پاکستان کی قید میں رہ کر رہائی پانے والا بھارتی فوجی اہلکار نے استعفیٰ دیے دیا

نئی دہلی (ویب ڈیسک ) پاکستان کی قید میں رہ کر رہائی پانے والا صرف بھارتی فضائیہ کا ونگ کمانڈر ابھی نندن ہی نہیں ہے، 2016ء میں بھی پاکستان نے ایک بھارتی فوجی کو رہا کیا تھا۔ لیکن افسوس کہ اس بھارتی فوجی کو ابھی نندن جیسا مرتبہ حاصل نہیں ہو سکا اور فوجی کے اپنے ہی ساتھی اہلکاروں نے اسے ہراساں کرنا شروع کر دیا۔بھارتی فوجی اہلکار چون کو پاکستان نے 2016ء میں حراست میں لیا تھا جس کے بعد اسے رہا کر دیا گیا تھا۔

چون نے لائن آف کنٹرول پار کر لی تھی جس پر اسے پاک فوج نے حراست میں لیا لیکن بعد ازاں چار ماہ کے بعد اسے بھارتی فوج کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ پاک فوج سے رہائی پانے اور بھارتی فوج کے حوالے ہونے کے بعد سے ہی چون کو اپنی ہی فوج کے ہاتھوں ہراسگی کا سامنا تھا۔بھارتی فوجی نے بتایا کہ جب سے میں پاکستان سے رہا ہو کر آیا ہوں سب لوگ مجھے شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ جس کے بعد چون نے اپنا استعفیٰ بھارتی رہاست مہاراشٹرا کے علاقہ احمد نگر میں اپنے یونٹ کمانڈر کو پیش کر دیا۔

بھارتی فوجی چون نے کہا کہ میں اپنے ساتھ ہونے والے اس سلوک سے تنگ آ چکا ہوں اور اسی لیے اپنا استعفیٰ پیش کر رہا ہوں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ فوجی افسران کی جانب سے اہلکاروں کو ہراساں کیا جانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے ، اس سے قبل بھی ایسے کئی واقعات اور استعفے سامنے آ چکے ہیں ۔خیال رہے کہ اس سے قبل 27 فروری کو ڈاگ فائٹ کے نتیجے میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے بھارتی فضائیہ کے دو طیارے مار گرائے تھے-

جبکہ ایک ونگ کمانڈر ابھی نندن کو حراست میں بھی لے لیا تھا لیکن ایک روز بعد ہی ابھی نندن کو واہگہ بارڈر کے راستے بھارتی حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا جس کے بعد بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو ویرچاکرا ایوارڈ سے بھی نوازا گیا اور بھارتی میڈیا نے بھی ابھی نندن کو ہیرو بنا کر پیش کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں