے کی حمایت کرنے والوں میں موجودہ وفاقی وزیر شیخ رشید احمد اور پاکستان تحریک انصاف کا ذکر شامل ہے، یہ بھی یاد رہے کہ ناموس رسالتؐ کے تحفظ کے نام پہ چند ہزار کارکنوں کے ساتھ وفاقی دارالحکومت کو یرغمال بنانے اور عوام کے جان ومال کو نقصان پہنچانے کی حمایت کرنے پہ ان کا نام ملکی سلامتی کی ایجنسی نے سپریم کورٹ کو جمع کرائی گئی اپنی رپورٹ میں تحریر کیا تھا۔

شیخ رشید اور تحریک انصاف کے وزرا کو مولانا فضل الرحمٰن کو اسلام اور مدارس کے بچوں کا نام استعمال کرنے پہ تنقید کا نشان بنانے سے پہلے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو بار بار پڑھنا چاہئے۔ یہ فیصلہ مولانا فضل الرحمٰن کے لیے بھی مشعل راہ ہے کیونکہ اسی فیصلے میں سپریم کورٹ نے کسی بھی عوامی احتجاج کے دائرہ کار اور اس کی نوعیت کا بھی تعین کر دیا ہے اور اس میں واضح طور پہ احتجاج کی حدود و قیود کو واضح کرتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ احتجاج کرنا بلاشبہ کسی بھی سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے لیکن اس سے عوام کی روز مرہ زندگی اور کاروبارحکومت متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔ یہ بھی وضاحت کر دی گئی ہے کہ اگر کسی احتجاج کی صورت میں عوام کے حقوق متاثر ہوئے حتی کہ ان کا کسی شاہراہ پہ سفر کرنے کا حق بھی سلب ہوا تو وفاقی و صوبائی حکومت احتجاج کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا استحقاق رکھتی ہے۔

وقت کا یہ بھی کمال ہے کہ ماضی میں جو مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی تحریک انصاف کو صرف ایک سال بعد حکومت کے خلاف سڑکوں پہ احتجاج شروع کرنے کا طعنہ دیتی تھیں آج وہ دونوں جماعتیں بھی مولانا کے آزادی مارچ میں ہمرکاب ہوکر اسی کے برابر جا کھڑی ہوئی ہیں۔ آخر میں یہ یاد دہانی بھی کہ مذہب کارڈ کے ساتھ مولانا کے دھرنے پہ چیں بہ چیں ہونے والے اپنے 126دن کے پڑائو کو کیسے بھول سکتے ہیں اس لئے تمام فریقین کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اس آئینے میں اپنی شبیہ ضرور دیکھ لیں جو وقت انہیں دکھا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں